*#ملت اسلامیہ کے نام درد مندانہ اہم پیغام#* *حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی صاحب دامت برکاتہم* (جنرل سیکریٹری آل انڈیا پیام انسانیت فورم و خلیفہ شیخ طریقت مرشدالامت حضرت اقدس مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم العالیہ صدر آل انڈیا پیام انسانیت فورم) کی تقریر کا خلاصہ:

1- اصل خطرہ یہ مشکل حالات نہیں،بلکہ اصل اور بڑا خطرہ یہ ہے کہ اب بھی ہمارے اندر تبدیلی نہیں آرہی.
2 – ہم اپنی نافعیت کھوچکے ہیں، اس لیے ہمیں اپنی افادیت ثابت کرنی ہوگی.
3- ہمارے بارے میں برادرانِ وطن کے ذہنوں میں یہ تصور بٹھادیا گیا ہے کہ ہم ان کے دشمن اور ان کے لئے نقصان دہ ہیں، اس لیے ہمیں ان کا ذہن صاف کرکے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ان کی ضرورت ہیں.
4- اور یہ بات ہمیں اپنے کردار وعمل سے ثابت کرنی ہوگی،نہ کہ محض تقریر وتحریر سے.
5- پیام انسانیت کا کام دو چیزوں پر مشتمل ہونا چاہیے: رفاہی کام اور ذہن سازی، محض رفاہی کام کافی نہیں.
6- ابھی 70 فیصد آبادی کھلے ذہن کی ہے، لیکن اگر ہم نے یہ کام نہیں کیا تو خطرہ ہے کہ دس پندرہ سالوں میں یہ تعداد 80- 85 فیصد ہوجائے گی.
7- اب ایک لمحہ بھی تاخیر کی گنجائش نہیں.
8- ہمیں یہ بھی باور کرانا ہوگا کہ ہم یہ کام مجبوری کی وجہ سے نہیں کررہے ہیں، بلکہ یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے.اب تک ہم نے کوتاہی کی ، اور اب ہم اس کی تلافی کرنا چاہتے ہیں.
9- اس کام میں تین نیتیں ہونی چاہئیں: تحفظ دعوت، تحفظ دین، اور تحفظ ملت.
10- اس کام میں بھی وہی اجر ملے گا جو کار دعوت کی انجام دہی کا ہے.