چاند کے نام پر لڑنے، لڑانے کے لئے علماء کی صورت میں صرف ہندو پاک کو ہی یہ خصوصی خدائی فوج عطا کی گئی ہے؟ کیا پوری دنیا علماء سے خالی ہے؟ قلندر کی بات……. متین خان

حدیثِ رسول ہے کہ جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ نہ رکھو۔ اگر (چاند) دکھائی نہ دے یا بادل ہوں تو پھر شعبان کے تیس دن گن کے فیصلہ کر لو۔

اگر یہ حدیث متفق علیہ ہے تو پھر اس کی روشنی میں چاند کے نظر آنے نہ آنے کا جھگڑا ہی نہیں ہونا چاہیے لیکن جھگڑا نہ ہو تو زندگی کا کیا لطف۔

شمالی امریکہ اور یورپ میں رہنے والے بیشتر مسلمانوں نے تو آسان حل ڈھونڈھ لیا ہے کہ جب سعودی عرب میں چاند نظر آئے گا تو وہ بھی روزہ رکھ لیں گے اور عید منا لیں گے۔ کیا ہند و پاک کے اسلام اور اسلامی قوانین میں کوئی فرق ہے، کہ انکی عید سعودی کے چاند سے ہوجاتی ہے لیکن ہماری عید نہیں ہوسکتی؟

آخر ہندوستان و پاکستان میں رمضان اور شوال کے ہی دو دو تین تین چاند کیوں نظر آتے ہیں۔؟ محرم اور ربیع الاول سمیت دیگر قمری مہینوں کے دو چاند کیوں نہیں ہوتے؟ اور پاکستان سے رقبے میں دوگنا انڈونیشیا و ایران اور پونے تین گنا سعودی عرب سمیت ننانوے فیصد مسلمان ممالک میں ہر سال رمضان اور عید کا صرف ایک ہی چاند کیسے ہو جاتا ہے۔؟

عید کے چاند پر ہمیں لڑتے جھگڑتے صدیاں گزر گئیں لیکن اسلامی نظریاتی کونسل آج تک یہ فیصلہ نہیں دے سکی کہ چاند بینی میں فزکس و ریاضی کی بنیاد پر فیصلہ حلال ہے کہ حرام۔ اتنے برس میں بس اتنی سائنس لڑائی گئی کہ اب رویتِ ہلال کمیٹیاں دوربین سے مدد لینے لگی ہیں۔

افسوس ہمارے لڑنے کے لئے چہار جانب سے دشمن نے محاذ کھول رکھا ہے، یہ احساس نہیں کہ ہم دشمنوں کے نرغے میں ہیں، نہ دشمن سے نجات کے لئے کوئی کوشش نہ کوئی منصوبہ، بس لے دے کر رہ گیا ہے لڑنے کے لئے عید کا چاند؟

کیا پوری دنیا میں مفتی مولوی نہیں ہیں صرف ہمیں ہی چاند کے نام پر لڑنے، لڑانے کے لئے علماء کی صورت میں یہ خصوصی خدائی فوج عطا کی گئی ہے؟

اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہند و پاک کے علاوہ پوری دنیا میں چاند کا جھگڑا کیوں نہیں ہوتا،

پورا مہینہ رمضان المبارک کا خلفشار میں گزر گیا، لوگوں کو اپنا اعتکاف خطرہ میں محسوس ہورہا ہے، شب قدر کا کوئی تعین نہیں، آپنے امکانات کو بھی مشکوک کردیا، خدا لئے امت پہ ترس کھاؤ، کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ اسپین کی تاریخ دہرا دی جائے، جب وہاں کے لوگوں نے اپنے مذہبی پیشواؤں کو چرچ و گرجا سے نکال کر سڑکوں پر دوڑا دوڑا کر مارا تھا، اور اپنی عبادت گاہوں کو آپنے ہاتھوں سے نذر آتش کیا تھا، وہ لوگ بھی اسی طرح اپنے مذہبی رہنماؤں سے تنگ آگئے تھے،