*مولانا سلامت اللہ ندوی صاحب پر لگاے گئے تمام تر الزامات بے بنیاد ثابت* ممبرا کے تمام علماء کی ہنگامی مٹئنگ بلائی جاے گی*

جمعیت علماء ممبرا کوسہ (مولانا ارشد مدنی) کے صدر مولانا عبد الوہاب قاسمی صاحب نے کہا کہ علماء پر کسی قسم کی ذیادتی برداشت نہیں کی جاے گی،. علماء کی جمعیت ہمیشہ علماء کے ساتھ رہے گی. ہم جلد ہی ٹھوس قدم اٹھائیں گے تاکہ مستقبل میں کبھی کسی عالمِ دین پر زیادتی نہ ہو.
• جمعیت علماء ممبرا کوسہ (مولانا محمود مدنی) کے صدر حافظ ایوب صاحب نے کہا جلد ہی ممبرا کے تمام علماء کی ہنگامی مٹئنگ بلائی جاے گی. اور دونوں جمعیتں مل کر علماء کے مسائل حل کریںمولانا سلامت اللہ ندوی صاحب پر لگاے گئے تمام تر الزامات بے بنیاد ثابت* گی اور علماء کو پریشان کرنے یا گالیاں بکنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جاے گی.
• مولانا سلامت اللہ ندوی صاحب کے حق میں ممبرا کے سینکڑوں علماء نے ممبرا پولیس اسٹیشن پہنچ کر آواز بلند کی،.
……………………………………………..

جامعہ ابنِ عباس گزشتہ کئی دنوں سے مختلف حادثات کے سبب سرخیوں میں ہے، در اصل مسئلہ کی ابتداء ٹرسٹی صاحب کے فارم ہاؤس کو لیکر ہوئی تھی، اطلاعات کے مطابق ٹرسٹی صاحب کا ساتھ نہ دینے پر ادارے کے مہتمم مولانا رہبر ندوی صاحب اور حافظ سالم صاحب کو جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر استفعی دینے پر مجبور کیا گیا تھا،. پھر مولانا سلامت اللہ صاحب نے بھی گالی گلوج سے تنگ آکر مدرسہ چھوڑ دیا، ٹرسٹی صاحب کی منشاء کے مطابق فتوی نہ دینے پر مفتی ثاقب قاسمی صاحب بھی ٹرسٹی صاحب کی گالی گلوج اور اُنکے عتاب کا شکار ہوے تو اُنہوں نے بھی استفعی دے دیا،. لیکن ٹرسٹی صاحب کی جانب سے مولانا اسماعیل کرخی ندوی پر قاتلہ حملہ کے بعد مسئلہ اور سنگین ہوگیا تھا، معاملہ پولیس تک پہنچا تو ٹرسٹی صاحب کو طلب کیا گیا لیکن وہ اعتکاف میں بیٹھ گئے، رمضان کے بعد ٹرسٹی صاحب نے مولانا سلامت اللہ ندوی کے خلاف عرضی دی جس پر ممبرا کے علماء طبقہ میں زبردست غم و غصہ پھیل گیا، جمعیت علماء کے دنوں گروپ نے متحد ہوکر مولانا کے حق میں آواز بلند کی، مولانا عبد الوہاب قاسمی صاحب نے کہا کہ علماء پر کسی قسم کی ذیادتی برداشت نہیں کی جاے گی،. علماء کی جمعیت ہمیشہ علماء کے ساتھ رہے گی. ہم جلد ہی ٹھوس قدم اٹھائیں گے تاکہ مستقبل میں کبھی کسی عالمِ دین پر زیادتی نہ ہو، اسی طرح حافظ ایوب صاحب نے کہا کہ جلد ہی ممبرا کے تمام علماء کی ہنگامی مٹئنگ بلائی جاے گی. اور دونوں جمعیتں مل کر علماء کے مسائل حل کریں گی اور علماء کو پریشان کرنے یا گالیاں بکنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جاے گی. جب مولانا سلامت اللہ ندوی جیسے عظیم عالمِ دین ٹرسٹیوں کی خباثت سے محفوظ نہیں تو دوسرے علماء بھی محفوظ نہیں رہ سکتے، مزید تمام علماء نے بلاتفریقِ مسلک ممبرا پولیس اسٹیشن پہنچ کر مولانا کے حق میں آواز بلند کی. چنانچہ اے سی پی دُمال صاحب نے معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوے فریقین میں صلح کروادی، اور آئندہ علماء کو گالی گلوج کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی، یاد رہے مولانا سلامت اللہ ندوی کے خلاف دو لاکھ غبن کا الزام لگایا گیا تھا، چنانچہ مولانا نے کہا کہ میں چیرٹی کمیشن کے ذریعہ قانونی کاروئی کرواؤنگا، حیرت کی بات ہے کہ شروع میں مولانا پر کسی قسم کا الزام نہیں لگایا گیا تھا، لیکن کچھ شرپسندوں کی آمد کے بعد مولانا پر ۸۰ لاکھ غبن کا الزام لگایا گیا، اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ روزانہ غبن کی رقم میں کمی آتے گئی، ٹرسٹی صاحب ۸۰ لاکھ سے ۵۰ لاکھ پر آے پھر ۲۲ لاکھ اور پھر ۱۰ پھر ساڑھے چار اور پولیس کے سامنے صرف دو لاکھ کا دعوی کیا، جو غلط ثابت ہوا، پھر مولانا رہبر صاحب پر یہ الزام لگایا گیا کہ اُنہوں نے دو سال سے دکان کا کرایہ نہیں دیا، مولانا نے کہا کہ میں تو دو سال سے کہہ رہا تھا کہ دکان کا کرایہ طئے کرلیا جاے، لیکن آپ ہمیشہ ٹال دیا کرتے تھے، آپ حساب لگائیں اور یقنیاً کرایہ لے لیں میں نے پہلے بھی انکار نہیں کیا اور ابھی نہیں کرتا، البتہ میں نے دوسال سے اپنی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا تھا، اُسکا بھی حساب لگایا جاے، اور دو سال سے میں نے طعام کے ۲۵۰۰ روپئے ماہانہ بھی نہیں لئے، مزید یہ کہ میں نے جامعہ میں پیسہ کی قلت کے سبب دو مہینہ کی تنخواہ ۳۶۰۰۰ بھی جامعہ سے نہیں لیا تھا وہ بھی جوڑ لیا جاے، اے سی پی صاحب نے کہا کہ میں یہاں حساب کتاب کرنے تو نہیں آیا تھا، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ صلح ہوجاے، لیکن رہبر صاحب نے کرایہ ادا کرنے پر اصرار کیا، چنانچہ اپنے مطالبات اور جامعہ کے مطالبات جوڑنے گھٹانے کے بعد ماہانہ ۹۰۰۰ روپئے کے حساب سے رہبر صاحب نے ۷۲۰۰۰ ہزار روپئے دکان کا کرایہ ادا کرنے کا وعدہ کیا،.
آخیر میں اے سی پی صاحب نے مولانا سلامت اللہ صاحب سے مستقبل کے بارے میں پوچھا کہ مولانا کیا ارادہ رکھتے ہیں تو مولانا نے کہا کہ مجھے جامعہ چھوڑ کر تین مہینے ہوچکے ہیں اور میں اپنے فیصلہ پر قائم ہوں، ٹرسٹی صاحب اپنی مرضی کے مطابق مدرسہ چلائیں اب مجھے مدرسے سے کوئی دلچسپی نہیں، یاد رہے مولانا سلامت اللہ صاحب کے استفعی کے بعد جامعہ کے تمام اہم اساتذہ نے استفعی دے دیا ہے، اور ۸۰ فیصد طلبہ نے مدرسہ چھوڑ دیا ہے اور اس سال جامعہ میں کسی قسم کا داخلہ نہیں ہوا…