نئے تعلیمی سال کا آغاز اور طالبان علوم نبوت سے چند باتیں

از قلم: محمد زبیر الندوی
جامعہ اسلامیہ اشرف العلوم نالا سوپارہ ممبئی انڈیا
رابطہ 9029189288

رمضان المبارک کی گہما گہمی ختم ہوتے ہی طلبہ کرام میں اپنے تعلیمی سلسلے کے تعلق سے ایک جوش اور ولولہ پیدا ہوجاتا ہے، اور یہی کچھ کیفیت اس وقت طلباء میں پائی جا رہی ہے، نئے جذبات و احساسات اور نئی امنگوں اور تمناؤں کے ساتھ جوق در جوق طلبہ کی جماعت مدارس کا رخ کر رہی ہے، اس موقع سے چند باتیں لکھی جاتی ہیں؛ امید کہ انہیں دامن دل سے باندھا جائے گا اور ان سے مکمل استفادہ کیا جائے گا۔

پہلی بات یہ ہے کہ طلبہ کو چاہئے کہ اپنا ایک علمی گائڈ بنائیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ طالب علم کو چاہئے کہ کوئی ایسا شخص تلاش کرے جو مختلف علوم و فنون کا ماہر اور خصوصا علوم دینیہ کا شناور ہو، جس کے اندر خود پاکیزہ ذوق مطالعہ اور علم کی پیاس موجود ہو اور جس سے قوی امید ہو کہ وہ ہر اعتبار سے علمی، فکری اور مطالعاتی رہنمائی کر سکتا ہو؛ اگر ایسا شخص دستیاب ہوجائے تو اس کی رہنمائی میں اپنا علمی سفر شروع کریں، خصوصا کتابوں کے مطالعہ کے انتخاب میں قدم قدم پر اس سے ہمیشہ رہنمائی لیتے رہیں؛ کیونکہ یہ راہ نہایت پر پیچ ہے، اپنے ذوق و فکر سے مطالعہ بسا اوقات آدمی کو صحیح منزل تک پہونچنے نہیں دیتا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اپنا ایک آئڈیل اور نمونہ بنائیں کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں اور کس کی طرح بننا چاہتے ہیں؛ مثلا آپ کا ذوق حدیثی ہے تو آپ کس محدث کی زندگی اور اس کے علمِ حدیث سے متاثر ہیں، ایسے شخص کی زندگی کا نہایت گہرائی سے مطالعہ کیجئے اور اس کی زندگی میں کیا چیزیں موثر ثابت ہوئی ہیں اور اس نے یہ مقام و مرتبہ کیونکر حاصل کیا اس کا سراغ لگایئے، اور اپنی زندگی، عادات و اطوار، علمی مشغولیت اور فکری نقطہ نظر کو اس کی زندگی کے حوالے کردیجئے۔

تیسری بات یہ کہ اپنے اوقات کو منظم کیجئے، ہر وقت کے لئے ایک کام اور ہر کام کے لئے ایک وقت متعین کیجئے اور کوشش یہی ہو کہ ہر لمحہ اسی اسکیم کے مطابق وقت گزرے کہ:

قیمت دمِ حیات سے تو دام دام لے
بارش ہو یا خزاں ہو تو سب سے کام لے

چوتھی بات یہ ہے کہ اپنی درسی کتب بینی کے علاوہ خارجی کتب کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور پڑھئے اور یہ طے کرلیجئے کہ پندرہ منٹ نیند میں تو تخفیف کی گنجائش ہو مگر مطالعہ مکمل ہونا چاہئے، اسی طرح حالات حاضرہ اور موجودہ سیاسی و سماجی حالات کو سمجھنے کے لئے بعض اخبارات اور معتبر رسائل و جرائد پر بھی نظر ڈالتے رہئے کہ یہ بھی علم کا ایک حصہ ہے، اور بقول امام محمد بن حسن الشیبانی “من لم يعرف أحوال زمانه فهو جاهل” یعنی جو شخص اپنے زمانے کے حالات سے ناواقف ہو وہ علم کے ایک حصے سے محروم ہے، اس لئے اس کا علم بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ علمی و عملی اور فکری و نظری زندگی میں تاریخ کا ایک حصہ آپ کی نظروں میں رہے۔

پانچویں بات یہ کہ اپنے تمام اساتذہ، محبین، مخلصین، ادارے کے کارکنان، کتابیں، کاپیاں اور تمام وسائل علم کا حد درجہ ادب و احترام کیجئے کہ

با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب

چھٹی بات یہ کہ ہمیشہ اپنے اندر علم کی پیاس کو بڑھانے اور اس کو سیرابی سے بجھانے کی فکر میں لگے رہیں اور بقول علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ صحیح طالب علم کی علامت یہ ہے؛ “کہ ہمیشہ اس کے ذہن میں کوئی نہ کوئی سوال ہو اور وہ اس کے حل کے لئے سرگرداں ہو” اس پیاس کو بڑھانے کے لئے اکابر اہل علم کی صحبت اور اصحاب علم و دانش کی زندگی کا مطالعہ کیمیا سا اثر رکھتا ہے۔

ساتویں بات شروع سال میں اپنے کو یکسو کرنے اور اپنے علمی مقام و منصب کو سمجھنے کے لئے “پا جا سراغ زندگی” (از علی میاں ندوی) اور وقت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے معروف صاحب قلم ابن الحسن عباسی کی شہرہ آفاق کتاب “متاعِ وقت اور کاروان علم” کا مطالعہ بے حد مفید ثابت ہوگا، اسی طرح آپ اپنی طالب علمانہ زندگی میں کیا پڑھیں اور کتابوں سے کیسے فائدہ اٹھائیں اس کے لئے مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی تحریر “میری علمی و مطالعاتی زندگی” کا پڑھنا نہایت مفید ہوگا، نیز علم دین کے تئیں اسلاف کی محنت اور جد و جہد اور ان کی قربانیوں کو جاننے کے لیے شیخ عبد الفتاح ابو غدہ کی کتاب “قيمة الزمن عند العلماء” اور “صفحات من صبر العلماء” اور اردو زبان میں مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی کی کتاب “علمائے سلف یا نابینا علماء” کا مطالعہ اکسیر ثابت ہوسکتا ہے۔

آٹھویں بات یہ کہ علم کی طلب میں حیا اور بڑائی ہرگز نہ ہو، طالب علم ہمیشہ اپنے کو محتاج سمجھے، اگر کوئی علمی بات کسی بڑے طالب علم کو معلوم ہو تو چھوٹا اس سے دریافت کرے اور چھوٹے کو معلوم ہو تو بڑا اس سے معلوم کرنے میں ہرگز شرم و عار محسوس نہ کرے، محدثین کی زندگی میں اسکی ہزاروں مثالیں مل سکتی ہیں؛ بلکہ جن لوگوں نے علم حدیث کا مطالعہ کیا ہوگا انہوں نے “رواية الأكابر عن الاصاغر” اور “رواية الاصاغر عن الاكابر” کے الفاظ ضرور دیکھے اور سنے ہونگے۔

نویں بات یہ کہ موجودہ دنیا میں لسانی تغیرات کے پیش نظر انگریزی زبان و ادب کی جو اہمیت فزوں سے فزوں تر ہوتی جارہی ہے کسی سے مخفی نہیں؛ اس لئے عربی اور اردو زبان میں تقریری و تحریری صلاحیت پیدا کرنے کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی مہارت حاصل کرنا ناگزیر ہے؛ تاکہ آپ عربی اور اردو زبان کے ذریعے اپنے پاس علمی سرمایہ کاری کر سکیں اور انگریزی زبان و ادب کے ذریعے موثر انداز میں اپنی بات پوری دنیا تک پہونچا سکیں۔

دسویں بات یہ ہے کہ اپنے علم کو دل و دماغ ہی تک محدود نہ رکھیں؛ بلکہ اسے اپنی عملی زندگی میں اتارتے چلے جائیں؛ کہ علم کا مقصود اور اس کی اصلی زینت یہی ہے اور علم میں ترقی کے اہم ترین اسباب میں سے ایک بنیادی سبب ہے، اس سے علم محفوظ بھی ہوتا ہے اور پختہ بھی، اس سے ذہنی و فکری گرہیں کھلتی بھی ہیں اور انسان خدا اور بندوں کی نگاہ میں معزز بھی ہوتا ہے۔

یہ دس باتیں جو نہایت اہم تھیں اور حصول علم میں جن کا بہت بڑا کردار ہے؛ انہیں پیش کر دیا گیا ہے، خدائے وند قدوس اس عاجز کو اور تمام طلبہ کو اس پر عمل کرنے کی توفیق ارزانی عطا فرمائے آمین۔