مولانا سجاد نعمانی اور مولانا سلمان حسینی مد ظلھما کی ملاقات کے تناظر میں*

از: *سید أحمد اُنیس ندوی*

آج صبح برادرم مولوی حفاظت یار خاں ندوی صاحب کی فیسبوک وال سے یہ خبر فرحت بخش موصول ہوئ کہ گزشتہ کل خطیب العصر حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب دامت برکاتہم اپنے دیرینہ رفیق، بچپن کے دوست حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب دامت برکاتہم کی عیادت کے لئے اُن کے گھر تشریف لے گئے تھے … اور بعض معتبر حضرات کے مطابق یہ ملاقات عصر بعد سے لے کر عشاء تک جاری رہی …
*اس خبر کو سن کر مجھ جیسے ہزاروں افراد اور بالخصوص طلباء مدارس کو جو خوشی اور فرحت ہوئ وہ ناقابل بیان ہے* …

چند ماہ قبل پرسنل لاء بورڈ کےتعلق سے جو اختلافات سامنے آئے تھے اور میڈیا بالخصوص بعض “نام نہاد صحافیوں” نے معاملے کو جس رُخ پر دکھانے کی کوشش کی تھی اُس سے ملت کے سنجیدہ طبقے میں بہت بے چینی تھی … گرچہ ان دونوں حضرات کی طرف سے بار بار یہ وضاحت سامنے آئ تھی کہ اس اختلاف کا تعلق محض آراء سے ہے، نظریے سے ہے، ذاتی زندگی میں وہ ایک دوسرے کے بہت قدردان اور ایک دوسرے سے للہی محبت اور تعلق رکھنے والے حضرات ہیں، مگر بہت سے صحافی اس بات پر تلے بیٹھے تھے کہ ان دونوں حضرات کے درمیان دوریاں اور بڑھا دی جائیں جس سے ملک کے ہزاروں نوجوان علماء ایک دوسرے سے دست بگریباں ہو جائیں اور تحریروں اور تقریروں میں لعن طعن کا دور شروع ہو جائے .. اس لئے کہ یہ دونوں ہی حضرات ملت کے تمام طبقوں میں اور بالخصوص طلباء میں بے انتہاء مقبول ہیں،

مگر بظاہر ان کی یہ فتنہ پروری ان دونوں حضرات کے تعلق سے اُس وقت بھی زیادہ چل نہیں پائ … اور اکثر نوجوان علماء اور سنجیدہ طبقے نے ان دونوں حضرات کی بڑائ کو تسلیم کیا اور اس کو بڑوں کا اختلاف قرار دے کر دونوں کی خدمت میں عزت و محبت کے نذرانے پیش کئے …. لیکن فتنہ پرور تب سے لے کر آج تک کسی نہ کسی بہانے سے ان لوگوں کو نشانے پر لیتے ہی رہے … وسیم رضوی نے جب مولانا سجاد صاحب پر مقدمہ کیا تو اُس وقت بھی یہ طبقہ اپنے پورے جراثیم و زہر کے ساتھ میدان میں اُتر آیا اور مولانا سلمان صاحب کو نشانہ بنایا… لیکن اس وقت بھی انکی فتنہ پروری پوری طرح ناکام رہی …

*میرے جیسے نہ جانے کتنے ہزار لوگوں کو صرف اس ایک لمحے کا انتظار تھا جب ان حضرات کی آپس میں ملاقات ہو … اس لئے کہ جو بھی ان دونوں حضرات کے پاس بیٹھا ہے وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے بہت بے تکلف دوست ہی نہیں بلکہ دیرینہ رفیق و صدیق ہیں .. اور دونوں کا بچپن بالکل ساتھ میں کھیلتے ہوئے گزرا ہے، سینکڑوں معاملات میں دونوں کی آراء ایک ہے، مزاج و منہج میں دونوں امام ولی الله الدہلوی کے گرویدہ اور شیدائ ہیں … اور اسی لئے ایک دوسرے سے للہی محبت و قدردانی کا تعلق رکھتے ہیں … اس لئے ہم کو یقین تھا کہ یہ حضرات جب بھی ملیں گے وہی پرانا انداز ہوگا … وہی بے تکلفی ہوگی، وہی سنجیدہ گفتگو اور وہی مذاق ہوگا جو ہمیشہ سے ایک دوسرے کے لئے رہا ہے … ہم کو پہلے بھی یقین تھا کہ ان حضرات کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے نہ کوئ برا جذبہ ہے نہ کوئ منفی بات … لیکن فتنہ پروروں کے علاج کے لئے یہ ایک ملاقات بہت ضروری تھی … جو اپنی روٹیاں اس “اختلاف رائے” کی آڑ میں سینک رہے تھے …جو یہ دکھانا چاہتے تھے کہ یہ دونوں الگ ہیں،*

*آج الحمد لله فتنہ پروروں کی زبانیں بند ہو گئیں … میری معلومات کے مطابق یہ ملاقات محض رسمی نہیں رہی بلکہ نہایت خوشگوار ماحول میں بہت دیر تک چلی … بلا تکلف گفتگو ہوئ … مہمان نوازی ہوئ اور اکرام و قدردانی کی مثال قائم ہوئ* …

ان بڑوں نے ہم جیسوں کے لئے نمونہ قائم کر دیا … مولانا سجاد صاحب سے “اختلاف رائے” کرتے ہوئے اپنے معروف انداز میں اپنی بات رکھنے والے حضرت مولانا سلمان صاحب جب اُن کی بیماری کی اطلاع سنتے ہیں تو فورا گھر پہنچ جاتے ہیں، اور متواضعانہ اور کریمانہ اخلاق کا نمونہ پیش کرتے ہیں، اور ماضی کی کسی بھی بات سے قطع نظر مولانا سجاد صاحب اپنے رفیق کا کھڑے ہو کر والہانہ انداز سے استقبال کرتے ہیں …. اور درس دیتے ہیں کہ ہمارا آپس میں تعلقات اور محبت و قدر کا مزاج کس طرح بننا چاہئے …

*خلاصہ کلام یہ ہے ملت اسلامیہ ہندیہ کے سنجیدہ افراد بالخصوص طلباء اب اپنی تمام بے چینیاں دور کر لیں، اور جس طرح پہلے ان دونوں حضرات کے ساتھ محبت و استفادہ کے تعلق تھا اسی طرح برقرار رکھیں بلکہ اس تعلق کو مزید بڑھائیں … یہ عجیب بات ہے کہ ملک میں ہزاروں علماء کرام اور بڑی شخصیات موجود ہیں لیکن اگر آپ نوجوان طلباء سے یہ پوچھیں کہ ملک کے اپنے دو محبوب علماء کے نام بتاؤ تو اکثر ایک ساتھ لئے جانے والے دو نام مولانا سجاد صاحب اور مولانا سلمان صاحب ہوتے ہیں .. یہ دونوں ملت کے ہر طبقے میں مقبول و محبوب ہیں، ان دونوں کی قابل رشک اور خداداد صلاحیتوں پر ان کے بڑوں نے بھی ناز کیا ہے اور دعائیں دی ہیں … یہ دونوں ملت اسلامیہ ہندیہ کی دھڑکن ہیں … اللہ ان دونوں کی اور تمام علماء و مشائخ کی مکمل حفاظت فرمائے* … آمین

نوٹ: منفی موضوعات پر تمام تحریریں نظر سے گزرتی ہیں.. اس طرح کے خوبصورت موضوع پر بھی قلم اٹھنے چاہئے ..

از: *سید أحمد اُنیس ندوی*

*اسلامک سینٹر، مدینہ کالونی، فیروزآباد*