ہندو یوواواہینی اور پولیس کے بیچ گالی گلوچ و مارپیٹ کی وارداتوں میں اضافہ

سہارنپور (احمد رضا) مغربی اتر پردیش کے کچھ اضلاع میں جہاں پولیس کی زیادتیوں نے عام آدمی کو تنگ و پریشان کر کے رکھ دیا ہے وہیں ہندو یووا واہینی او ر ہندو تنظیموں سے جڑے ہزاروں کارکنان نے عوام کا جینا بھی محال کررکھا ہے، جگہ جگہ غنڈہ گردی اور مارپیٹ کی وارداتیں عام ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق سہارنپور کے سرساوا ، چلکانہ، نکوڑ ، گنگوہ ، رامپور منیہاران، نانوتہ اور تھانہ مرزا پور کے علاقوں میں ہندو تنظیموں سے جڑے کارکنان کا غصہ اور دبدبہ دیکھنے لائق ہے ہر تھانہ اور چوراہے پر جسکو چاہتے ہیں روکتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں مارپیٹ کر بھاگ جاتے ہیں!
پچھلے ایک ہفتہ کے دوران ہندو یوا واہینی سے جڑے سینکڑوں کارکنان نے بجنور کے تھانہ منڈاور میں سی او کے سامنے انچارج انسپکٹر اور پولیس ملازمین کے ساتھ جو نا زیبہ سلوک کیا وہ سبکے سامنے ہے ، یاد رہے کہ گزشتہ 24 مئی کو نجب آباد کے کلہیڑی گاؤں کے رہنے والے عارف ولد کلوکا چند نا معلوم بدمعاشوں نے گولی مارکر قتل کر دیا تھا ، اسکی جانچ میں سر گرم تھانہ منڈاورکے ایس او نے قاتلوں کی تلاش میں بہت سی جگہ دبش دی اسی بیچ آرٹی او آفس میں جن سوچنا کیندر چلانے والے منڈاور ہندو یووا واہینی کے نگر نائب صدر آشیش کو اس قتل کے الزام میں پوچھ تاچھ کے لئے تھانہ منڈاور لا یا گیا اسی بیچ اطلاع پاکر منڈاور کے ہندو یووا واہینی سے جڑے نیرج راجپوت ، گورو راجپوت، سنیل کمار سنکت راٹھی اور راجیو کمار اپنے درجن بھر ساتھیوں کے ہمراہ تھانہ پر آپہنچے ان سبھی نے ایس او کے ساتھ گالی گلوج اور ہاتھا پائی کرت ہوئے آشیش پر مٹی تیل چھڑک دیا اور یہ کہا کہ اس قتل کے معاملے میں آپنے آشیش کو پوچھ تاچھ کے لئے تھانہ لاکر اچھا نہیں کیا ، کچھ نوجوانوں نے اسی ہنگامہ کے دوران آشیش پر مٹی تیل چھڑک دیا اور آگ لگانے کی کوشش کی بہ مشکل تھانہ کی پولیس نے لڑکے کو جلنے سے بچایا سی او کی موجودگی میں پولیس نے ہندو یووا واہینی کے کارکنان سے معافی مانگ کر معاملے کو رفع دفع کیا اور آشیش کو گھر بھیج دیا!
اسکے علاوہ ایک دوسریواردات میں کل تھانہ فتح پور علاقہ کے بھاجپا نیتا گوتم چودھری کو فتح پور کے ایس او کے ساتھ گالی گلوج اور مارپیٹ کرنے کے الزام میں پولیس نے بھاجپا نیتا گوتم چودھری کو آئی پی سی دفعہ 151 میں چلان کر جیل بھیج دیا یہ خبر پاکر سینکڑوں ہندو تنظیموں کے کارکنان تھانہ فتح پور پہنچ گئے گھنٹہ بھر تک تھانہ فتح پور کا بھاجپا نیتاؤں نے برا حال کئے رکھا ، پولیس کے ساتھ گالی گلوج اور دھکا مکی کی گئی یہ تماشہ پورے بازار نے اپنی کھولی آنکھوں سے دیکھا یہاں بھی سینئر افسران نے بیچ بچاؤ کراکر پولیس کو ہی معافی کیلئے مجبور کیا مختصر یہ کی دونوں سنگین معاملات میں ہندو یووا واہینی کی غنڈہ گردی کھلکر سامنے آچکی ہے لیکن اسکے باوجود بھی نظم و نسق کا ڈنکا پیٹنے والی ریاستی انتظامیہ اور پولیس ہندو یاوا واہینی کے کارکنان کی غنڈہ گردی کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی سے خود کو دور رکھے ہوئے ہے دوسری جانب ان کارکنان کی غنڈہ گردی عام آدمی سے لیکر پولیس کے ساتھ ہر روز کسی نہ کسی معاملے میں صاف صاف دیکھی جا رہی ہے عام چرچہ ہے کہ پولیس کے ساتھ مارپیٹ اور گالی گلوج کرنے کے بعد بھی جب انتظامیہ ہندو یووا واہینی کے خلاف کوئی ایکشن لینے کے خلاف نہیں ہے تو پھر اس غنڈہ گردی کے خلاف عام آدمی شکایت لیکر کس کے پاس جائگا!