مسلم اراکین اسمبلی کالجوں میں بھگوت گیتا کی تقسیم کے سرکیولر کی مخالفت کے بجائے وزیر تعلیم ونود تاؤڑے کے بیان پر غور کریں “

محمد خالد داروگر، دولت نگر، سانتاکروز، ممبئی

تھانہ ضلع کے بھیونڈی شہر کی ایک ہندو سنستھا” بھکتی ویدنت ” کے ذمہ داران نے ریاستی وزیر تعلیم ونود تاؤڑے سے ملاقات کرکے ایک درخواست دی تھی کہ وہ ممبئی شہر و مضافات کے 100/ نان ایڈیڈ کالجوں میں بھگوت گیتا تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ لہٰذا متعلقہ محکمہ اس کے لیے ایک سرکیولر جاری کرے۔ ونود تاؤڑے نے فوری طور سے ممبئی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلے میں سرکیولر جاری کرکے اس سنستھا کو قانونی طور سے بھگوت گیتا تقسیم کرنے کی اجازت دے۔ 11/ جولائی بروز بدھ 2018 کو مہاراشٹر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اس کے تعلق سے سرکیولر جاری کردیا۔ مہاراشٹر سرکار کے اس فرمان کے خلاف ناگپور اسمبلی میں اپوزیشن پارٹیوں نے ممبئی کے کالجوں کی اس طرح بھگوا کرن کرنے کی شدید مخالفت کی، مسلم اراکین اسمبلی پارٹی کی سطح سے اوپر اٹھ کر اس کی مخالفت میں پیش پیش رہے۔ اس درمیان وزیر تعلیم ونود تاؤڑے نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ” اگر اسکول اور کالجوں کے طلباء میں قرآن اور بائبل کی تقسیم کرنے کو کہیں گے تو ہم اس کی بھی اجازت دیں گے۔” مسلم اراکین اسمبلی کو بھگوت گیتا کی تقسیم کے سرکیولر کی مخالفت کو بالائے طاق رکھ کر ونود تاؤڑے کے قرآن مجید کی اسکولوں اور کالجوں میں تقسیم کے بارے میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرنا چاہیے اور اس کے لیے ایک لائحہ عمل جلد سے جلد تیار کرنا چاہیے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے سرا سر ہدایت کا واحد سرچشمہ ہے، ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کسی بھی لحاظ سے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے اور جو کوئی بھی طالب علم قرآن مجید کا مطالعہ سنجیدگی کے ساتھ کرے گا اس پر حق انشاءاللہ واضح ہوکر رہے گا۔ سورہ البقرہ آیت نمبر 185/ میں قرآن مجید کی خصوصیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (ھدی للناس و بینت من الھدیٰ والفرقان) ترجمہ” جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کے واضح دلائل ہیں اور جو حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔” آیت کے اس ٹکڑے میں قرآن مجید کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔
1- لوگوں کے لئے ہدایت، یہ کہ قرآن مجید تمام بنی نوع انسان کے لئے ہدایت کا واحد سرچشمہ ہے۔ ہر انسان اپنے خالق حقیقی اور زندگی کی صحیح منزل تک پہنچنے کے لئے سیدھا راستہ صرف قرآن مجید ہی سے حاصل کرسکتا ہے۔ قرآن مجید کے علاوہ راہنمائی کا ہر ذریعہ غلط ہوگا۔
2- جس میں ہدایت کے واضح دلائل ہیں، یہ کہ قرآن مجید نے ہدایت اور رہنمائی کے تمام اصول اور ضابطوں کو اس قدر کھول کر بیان کیا ہے کہ وہ بالکل صاف آسان اور سہل ہوگئے ہیں اور ہر شخص انہیں باآسانی سمجھ سکتا ہے۔ قرآن مجید کے اصول عام فہم، بالکل صاف، سادہ اور قابل عمل ہیں کوئی بات عقل کے خلاف اور کوئی اصول ناقابل عمل نہیں ہے۔
3- حق و باطل میں فرق کرنے والا، یہ کہ جو لوگ اس مقدس کتاب کو پڑھتے ہیں ان میں صحیح قوت فیصلہ کرنے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط، حق و باطل، ایمان اور کفر اصلاح اور فساد، اطاعت اور سرکشی، عبادت اور انکار میں فرق کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
ایسی کتاب جس میں یہ تین خوبیاں ہوں اس کا ہر حکم انسان کے لئے زندگی کا پیغام نہیں تو اور کیا ہے؟ اس کے ہر حکم میں بےشمار برکتیں اور حکمتیں بھری ہوئی ہیں۔
مہاراشٹر میں حکومتی سطح پر مسلمانوں کے لیے یہ ایک بہترین موقع میسر آرہا ہے کہ وہ حکومت کی اجازت لیکر اسکولوں اور کالجوں میں قرآن مجید تقسیم کرسکتے ہیں۔ مسلم تنظیموں اور جماعتوں کو اس سلسلے الرٹ ہو جانا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے آخری پیغام کو بندگان خدا تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں بھی قرآن مجید کو پابندی کے ساتھ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ قرآن مجید ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امانت ہے اور اس کو برادران وطن تک پہنچانے کا کام ہم نے انجام نہیں دیا تو یہ امانت میں خیانت ہوگی اور روز قیامت ہم اللہ تعالی کے حضور پکڑے جائیں گے۔