خلاف ِتوقع حیرت انگیز فرحت و انبساط

ڈاکٹر سلیم خان
فجر کی نماز سے لوٹتے ہوئے سفید قمیض اور خاکی نیکر میں ملبوس ایک اجنبی بزرگ پر نظر پڑی تو سوچا ننھے منے بچوں کو ہندوتوا کا سبق پڑھانے کے لیے سنگھ کی شاکھا میں جارہے ہوں گے ۔ مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب انہوں نے اشارے سے سلام کیا اور منہ کے اندر منمنائے۔ میرے لیے یہ حیرت کا خوشگوار جھٹکا تھا ۔ میں نے بھی ہاتھ اٹھا کر جواب دیا اور سوچنے لگا ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟ یادداشت نے کہا کیوں نہیں ہوسکتا ۔ سدرشن جی کو بھول گئے ۔ وہ تو سر سنگھ چالک تھے اس کے باوجود بھوپال میں عید کی نماز پڑھنے پہنچ گئے ۔ وہ ان کی سیاسی ڈرامہ بازی نہیں تھی۔ عملی سیاست سے وہ کنارہ کش ہوچکے تھے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اپنی عمر کے آخری پڑاو میں دین حنیف سے متاثر ہوگئے تھے اور مشرف بہ اسلام ہونا چاہتے تھے ۔ وقت نے ساتھ نہیں دیا اور وہ بہت جلد دارِ فانی سے کوچ کرگئے ۔
پسماندہ طبقات وقبائل تحفظ قانون کے تحت گرفتاری پر روک لگانے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالف میں دلتوں کے کامیاب بند کے بعد نام نہاد اونچی ذات والوں کا بھارت بند فلاپ ہوگیا ۔ سورن بھی اگر عقل کا استعمال کرکے دلت احتجاج کو نظر انداز کردیتے تو وہ بھی ناکام ہوجاتا لیکن احمق ٹھاکروں کے تشدد نے اسے کامیاب کر دیا۔ اس میں شک نہیں کہ ۹ دلت نوجوانوں کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا لیکن ان کے بھارت بند کی گونج ذرائع ابلاغ پر چھا گئی۔ آگے چل کر جب انکشاف ہوا کہ سنگھ کے لوگ تشدد میں ملوث تھے تو اس کی خوب بدنامی بھی ہوئی۔ سورنوں کے بھارت بند میں چونکانے والی خبر جئے پور کے ویشالی نگر سے آئی جہاں آرایس ایس کے ایک مقامی عہدیدار رگھویر شرن اگروال نے خود کونذرِ آتش کردیا اور سڑک پر دور تک ’بھارت ماتا کی جئے‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے دوڑتا رہا۔رگھویر کی اس حرکت کو اگر بھارت بند سے جوڑ دیا جاتا تو تعجب کی کوئی بات نہیں تھی لیکن بستر مرگ پر۸۰ فیصد جلے ہوئے بدن کے ساتھ رگھویر نے اسپتال میں بیان دیا کہ اس کا احتجاج سماج سے مفقود ہوتی ہم آہنگی یعنی بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف تھا۔ کسی سنگھی کا عدم رواداری کی باتیں کرنا تو قابلِ فہم ہے لیکن ہم آہنگی کی خاطر خود سوزی خلاف توقع تھی ۔اس لیے خوشی ہوئی۔
چند روز بعد وہی نیکر دھاری بزرگ پھر سے آتے دکھائی دیئے تو میں نے پہل کرکے ہاتھ اٹھا کردیا مگر اس سے پہلے کہ آداب کہتا مسکراہٹ کے ساتھ ان کا جواب آیا ’وعلیکم السلام‘ اور وہ آگے بڑھ گئے ۔ میں پیچھے رہ گیا۔ ایک دوسرے سے گزر کر ہم لوگ مخالف سمتوں میں رواں دواں تھے میں سوچ رہا تھا کہ اس سلام دعا میں اتنی فرحت کیوں ہے؟ میرے اندر سے جواب دیا یہ توقع کے خلاف جو ہے؟ اس دنیا اگر کو ئی وارادت ہماری توقعات کے خلاف رونما ہوجاتی ہے تو اپنا اثر ضرور دکھاتی ہے۔ انسان کو رنجیدہ یا انسان خوش کردیتی ہے۔ یہی بات جب ہم کسی حکایت میں پڑھتے یا سنتے ہیں تو وہ ہمیں یاد رہ جاتی ہے ۔ یہی واقعات جب ہماری زندگی میں رونما ہوتے ہیں تو یادگار قرار پاتے ہیں ۔ رب کائنات اگر سارے نتائج بعینہ ہماری توقع کے مطابق رونما کرنے لگے توکیا زندگی حیرت و استعجاب اور فرحت و انبساط سے خالی نہیں ہوجائیگی؟ اورسفینۂ حیات کس قدر بے رنگ ہوجائیگا؟