کشمیر کی تباہی کیلئے مودی تنہاذمہ دار ہیں سیاسی امور کے ماہرین اس کا تذکرہ اکثر کرتے رہے ہیں کہ حکومت کے سارے فیصلے مودی جی اکیلے کرتے ہیں،بہت ہوا تو ان فیصلوں میں امیت شاہ کو شریک کر لیتے ہیں۔اسی لئے جب بی جے پی نے پی ڈی پی سے اتحاد کیا تھا تو اسے مودی کا’ماسٹر اسٹروک‘ قرار دیا گیاتھا اور جب حمایت واپس لی گئی ہے تو اسے بھی مودی ہی کا ’ماسٹر اسٹروک‘ قرار دیا جا رہا ہے لیکن کشمیر کی تباہی کیلئے کوئی مودی کا نام نہیں لیتا

مضمون نگار: ۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ظہیر انصاری
tahreerenav2@gmail.com
۲۰۱۴ء کے اخیر میںجب جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے اُس کے نتائج سب کوچونکانے والے تھے۔خود بی جے پی حیران تھی لیکن اُس وقت مودی لہر کام کر رہی تھی کیونکہ ۲۰۱۴ء کے عام انتخابات کو ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے اور مودی کی بدولت بی جے پی کولوک سبھا میں اکثریت مل گئی تھی اور مودی ملک کے وزیر اعظم بن گئے تھے۔۸۹؍نشستوں والی جموں کشمیراسمبلی میں مفتی محمد سعید کی پارٹی پی ڈی پی کو ۲۸؍ اور بی جے پی کو ۲۵؍نشستیں ملی تھیں۔اسی طرح فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کو ۱۵؍اور کانگریس کو ۱۲؍ اور چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ۷؍نشستیں مل سکی تھیں۔ظاہر ہے کہ نتیجہ واضح نہیں تھا لیکن دوڈھائی ماہ کے پس وپیش کے بعد مفتی صاحب نے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنا لی، یہ کہتے ہوئے کہ اگرچہ یہ قطب شمالی اور جنوبی کا ملن ہے لیکن یہی وقت کا تقاضا ہے اور اِس سے فائدہ کشمیر کے عوام کو ہوگا۔بی جے پی اِس حکومت کے بن جانے سے بہت خوش تھی کیونکہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ سنگھ کی حکومت بن سکی تھی اور اس کا ایک نائب وزیر اعلیٰ بھی ،جو ممکن تھا کہ کبھی وزیر اعلیٰ بھی ہو جاتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا سارا کریڈت مودی کو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور اسی لئے بیشترقومی میڈیا اور بی جے پی کے بھکتوں نے اسے مودی کا ’ماسٹر اسٹروک‘ قرار دیا تھا اور اب جب کہ بی جے پی نے محبوبہ مفتی(۷؍جنوری ۲۰۱۶ء کو مفتی صاحب کی موت کے بعد ایک بار اور مزید پس و پیش کے بعد محبوبہ ۴؍اپریل ۲۰۱۶ء کو بی جے پی کی حمایت سے ہی ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنی تھیں)کی پارٹی سے اسی منگل کو حمایت واپس لے لی تب بھی میڈیا اور مودی بھکت اسے مودی کا ’ماسٹر اسٹروک ‘ قرار دے رہے ہیں تو بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب ناپاک اتحاد(سوجھ بوجھ والوں نے ایسا کہا تھا) وجود میں آیا تھا اُس وقت بھی مودی کا ماسٹر اسٹروک تھا اور جب اتحاد کو بی جے پی نے پارہ پارہ کیا تب بھی ماسٹر اسٹروک ہے۔
اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ابھی تک قومی میڈیا کے بیشتر ہاؤسیز مودی بھکتی میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے سے باز نہیں آتے اور حالات کے رخ کو مودی کی حمایت میں موڑ دیتے ہیں۔عوام کا حافظہ ویسے تو کمزور ہوتا ہے لیکن یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں ہے کہ لوگ اسے بھول جائیں۔نوٹ بندی کرتے وقت مودی جی نے قوم کو خطاب کے دوران اس کے فوائد میں سے ایک یہ بھی بتایا تھا کہ اس سے دہشت گردی کی روک تھام ہوگی۔اُن کا اشارہ کہیں اور نہیں بلکہ کشمیر کی دہشت گردی ہی تھی۔اُن کا جواز یہ تھا کہ دہشت گردوں کے پاس جو بلیک منی ہے اُس کی وقعت صفر ہو جائے گی اور روپے کی قلت کی وجہ سے دہشت گرد اپنا کھیل کھیل نہیں سکیں گے۔نوٹ بندی کا ایک اور جواز ہمارے وزیر اعظم نے یہ بھی دیا تھا کہ جو جعلی روپے ہیں جسے پاکستان ہمارے ملک میں بھیجتا ہے اُس کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہ جائے گی کیونکہ اُنہی جعلی روپوں سے وہ دہشت گردوں کی فنڈنگ بھی کرتا ہے۔خیر نتیجہ ملک کے عوام کے سامنے ہے کہ مودی جی کے دورِ حکومت میں دہشت گردی کیا ختم ہوتی بلکہ اور بڑھ گئی۔خاص طور پر مودی جی کی پالیسیوں نے کشمیر کا ستیاناس کر دیاکیونکہ جہاں ۲۰۱۴ء تک سیاحوں کی تعداد جہاں ۱۴؍لاکھ سے زیادہ ہوتی تھی وہ گھٹ کر ۸؍لاکھ سے بھی کم ہوگئی ۔کہنے والے یہاں تک کہتے ہیں کہ مودی جی اور بی جے پی نے دانستاً یہ سب کیا تاکہ کشمیریوں کی کمر ٹوٹ جائے۔کشمیر کی دگرگوںحالت کے لئے صرف اور صرف مودی ہی ذمہ دار ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ حمایت واپس لئے جانے تک وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی تھی اور یہ سب انہیں ٹی وی کی خبروں سے پتہ چلاتھا۔اس سے قبل نوٹ بندی کے فیصلے کے متعلق بھی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو کچھ پتہ نہیں تھا اور انہیں بھی وزیر اعظم کے قوم سے خطاب کے وقت معلوم پڑا تھا۔ہندوستان کی جمہوریت جس راستے پر چل پڑی ہے اس سے آمریت کی بو آنے لگی ہے کیونکہ وزیر خارجہ شسما سوراج کی بھی کیا معنویت ہے ؟بیرون ملک کے اُن کے ہم منصب تو جانتے ہی ہیں یہاں ہندوستان کے عوام بھی اس سے غافل نہیں ہیں۔اسی طرح سرجیکل اسٹرائک کے وقت بھی وزیر دفاع منوہر پاریکرکو اندھیرے میں رکھنے کی بات کہی گئی تھی۔
یہ چاروں شعبے داخلہ ،مالیت،خارجہ اور دفاع کسی بھی ملک کے نہایت ہی اہم شعبے ہیں اور یہاں ہندوستان میں انہیں کون چلا رہا ہے بتلانے کی چنداں ضرورت نہیں۔امیت شاہ کے علاوہ قومی سیکوریٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال بھی مودی جی کی آنکھوں کے تارہ ہیں اور یہ راجناتھ سنگھ کو نہیں بلکہ وزیراعظم کو براہِ راست رپورٹ کرتے ہیں۔غور کریں تو پتہ چلے گا کہ داخلی اور خارجی امور کے معاملات پر اجیت ڈوبھال ہی حرف آخر ہیں۔اتنے بڑے ملک کو ۳؍شخص چلائیں تو نتیجہ ایسا ہی آئے گا جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں۔کبھی کسی نے کہا تھا کہ ہندوستان کو ڈھائی لوگ چلا رہے ہیں یعنی جیٹلی جی کو شاید آدھا کہا تھالیکن اب جیٹلی جی بھی کسی شمار و قطار میں نہیں ہیں۔کانگریس کا یہ سوال اچھا ہیکہ وزیر خزانہ جیٹلی جی ہیں کہ پیوش گوئل؟
حد تو یہ ہے کہ مودی جی یا اُن کی پارٹی کے لوگ جو بھی کرتے ہیں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک کے مفاد میں کر رہے ہیں ۔جب مفتی صاحب کے ساتھ مل کرحکومت بنائی تھی اور جس کی چہار جانب سے مذمت ہوئی تھی تو اس وقت کہا تھا کہ ملک کے مفاد میں ایسا کر رہے ہیں۔اب محبوبہ مفتی کی حکومت گرا دی تو اسے بھی ملک کے مفاد سے جوڑ دیا۔بات در اصل یہ ہے کہ بی جے پی یا مودی جی کو ملک سے زیادہ اپنی پارٹی اور وہ خود عزیز ہیں۔انہوں نے ملک کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ اپنی پارٹی کے مفاد کے لئے ایسا کیا ہے۔جب دیکھا کے پورے ملک میں اُن کے اور اُن کی پارٹی کے خلاف لہر چل رہی ہے تو یہ ’’کشمیر کارڈ‘‘ کھیلا تاکہ ملک کے بھولے عوام کو ایکبارگی اور بہلا سکیں۔جنوبی ہند میں تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا لیکن شمالی ہند کے چند علاقوں میں خاص طور پر اتر پردیش میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔ویسے لگتا تو نہیں ہے کہ اس میں یہ کامیاب ہو جائیں لیکن کوشش کرنے میں کیا جاتا ہے ،یہ سوچ کر انہوں نے یہ کارڈ کھیلا ہے۔ممکن ہے کہ لوک سبھا کا الیکشن یہ پہلے یعنی اسی برس کے آخر میں کروا لیں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے ساتھ۔یہ بھی ممکن ہے کہ مہاراشٹر میں بھی اسمبلی کے انتخابات اِنہی کے ساتھ ہو جائیں کیونکہ کشمیر میں ہونے والی سرگرمیوں کی لہرکو بہت دنوں تک برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔اور یہ بالکل طے ہے کہ جموں کشمیر کا الیکشن اِن کے ساتھ نہیں ہوگا کیونکہ گورنر موصوف نے اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا ہے بلکہ معطل رکھا ہے۔عمر عبداللہ اور غلام نبی آزادکے علاوہ کوئی بھی اسمبلی تحلیل کرنے کی بات نہیں کر رہا ہے۔بی جے پی اور پی ڈی پی اس پر خاموش ہیں۔اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ یہ عارضی انتظام ہے ۔ محبوبہ مفتی کے ذریعے خالی کی گئی لوک سبھا کی نشست (اننت ناگ)پر ابھی تک ضمنی انتخاب نہیں ہو سکا اور سری نگر پارلیمانی حلقے پر جہاں ضمنی انتخاب ہوا تھا وہاں کُل صرف ۷؍فیصد ووٹ پڑیتھے اور فاروق عبداللہ ایم پی منتخب ہو گئے تھے، اُس پردیش میں الیکشن کی بات کیسے ہو سکتی ہے؟اس لئے بہت ممکن ہے کہ اِن ۴؍ریاستوں اور عام انتخابات کے بعد جس طرح کے حالات ہوں گے بی جے پی ویسا کرے گی۔اگر اس کے موافق ہوں گے تو پھر سے پی ڈی پی کی حکومت بن جائے گی جس میں بی جے پی شامل ہوگی۔یہ اور بات ہے کہ محبوبہ وزیر اعلیٰ نہ ہوں بلکہ اُن کی پارٹی کا کوئی دوسرا لیڈر سامنے آئے ۔ویسے اُن کا بھائی تصدق بھی میدانِ سیاست میں آچکا ہے اورحکومت گرنے سے پہلے تک چند امور سنبھال رہا تھا۔ بی جے پی کو اپنے لوگوں سے کہنے کے لئے یہ بات بھی ہو جائے گی اور ادھر پی ڈی پی کی رہی سہی عزت بچے ہوئے ٹرم کے لئے رہ جائے گی ۔
آج کے حالات میں پی ڈی پی صفر ہو گئی ہے۔اگرآج یا مذکورہ ۴؍ریاستوں نیز عام انتخابات کے سا تھ بھی الیکشن ہو جائے تو پی ڈی پی کو ختم ہی سمجھئے لیکن بی جے پی جموں اور لداخ سے ختم نہیں ہوگی۔بھلے ۲۵؍ سیٹیں نہیں آئیں لیکن اُس کی نشستیں ۲۰؍ کے آس پاس رہیں گی اور بہت حد تک ممکن ہے کہ ۲؍پارلیمانی نشستیں بھی۔ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جموں کشمیر میں اس دفعہ پارلیمانی الیکشن نہ بھی ہوں کیونکہ حالات اس کی اجازت نہیں دیں گے۔بی جے پی کو ۲؍ سیٹوں کی تھوڑے ہی پڑی ہے ،اس کی تو وسیع تر تناظر میں پورے شمالی ہندوستان پر نظر ہے ۔یہ سب کچھ کشمیر کی قیمت پر ہوگا یعنی کشمیر کے لوگوں کی قیمت پر۔گورنر راج من چاہے دنوں تک رہ سکتا ہے۔موجودہ گورنر کی مدت ۲۸؍ جون کو ختم ہو رہی ہے۔بھلے ہی وہ کتنے ہی کشمیر کے معاملات کے ماہر کیوں نہ ہوں اُن کی جگہ پر کسی اور کو لایا جائے گا۔۹۰ء کی دہائی والے جگموہن جیسے گورنر کی تلاش بھی شروع ہو گئی ہے۔کیونکہ بی جے پی کو جاننے اور سمجھنے والے یہی کہتے ہیں کہ اس کا منشا کشمیر کو سلجھانا نہیں ہے بلکہ مزید الجھانا ہے۔اپنے اسی سابقہ کالم میں میں نے کبھی لکھا تھا کہ کشمیر کے جلنے سے اگر بی جے پی اور مودی کا فائدہ ہو رہا ہے تو اسے کیوں بجھایا جائے؟سوشل میڈیا ہی پر کچھ لوگ اِس اندیشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اِس بار امر ناتھ یاترا کہیں گودھرا نہ ثابت ہو!اقتدار کے لئے کچھ بھی ممکن ہے۔ مودی جی کے ۴؍ برسوں میں کشمیر میں جنگجوئیت میں کئی گنااضافہ ہوا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جنگجو پڑھے لکھے بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور مقامی بھی۔پہلے اکثر سرحد پار کے ہوتے تھے اور جاہل بھی۔یہ خود حکومت کی رپورٹ ہے۔اب ہندوستانی عوام خود فیصلہ کریں کہ مودی جی نے کشمیر(اور کشمیریوں ) کو ہندوستان سے دور کیا ہے کہ قریب ؟طاقت ، روپیہ اور اہنکار سے کیادل جیتا جا سکتاہے؟٭