تیواسی عید کے دن 9 لوگ مالیگاوں کے جنگل میں بھٹک گئے تیندوا نظرآیا، خوف سے جنگل میں پناہ لی ۔۔ مقامی ایم ایل اے آصف شیخ کی مدد سےگھر پہنچے ۔۔ جان بچی لاکھوں پائے ۔۔۔۔

دھولیہ سے انصاری اسلم کی خاص خبر :

عید کی تیواسی کے دن 9 لوگ مالیگاوں مولانا کمپاؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں للنگ کے جنگل میں شام 6 بجے بغیر پرمیشن سے گئے تھے غلط موڑ کی وجہہ سے جنگل میں گم ہو گے تھے مغرب کے وقت ان حضرات کو تیندوا نظر آیا ڈر کے مارے جنگل میں اور اندر چلے گئے جب ہوش ٹھکانے آیا تو راستے کا تعین نہیں رہا پاس پہاڑی پر جنگل جھوپڑی نما ٹاؤر کیبن نظر آنے پر اس پر چڑھ کر بیٹھ گئے رات 9 بجے کے آس پاس موبائل سگنل ملنے پر مالیگاؤں اپنے دوستوں کو اطلاع دی دوست حیران پریشان کیا کیا جائے دوستوں نے مشورہ کیا کیوں نہ شھر کے آمدار آصف شیخ رشید سے رابطہ کیا جائے
آمدار صاحب سے ملاقات کی آمدار شیخ آصف صاحب کا فون مجھے آیا حالات بتاے اور کہا ابھی کی ابھی جنگل میں جا کر کے ان لڑکوں کو نکالو جو بھی مدد لگے مجھے فون کرو
میں میرے دوستوں کے ساتھ تھا ایک ٹیچر دوست نے ان کے 1اسٹوڈینٹ کو فون کیا اور ان کے والد جو سانپ پکڑتے ہیں ان سے ملاقات کا کہا وہ حضرت انور پہلوان نے گھر بلا کر پوری بات سنی ان کی طبیعت بہت نا ساز تھی مگر کہا میرے انداز سے یہ بچے جہاں پھنسے ہیں بہت خطرے کی جگہ ہے وہاں تیندوے کا گڑھ ہے اور ہم نے خود وہاں ہزاروں سانپ چھوڑ ے ہیں میں چلونگا اور مجھے لے کر فاریسٹ آفس نزد راج کمل ٹاکیز لے کر آئے وہاں آ کر واچمین سے بات کر کے ایک ادھیکاری کو بلایا ادھیکاری نے اتنی رات میں وہاں نہ جانےکا مشورہ دیا اسرار کرنے پر رینجرر آفسر کو فون کر کے پوری بات بتا یی آفسر نے جلدی گاڑی ریڈی رکھنے کا حکم دیا اور 15 منٹ میں اپنے گھر آیے مہمان جو کہ ان کا داماد تھا لے کر کے للنگ کے لئے روانہ ہوئے
میں اور میرا 1 دوست گاڑی میں ساتھ گیے نیشنل ہایوے نمبر 3 سے 18 کلو میٹر اندر جنگل میں دھونڈتے دھونڈتے رات 12/30 بجے بہت دور اونچائی پر لڑکوں کی موبائل کی ٹارچ کی روشنی دکھائی دی بہت مشکل سے سمت کا تعین کرتے کرتے لڑکوں تک پہنچے جنگل میں سفر کے دوران کیی جنگلی جانور نظر آیے تیندوا بھی گاڑی کے آگے سے گزرا لڑکوں کو نیچے اتار کر ان کو اطمینان دلایا گیا رینجرر آفسر بہت سیدھے سادھے ایمادار سمجھدار تھے لڑکوں کو کچھ ضروری ہدایات دے کر ساتھ چلنے کو کہا لے کر جب ریمنڈ سے باہر نکے تو دیکھا کم سے کم 200 لوگ استقبال میں کھڑے تھے کچھ نے اللہ کا شکر ادا کیا تو کسی الٹے سیدھے سوالات داغ دیے
مالیگاؤں کے 8 سے 10 لڑکے جو معملا سن کر بڑے بن کر وہاں آیے تھے ہاتھ میں لکڑی ڈنڈا لئے فوریسٹ ادھیکاریوں کو مارنے کی تیاری میں تھے آفیسر نے انہیں سمجھایا اور ہائی وے پر تیز رفتار گاڑی سے کچھ نہ گہانی حادثہ نہ ہو جائے سب کو ہوٹل سٹی پوائنٹ پر بلایا لڑکوں کو پانی وغیرہ پلا کر سمجھا کر روانہ کیا
میرا اتنا تفصیل سے لکھنے کا مقصد یہ ہے سب ادھیکاریوں کی ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد گھر پر مہمان ہے اتنی آدھی رات کو جنگل میں جاکر تلاش کر کے نکال لانے کے بعد اگر یہ عقل سے خالی لوگ مارنے کی بات کرے تو میں سمجھتا ہوں ہم سے برے لوگ کوئی نہیں ہونگے جو کہ سب ادھیکاری غیر مسلم تھے فون پر بات کر کے بغیر میرا بیک گراؤنڈ جانے اتنا بڑا رشک لیا اور انہیں کیا صلہ ملا
میری دردمندانہ اپیل ہے خاص مالیگاؤں والوں کے لئے آپ ٹو وہیلر پر ٹیبل سیٹ سفر نہ کرے اور بغیر پرمیشن کہی بھی انٹری نہ کرے خاص طور سے للنگ ریمنڈ میں جو عام لوگوں کے لئے حد متعین کی گئی ہے اسے پار نہ کرے
میں آمدار آصف شیخ رشید اور فاریسٹ آفیسرس کا شکر یہ ادا کرتا ہوں جو وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے جلدی سے اکشن لیا۔