خضر ناگپوری کی غزل گوئی ” رازِ حیات ” کی روشنی میں

اسلم چشتی ( پونے)
( چیئرمین ‘صدا ٹوڈے’ اُردو نیوز ویب پورٹل)
www.sadatoday.com
09422006327

شعری مجموعہ ” رازِ حیات ” کے خالق خضر ناگپوری اُردو سُخن کی دُنیا میں محتاجِ تعارف نہیں – مشقِ سُخن نے انھیں جو شعری شعور عطا کیا وہ مثالی ہے – حیات کی کشمکش اور ذات کے کرب کو سہتے ہوئے انھوں نے جو شعرو سُخن کے ذریعے اُردو سماج کی خدمت کی ہے وہ قابلِ داد ہے – میں ذاتی طور پر ان سے واقف ہوں – کاروبار کے سلسلے میں میرے ناگپور قیام کے دوران ان سے ملاقاتیں بھی رہی ہیں – بحیثیت انسان وہ ایک مُخلص اور سیدھے سادے میرے اپنے معلوم ہوتے تھے – کبھی وہ میرے روم پر آ جاتے تو کبھی میں ان کے ٹھکانے پر پہنچ جاتا – شعر و شاعری پر بات ہوتی تو میں فیضیاب ہوتا – زندگی اور شاعری دونوں معاملات میں میں نے انھیں سنجیدہ پایا – زبان کی خوبیوں سے وہ خوب واقف تھے اور عروض کے پاس و لحاظ کو وہ اپنا فرض سمجھتے تھے لیکن عروض انھوں نے ظفر ناگپوری ( جا نشین ناطق گلاوٹی ) سے سیکھا سمجھا تھا اور انھیں کے دکھائے ہوئے طریقوں پر وہ عمل کرتے تھے مگر انھوں نے سُخن کی اپنی راہ اختیار کی اور خوب شعر کہنے لگے – مقامی شعراء نے شاید ان کے ساتھ زیادتی کی ہو تبھی تو انھوں نے اپنی کتاب کا انتساب ان الفاظ میں کیا –

” رازِ حیات ” کو میں اپنے ان تمام کرم فرماؤں کے نام منسوب کرتا ہوں ، جنھوں نے
میری ادبی زندگی میں روڑے اٹکانے کی ہر ممکن کوشش کی اور اپنی کوششوں میں ایک حد تک کامیاب بھی رہے ”

( ص 3 کتاب ہذا )

اس انتساب پر یہاں مُجھے کچھ نہیں کہنا ہے لیکن سوچنا پڑتا ہے کہ ساتھی شاعروں کی جلن اور مُخالفت سے ملول اور ناراض ہوکر خضر صاحب کو مجبوراً اپنے مجموعئہ کلام کا انتساب اپنے مُخالفین کے نام کرنا پڑا-

اشتیاق احمد کامل ایڈیٹر ” قرطاس ” ناگپور نے مُجھے “رازِ حیات ” کا ایک نسخہ بھیجا
اور مُجھ سے اس پر اپنے رسالے ” قرطاس ” کے خضر ناگپوری نمبر کے لئے مضمون لکھنے کی خواہش ظاہر کی – خضر صاحب چونکہ میرے پسندیدہ شاعر ہیں اس لئے ان کی شاعری پر لکھنا میرا فرض ہے لیکن یہ کام آسان نہیں کیونکہ ” رازِ حیات ” میں سُخن کی ایک دنیا آباد ہے – اس دُنیا کا تخیٌلی سفر بھی مُشکل ہے اس کے با وجود چونکہ مُجھے لکھنا ہے اس لئے میں نے اپنے آپ کو اس مجموعے کے مطالعے کے لئے آمادہ کیا -کتاب کا بغور مُطالعہ کیا فکر کے کئی رنگ نظر آئے اظہار کے کئی ڈھنگ ملے – زندگی کا درد محسوس ہُوا ، شعور کی لہروں سے سابقہ پڑا ، خضر صاحب کے مجموعے کی شروعات ان چار مصرعوں سے ہوتی ہے –

آ بتاؤں تُجھے میں رازِ حیات
کیا لڑکپن ہے کیا جوانی ہے
جس کہانی کا موت ہے انجام
اس کا عنوان زندگانی ہے

حقیقت پر مُشتمل اس قطعہ سے انکار ممکن ہی نہیں – ان چار مصرعوں میں جو لہجہ ہے بس یوں سمجھئے کہ ان کی شاعری کا کم و بیش یہی لہجہ ہے جو ان کا اپنا لہجہ ہے جس میں وہ اپنی بات کہنے کی مہارت رکھتے ہیں –

کتاب کا دیباچہ ماسٹر سحر ناگپوری نے لکھّا ہے – جس میں خضر صاحب کی زندگی کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں ، ان کے تعلق سے بہت سارے واقعات کا انکشاف ہوتا ہے – شاعری کے سلسلے میں بھی بہت ساری باتوں کا ذکر ہے – خضر صاحب کے بھی فنِ شاعری پر تین مضامین ہیں – مضامین گو کہ اہم ہیں لیکن اس مجموعئہ کلام میں اس کی ضرورت قطعاً نہیں تھی حمد اور نعت کے علاوہ مُختلف موضوعات پر پابند نظمیں بھی ہیں جو اپنے اپنے موضوعات کے ساتھ انصاف کرتی ہیں اور شاعر کی عمدہ صلاحیتوں کی گواہی پیش کرتی ہیں – لیکن میرا خیال ہے کہ غزل گوئی خضر ناگپوری کا اصل میدان ہے – اس میدان میں انھوں نے کئی منزلیں طے کی ہیں میری پسند کے کچھ اشعار مُلاحظہ فرمائیں –

میرے اُجڑے ہوئے دل پر ہیں نگاہیں سب کی
اک تماشا ہے گُلستاں کا بیاباں ہونا

کون کس کا بُرے وقت میں
رات آئی تو سایا ، گیا

حقیقت ہو گئی معلوم اس دُنیاےء فانی کی
مُسافر زندگی کا ، رہروِ راہِ عدم نکلا

میں لکھ رہا تھا اپنا نصیب اپنے ہاتھ سے
حرفِ غلط دکھا تو مٹانے میں رہ گیا

سر درد نہ بن جائے کہیں چارہ گرِ درد
اِس کو بھی ذرا اے دلِ بیمار سمجھنا

یہ کیا ، کہ نظر صرف نظر تک رہے محدود
خنجر ہے تو دل چیر دے ، جادو ہے تو چل جا

” رازِ حیات ” میں ایسے سینکڑوں اشعار ہیں جو غزل پسند قارئین کا دل موہ لیتے ہیں اور سُخن کی کئی طرح کی خوشبوؤں سے آشنا کراتے ہیں – کئی اشعار ایسے ہیں جو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کر تے ہیں کئی اشعار طنز کے تیر برساتے ہیں تو کچھ اشعار سُخن کے پھول سجاتے ہیں – غرض ہر طرح کے اشعار خضر ناگپوری کی غزل گوئی کی بے پناہ بے ساختہ صلاحیتوں کو اُجاگر کرتے ہیں –

خضر ناگپوری کی شاعری میں فکر و احساس کے ایسے بھی نمونے ملتے ہیں جو انسان کبھی نہ کبھی سوچتا ضرور ہے وہی باتیں خضر کی شاعری میں جب نظر آتی ہیں تو وہ داد بھی دیتا ہے اور اپنی سوچ کا حصّہ بھی سمجھتا ہے – یہ معمولی بات نہیں ہے – کچھ ایسے اشعار مُلاحظہ فرمائیں –

اُس کی مرضی ہے ، فرشتہ بھی بنا سکتا تھا وہ
اُس کا یہ احسان ہے جو شکلِ انسانی میں ہوں

ضرورت پر کوئی ہمدم کوئی مونس نہیں ہوتا
یہی لے دے کے اک غم ہے جسے اپنا سمجھتے ہیں

خرچ ہوتی رہتی ہے اور کم نہیں ہوتی
وہ خُلوص کی دولت ہے مرے خزانے میں

مانا کہ جھوٹ عیب ہے لیکن ہُنر بھی ہے
کوئی پکڑ سکا نہ ہماری زبان کو

زیادہ سے زیادہ کی ہوس ہے
طلب پوری ہوئی کب آدمی کی

خضر ناگپوری کی غزل گوئی زندگی کے راز کو اپنے طور پر فاش کرتی ہے – نیاز و ناز کی باتوں کے در وا کرتی ہے – یہ شاعری خالص روایتی شاعری سے استفادہ کرتی تو نظر آ تی ہے لیکن تقلید نہیں کرتی – شعری زبان میں تخلیق کا گُلشن آباد کرتی ہے اس گُلشن میں پھول بھی ہیں کانٹے بھی ، کلیاں بھی ہیں ، شگوفے بھی ، پودے بھی ہیں ، پیڑ بھی ، بھنورے بھی ہیں ، تتلیاں بھی ، خوشبوؤں کی مہکار بھی ہے ، بہار کی چہکتی جھنکار بھی ، بارش کی پھوار بھی ، بجلی اور آندھی کا خوف بھی ہے اور سبک ہواؤں کے ساتھ بوندا باندی بھی – الغرض خضر ناگپوری کی شاعری میں زندگی کے ہمہ پہلو ہمہ رنگوں کے ساتھ اپنے جلوے بکھیرتے نظر آتی ہے –

مُجھے اعتراف ہے کہ اس مُختصر مضمون میں شاعرِ حیات خضر ناگپوری کی شاعری کا صد فی صد احاطہ نہ ہو سکا لیکن میں نے اپنی بساط اور اپنی صلاحیت کے لحاظ سے ان کی شاعری کو اپنے طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے –

قابلِ مُبارکباد ہیں ” قرطاس ” کے مالکان اور مدیران کہ انھوں نے جنابِ خضر پر نمبر نکالنے کا فیصلہ کیا – مُجھے یقین ہے یہ نمبر ان کے شایانِ شان ہوگا اور خضر کی زندگی اور ان کے فن پر اہلِ قلم کے بھر پور مضامین ہوں گے – جس سے ان کے قد و قامت اور مقام کا تعین ہوگا –

Aslam Chishti flat no 404 shaan Riviera aprt 45 /2 Riviera society near jambhulkar garden wanowrie pune 411040 maharashtra india aslamchishti01@gmail.com