کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ ہم اپنے مدارس کے لئے کوئی اجتماعی ضابطہ مقرر کریں، بے ضرورت مدارس کے قیام پر روک ہو،!!! کاش مجھے یہ نہ لکھنا پڑتا

{ازـ محمود دریابادی}
مولانا ندیم الواجدی صاحب کی مدارس اسلامیہ سے متعلق تحریرسے شاید کچھ لوگوں کو چیں بجبیں ہوجائیں مگر اس تحریر میں جو حقایق بیان کئے گئے ہیں ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا ـ
ملت کے ارباب حل وعقد کو سب سے پہلے بلاوجہ صرف ذاتی مفاد کے لئے قائم ہونے والے مدارس پر روک لگانی چاہیئے، آج کل چھوٹی چھوٹی بستیوں میں کئی کئی مدرسے، شہروں کے اندرایک ایک بلڈنگ میں کئی کئی مکاتب چل رہے ہیں ان مدارس ومکاتب میں مقامی بچے تو برائے نام ہوتے ہیں، ہاں! دور دراز کے بچے ضرور رکھے جاتے ہیں، …. ان مدارس کا چندہ بڑے شہروں میں خوب دھوم سے کیا جاتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ چندہ دھندگان سے اپنے علاقے کی غربت اور بددینی کاحوالہ دیکر چندے کی اپیل کی جاتی ہے ـ
مولانا نے دیوبند میں مدارس کی کثرت اور ان مدارس میں ابتدائی درجات کے طلبا کو بھی اعلی درجات میں داخل کرکے سال دوسال میں عالم بناکر ” مارکیٹ میں چھوڑ نے ” کی بری رسم کا ذکر بھی فرمایا ہے ـ
مجھے تو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دیوبند میں چھوٹے چھوٹے کمروں کے اندر کچھ” مفتی بنانے کی فیکٹریاں ” بھی چل رہی ہیں جہاں صرف چار ہزار روپئے جمع کرکے افتا میں داخلہ مل جاتا ہے اور دن بھر میں صرف دوگھنٹے کی ایک شفٹ میں حاضر ہوکر ایک سال میں مفتی تیار کردیاجاتا ہے، دن بھر میں ایسی کئی شفٹیں چلتی ہیں اس طرح ہر فیکٹری سے سالانہ سینکڑوں مفتی نکل رہے ہیں ـ یہی وجہ ہے کہ دیوبند میں گھومنے والے دس “علماء نما ” افراد میں سےایک مفتی ضرور ہوتا ہے، …… ہمارے نیشنل میڈیا کو ایسے ہی مفتیوں کی تلاش رہتی ہے وہ کسی بھی ” ریڈی میڈ ” مفتی کوپکڑ کر حسب مرضی بیان دلواتے ہیں اوراس کو ” دارلعلوم دیوبند ” کا فتوی بنا کر نشر کردیتے ہیں ـ
ان فیکٹریوں میں پڑھنے والے طلبا بھی جن حالات سے گزرتے ہیں وہ بھی قابل رحم ہیں، ان افتا کے کارخانوں کو صرف اپنے چار ہزار سے مطلب ہوتا ہے، ان کے طلبا کہاں رہتے ہیں کیا کھاتے ہیں اس سے ان کو کوئی مطلب نہیں ہوتا ….. ـ
دیوبند میں کچھ لوگوں نے اس مقصد کے لئے عمارتیں بنا رکھی ہیں ان میں چھوٹے چھوٹے کمرے ہوتے ہیں جن میں یہ طلبا کرائے سے رہتے ہیں، ہر کمرے میں تقریبا دس سے بیس طلبا ہوتے ہیں، اگر اس عمارت میں دس کمرے ہیں تو تقریبا سو دوسو طلبا کی اس عمارت میں گنجائش ہوتی ہے، ….. ان دوسو طلبا کے لئے عمارت میں صرف دو بیت الخلاء اور دو غسلخانے ہوتے ہیں،. … سوچئے ان طلبا کا کسقدر استحصال ہورہا ہے ـ وہ تو شکر ہے کہ احاطہ دارالعلوم میں خاص طور پر مسجد رشید کے اندر ان بنیادی ضروریات کےلئے وسیع انتظام ہے ورنہ پتہ نہیں ان بے چاروں کاکیا ہوتا ـ
کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ ہم اپنے مدارس کے لئے کوئی اجتماعی ضابطہ مقرر کریں، بے ضرورت مدارس کے قیام پر روک ہو، دارالافتا کس مدرسے میں ہوگا اس کے اصول مرتب ہوں ، اساتذہ کی تنخواہوں کا معیار ہو، دارالاقامہ میں بنیادی ضروریات کو یقینی بنایا جائے، ہر مدرسہ کی شوری ہو جس میں مقامی افراد بھی شامل کئے جائیں، حسابات کی شفافیت اور فراہمی سرمایہ میں ہونے والی بے اعتدالیوں پر روک لگائی جائے ـ
یاد رکھئے ! اگر ہم نےخود اپنی اصلاح نہ کی تو اللہ تعالی کسی دوسرے کو ہماری اصلاح کے لئے مقرر کردے گا …… … اور ……وہ مودی بھی ہوسکتا ہے ـ!