ترکی کا الیکشن…. ہمارا ردعمل محتاط ہونا چاہیے

تحریر / مولانا محمد طاھر مدنی

صدارتی نظام کی منظوری کے بعد ترکی میں کل پہلا الیکشن تھا، اس لیے اس کی خاص اہمیت تھی. صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ووٹ ڈالے گئے، اس کے بعد کاؤنٹنگ شروع ہوئی اور رات 11 بجے تک نتائج کا اعلان ہوگیا. الیکشن کے پورے پراسیس میں غیر ملکی مبصرین بھی موجود رہے، ترکی کی اہم کامیابی یہ ہے کہ اس نے بین الاقوامی معیار پر شفاف الیکشن کرایا اور کسی طرح کی دھاندلی کی کوئی رپورٹ نہیں ہے. یہ بجائے خود ایک بڑی حصولیابی ہے کیونکہ مسلم ممالک میں عام طور پر شفاف انتخابات نہیں ہوپاتے اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے شفافیت پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں.
رجب طیب أردوغان پہلے ہی مرحلے میں 52% سے زائد ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوگئے ہیں، یہ ایک خوش آئند بات ہے، مبارکباد دینی چاہیے، لیکن ردعمل کے اظہار میں حقیقت پسندی اور اعتدال کا ثبوت دینا چاہیے. اگر کوئی أردوغان کو خلیفہ راشد سمجھتا ہے تو اس کی بھول ہے، اس حیثیت سے انہوں نے کبھی اپنے آپ کو پیش بھی نہیں کیا، اس لیے؛ نصر من اللہ اور فتح مبین جیسی اصطلاحات کا استعمال مناسب نہیں ہے. وہ ایک کامیاب سیاست داں ہیں اور بہت دانش مندی کے ساتھ اپنے ملک کو ترقی کے راستے پر لے کر آگے بڑھ رہے ہیں. گزشتہ 15 سالوں میں انہوں نے اقتصادی اور تعلیمی محاذ پر ترکی کو بہت مضبوط کیا ہے، نوجوان نسل میں دینی بیداری بھی آئی ہے، لاکھوں شامی مظلوموں کو پناہ بھی دی ہے، یہ سب قابل تحسین کام ہیں، لیکن اسی کے ساتھ اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات بھی ہیں، ملک کے اندر جسم فروشی کے اڈے بھی ہیں اور ترکی بین الاقوامی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بھی ہے. ہمیں اپنے تبصروں کو مبنی بر حقائق بنانا چاہیے اور تائید یا مخالفت میں غلو اور انتہا پسندی سے بچنا چاہیے. کچھ لوگ أردوغان کو فرشتہ ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں اور کچھ لوگ اس کے اندر کوئی خوبی دیکھ ہی نہیں پاتے. حقیقت پسند بننے کی ضرورت ہے، وہ ایک کامیاب، زیرک اور دانش مند سیاست دان ہیں، ان کے اچھے کاموں کی دل کھول کر تائید کیجئے اور کمزوریاں نصح و خیر خواہی کے ساتھ اجاگر کیجیے اور بیجا توقعات کسی کے ساتھ وابستہ کرنے کی غلطی ہرگز نہ کیجئے، ورنہ خلاف توقع امور پیش آنے پر آپ اندر سے بالکل ٹوٹ جائیں گے. نہ فرشتہ، نہ شیطان، أردوغان ہے ایک انسان… بس اسی لحاظ سے اپنا موقف طے کیجئے. تجزیہ اور تبصرہ حقائق اور ڈاٹا کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ جذبات اور خواہشات کی بنیاد پر…
اس موقع پر ہمیں اپنا تجزیہ بھی کرنا چاہیے، اپنے ملک میں ہمارا سیاسی وزن کتنا ہے؟ ہماری سیاسی پوزیشن کیا ہے؟ ہماری حصہ داری کتنی ہے؟ کوئی سیاسی محاذ من حیث الملت ہمیں کوئی مقام دینے کیلئے تیار ہے؟ ایک محاذ کہل کر کہتا ہے کہ ہمیں مسلم ووٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے، ہمارے لیے 80% ہندو ووٹ کافی ہے، دوسرا محاذ یہ سمجھتا ہے کہ یہ کہاں جائیں گے، ہمارے خیمے میں رہنا ان کی مجبوری ہے، انہیں ساتھ تو چاہیے لیکن شراکت اور حصہ داری کیلئے تیار نہیں ہیں، غلام بن کر رہیے تو آپ قابل قبول ہیں، ورنہ دودہ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیئے جائیں گے.
یہ صورت حال بہت تشویش ناک ہے، ایسی سیاسی بے وزنی تو کبھی نہیں تھی. اس حالت کو کیسے تبدیل کیا جائے؟ اس پر غور ہونا چاہیے.
ہمارا سیاسی منشور کیا ہو، اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، کچھ نکات یہ ہو سکتے ہیں؛
ملک میں سب کیلئے انصاف، مظلوموں کی حمایت، ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم، کرپشن کا خاتمہ، سیاست سے جرائم پیشہ افراد کا اخراج، فرقہ واریت پر قدغن، بے گناہوں کی حمایت، مہنگائی پر کنٹرول، فرقہ وارانہ فسادات اور ہجومی تشدد پر سخت کارروائی، روزگار کے مواقع، تعلیم کے نظام کی اصلاح، میڈیا کی غیر جانب داری، دلتوں اور اقلیتوں کا تحفظ، تشدد پسند جماعتوں پر قدغن، عورتوں کا تحفظ، کسانوں سے ہمدردی، باوقار خارجہ پالیسی اور پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات، وغیرہ نکات کو اپنے منشور کا حصہ بنایا جاسکتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ آبادی کے تناسب سے سے شراکت اور حصہ داری؛ اقتدار میں، تعلیمی اداروں میں اور سرکاری نوکریوں اور روزگار کے مواقع میں……
اس کیلئے سیاسی شعور کی تربیت اور ہرسطح پر مخلص قیادت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، ڈسکشن، ڈیبیٹ، مکالمہ، مباحثہ، تجزیہ اور ریسرچ و تحقیق کی ضرورت ہے. کاموں کو تقسیم کرنے کی ضرورت ہے، نوجوان قیادت کی تربیت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے. اپنے اداروں اور تنظیموں میں شورائیت اور شفافیت لانے کی ضرورت ہے اور موروثی قیادت کے تصور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے، صالحیت اور صلاحیت ہی معیار ہو، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں.
اس وقت ملک ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے ، ملی قیادت کی فراست، دانش مندی اور سوجھ بوجھ کا امتحان ہے….
امتحان ہے ترے ایثار کا، قربانی کا
طاھر مدنی 25 جون 2018