ہندوستان میں ایک ملک ایک ہلال کمیٹی کیوں نہ ہو؟*

محمد برہان الدین قاسمی

آغاز اسلام سے ہی مسلمانوں کے لیے مختلف سماجی و مذہبی امور میں ہلال یا چاندکو بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ تقریبا تمام مسلم ممالک میں اسلامی یا ہجری کلینڈر، جس کا آغاز نبی اکرم صلی اللہ و علیہ و سلم کی حضرت ابو بکر صدیق کی رفاقت میں 13/12 ستمبر 622 عیسوی کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت سے ہوتا ہے، کے مطابق امور انجام پاتے ہیں۔ یہ ایک قمری کیلنڈر ہے جس میں ایام کا تعین ہر ماہ طلوع ہلال پر منحصر ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے سارے مذہبی تہوار اور دیگر کئی عبادتیں جیسے رمضان کا آغاز، عید الفطر، حج، عید الاضحی وغیرہ پوری دنیا میں چاند دیکھنے پرمنحصر ہیں-

57 او آئی سی ممبر ممالک، جن میں 22 عرب ممالک بھی شامل ہیں، کے پاس چاند دیکھنے کے لیے بہتر نظام موجود ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب، پاکستان اور ملیشیا کے پاس اس اہم مذہبی معاملے یعنی رویت ہلال کے لیے جس کا ان کی روز مرہ کی زندگی اور مذہبی عبادات سے براہ راست تعلق ہے، جدید اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی نیز مطلوبہ فلکیاتی و مذہبی ذرائع و وسائل موجود ہیں۔ زیادہ تر خلیجی ممالک کے پاس رمضان یا عید کا چاند دیکھنے کے لیے اگر چہ تمام جدید ذرائع موجود ہیں لیکن وہ سبھی بلا اختلاف سعودی عرب کے اعلان کے مطابق عمل کرتے ہیں۔

مسلم ممالک میں رمضان یا عید کے چاند کے تعلق سے کسی طرح کا کوئی اختلاف عام طور پر سننے میں نہیں آتا ہے۔ کسی بھی مسلم ملک کے سبھی باشندے کم از کم رمضان کے آغاز اور یوم عید کے تعین میں متفق نظر آتے ہیں۔ وہ اس بحث میں نہیں الجھتے کہ کس نے چاند دیکھا، کہاں دیکھا یا کیسے دیکھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں چاند دیکھنے کا ایک منظم طریقہ ہے جس کا انتظام و انصرام ماہر علماء کی سرپرستی میں خود حکومت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ہندوستان میں بھی برطانوی استعمار سے پہلے یہی طریقہ رائج تھا جبکہ اس وقت اس ملک کا رقبہ موجودہ رقبے سے کہیں زیادہ تھا۔

آج ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا 180 ملین ہے، جبکہ پورے عالم میں مسلمان 1.8 بلین ہے، یعنی بین الاقوامی سطح پر کل مسلم آبادی میں سے 11 فیصد مسلمان ہندوستان میں رہتے ہیں۔ یہ تعداد تمام 22 عرب ممالک کی کل آبادی کا تقریبا نصف ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ تمام تر جدید اور آسان ذرائع مواصلات اور اکیسوی صدی کی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کے باوجود یہاں کے مسلمان کوئی ایسا نظام قائم نہیں کر سکے جس سے ایک ملک، ایک تاریخ، ایک ہی دن عید یا رمضان کا آغاز اور اس طرح ایک ہی متعین تاریخ میں قومی چھٹی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔

ہندوستان کا اسلام سے تعلق اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ کسی عرب ملک کا۔ جنوب میں مالابار کے ساحلی علاقے اور مغرب میں کوکن کا خطہ دونوں علی سبیل الترتیب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ (624 عیسوی) اور خلیفہ ثانی حضرت عمر ابن الخطاب کے دور خلافت (634-644 عیسوی) میں نور اسلام سے منورہوچکے تھے۔

امسال 2018 میں ہندوستان میں (ہلال کمیٹیوں کے آپسی اختلاف کی وجہ سے) رمضان المبارک کا آغاز مختلف علاقوں میں دو مختلف تاریخوں میں ہوا اور اندیشہ ہے کہ کہیں عید میں بھی اسی طرح کا اختلاف رونما نہ ہو۔ ممبئی اور اس کے متصل کچھ شہروں کے علاوہ بعض دو چار اور مقامات پر رمضان کا آغاز جمعہ یعنی 18 مئی سے ہوا جبکہ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ہر طرف پورے ہندوستان میں لوگوں نے پہلا روزہ جمعرات یعنی 17 مئی کو رکھا۔

کیرالا کے علاوہ، جو عموما رویت ہلال کے مسئلے میں سعودی عرب پر انحصار کرتا آیا ہے، جنوبی ہند کی تین ریاستوں یعنی تمل ناڈو، کرناٹک اور تلنگانہ میں 16 مئی بروز بدھ رمضان کا چاند دیکھا گیا۔ اس کی بنیاد پر چیننئی، بنگلور اور حیدرآباد کی ہلال کمیٹیوں نے 17 مئی بروز جمعرات سے رمضان کے آغاز کا اعلان کیا۔ ریاض، کابل اور پاکستان سے بھی یہی اعلان نشر ہوا تھا۔

ہندوستان کی دیگر ہلال کمیٹیوں نے بھی اپنے طور پر مطمئن ہونے کے بعد جنوبی ہند کی رویت کا اعتبار کرتے ہوئے اسی تاریخ سے رمضان کے آغاز کا اعلان کردیا. چنانچہ امارت شرعیہ بہار، جھاڑکھنڈ و اڑیسہ، جمعیۃ علمائے ہند اور جامع مسجد دہلی نیز ناخدا مسجد کولکاتا کی ہلال کمیٹیوں نے 17 مئی بروز جمعرات کو سنہ 1439 ہجری مطابق 2018 عیسوی کے رمضان کی پہلی تاریخ قرار دی۔

لیکن دیوبندی اور بریلوی دونوں مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی ممبئی کی ہلال کمیٹیوں نے جنوبی ہند کی ریاستوں کے اعلانات اور ان کی رویت و شہادت کو مسترد کرتے ہوئے 16 مئی کو یہ اعلان کیا کہ آج رمضان کا چاند نہیں دیکھا گیا ہے لہذا جمعہ 18 مئی 2018 سے رمضان کا آغاز ہوگا۔

دوسری طرف، ممبئی کے اہل حدیث طبقے نے دیوبندی و بریلوی دونوں ہلال کمیٹیوں کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دہلی مرکز کے اعلان کے مطابق 17 جون، بروز جمعہ کو پہلا رمضان قرار دیا۔ چنانچہ اہل حدیث افراد اور دیوبندی مکتب فکر سے وابستہ بعض لوگوں نے جن کے نزدیک سینٹرل ہلال کمیٹی، جامع مسجد ممبئی کا فیصلہ غیر اطمینان بخش تھا ہندوستان کی دیگر ہلال کمیٹیوں کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے جمعرات کو پہلا روزہ رکھا۔ اور اس طرح خود ممبئی میں مسلمان رمضان کے تعلق سے دو فریقوں میں تقسیم ہوگئے۔ زیادہ تر افراد نے جمعہ یعنی 18 سے روزہ رکھنا شروع کیا جبکہ اسی شہر میں بعض مسلمانوں نے ایک دن پہلے سے روزہ رکھنا شروع کردیا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ صورت حال کیوں پیش آئی؟ اگر گواہاٹی، کولکاتا، پٹنہ، لکھنؤ اور دہلی جیسےنسبۃ دور دراز علاقوں میں واقع ہلال کمیٹیوں کے لیے چیننئی، بنگلور اور حیدر آباد کی ہلال کمیٹیوں کا فیصلہ قابل قبول تھا تو جنوبی ہند کے ان شہروں سے محض چند سو کیلو میٹر کی دوری پر واقع ممبئی کی ہلال کمیٹیوں کو اسے قبول کرنے میں کیا دشواری تھی؟ اگر ممبئی کے علاوہ باقی ہندوستان والے چیننئی کے مطلع پر نمودار ہونے والے چاند کو اپنا ہی چاند سمجھ رہے تھے تو ممبئی کی ہلال کمیٹیوں نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے ایک متضاد فیصلہ کیسے سنایا؟ کیا ان کمیٹیوں کے افراد میں مذہبی، علمی اور فلکیاتی امور میں اتنی مہارت تھی کہ وہ سب کے برخلاف اور بے دھڑک ایک ایسا فیصلہ سنادیں جس سے کروڑوں لوگ متاثر ہوتے ہوں؟ اپنے دفاع میں یہ حضرات یقینا کچھ نہ کچھ دلائل پیش کریں گے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ لوگ ابھی تک عید کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں کہ عید کب ہوگی اور اس معاملے میں انھیں کن کی بات ماننی چاہیے۔

صورت حال تشویشناک ہے۔ یہ ایک فوری توجہ طلب مسئلہ ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جلد از جلد اس کا پائیدار حل نکالیں۔ ایک مسئلے میں دو متضاد فیصلوں کے ساتھ ممبئی اور باقی ہندوستان دونوں بیک وقت صحیح نہیں ہوسکتے۔ کسی ایک فریق کا فیصلہ ہی درست ہوسکتا ہے۔ دونوں کو بیک وقت درست قرار دینا عقل سلیم کے خلاف بات ہوگی۔

اگر ایک ہی شہر کے دو مسلم پڑوسیوں میں سے ایک کسی متعین تاریخ میں روزہ رکھے اور دوسرا اسی دن عید منائے تو یہ بہت ہی مضحکہ خیز بات ہوتی ہے۔ اس سے اسلامی وحدت و اجتماعیت کا تصور بھی مجروح ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ رویت ہلال فقہ اسلامی کا کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔ ہندوستانی فقہاء بہت پہلے اس سلسلے میں اپنا واضح موقف رکھ چکے ہیں۔

ہندوستان میں زیادہ تر مسلمان فقہی امور میں امام ابو حنیفہ کے پیرو ہیں اور فقہ حنفی میں کے مطابق ایک ملک کا مطلع ایک ہی ہوتا ہے۔ لہذا اگر کیرالا یا چیننئی میں چاند نظر آجائے تو پورے ملک کے لیے اس رویت کا اعتبار ہوگا۔ خود مرکزی ہلال کمیٹی، جامع مسجد ممبئی کے دستور کی دفعہ 12 میں بھی اس کی صراحت موجود ہے: “(الف) اختلاف مطالع معتبر ہے۔ (ب) ہمارے ملک ہندوستان کا مطلع ایک ہے۔”

خلاصہ یہ کہ اسلامی نصوص یا فقہ میں اس حوالے سے کوئی تعقید یا پیچیدگی نہیں ہے۔ البتہ نصوص کی تفہیم و تشریح میں بعض افراد غلطی کر سکتے ہیں۔ آغاز رمضان کے تعلق سے پیدا ہونے والی اس ناخوشگوار صورت حال اور نیتجۃ ممبئی اور دہلی میں یوم عید کے تعین میں ممکنہ اختلاف کی اصل وجہ برسات میں اگنے والے خود رو پودوں کی طرح ہر ریاست اور ہر چھوٹے بڑے شہروں میں قائم ہونے والی ہلال کمیٹیاں ہیں۔ مثال کے طور پر بہار کے شہر کشنگنج میں واقع ہلال کمیٹی بہار کی راجدھانی پٹنہ میں موجود ہلال کمیٹی کے بر خلاف اعلان کرتی ہے۔اسی طرح اپنی اپنی راجدھانیوں میں موجود ہلال کمیٹیوں کے علاوہ کرناٹک میں بھٹکل اور مہاراشٹر میں مالیگاؤں والوں نے اپنی الگ الگ ہلال کمیٹیاں قائم کر رکھی ہیں۔ ممبئی سے صرف 150 کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہونے کے باوجود پونے والوں کی اپنی ہلال کمیٹی ہے جس نے امسال ممبئی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے باقی ملک کے ساتھ 17 جون سے روزے کا اعلان کیا۔

مسئلہ مختلف ہلال کمیٹیوں کے مابین تعاون باہمی اور اعتماد کے فقدان کا ہے۔ کچھ مسلم تنظیموں نے رویت ہلال جیسے خالص مذہبی معاملے کو بھی اپنے لئے سامان تشہیر بنا دیا ہےاور اس فراق میں رہتے ہیں کہ میڈیا اور سوشل گروپس کے توسط سے سب سے پہلے اپنی تیظیم یا ادارے کے لیٹر ہیڈ پر عوام کے نام چاند کے ہونے یا نہ ہونے کا پیغام نشر ہو۔

اس اہم مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ہندوستانی مسلمان درج ذیل تین طریقوں میں سے کوئی ایک طریقہ اپنا سکتے ہیں:
1. مختلف مکاتب فکر کے افراد پر مشتمل ایک مرکزی ہلال کمیٹی کی تشکیل ہو جس کا صدر دفتر جامع مسجد دہلی میں ہو اور جامع مسجد ممبئی، ناخدا مسجد کولکاتا نیز جامع مسجد چیننئی میں ریاستی صدر دفاتر قائم کیے جائیں۔ حتمی اعلان صرف دہلی کے صدر دفتر سے کیا جائےاور پورا ہندوستان بخوشی اس پر عمل پیرا ہو۔ صدر دفتر اور ریاستی صدر دفاتر جدید ٹیکنالوجی جیسے اعلی معیار کی دور بین اور مواصلاتی ذرائع سے آراستہ ہوں۔ یہ سب سے موزوں اور مسلمانان ہند کے لیے تھوڑا مشکل لیکن قابل عمل طریقہ ہوگا۔
2. ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ایک ہی قوم بستی ہے اور آج سے 71 سال پہلے یہ تینوں ملکر ایک ہی ملک ہوا کرتے تھے۔ اس خاص مسئلے میں علماء اور حکومت ہند کی باہمی موافقت کے بعد، مسلمانان ہند رویت ہلال کے سلسلے میں دونوں پڑوسی مسلم ممالک پاکستان یابنگلہ دیش میں سے کسی ایک ملک کے سرکاری اعلان کو اپنے لیے بھی اپنا لیں۔ ان دونوں ملکوں میں رویت ہلال اور اس کے بعد رمضان یا عید کا اعلان دونوں امور منتخب حکومتوں کی زیر نگرانی انجام پاتے ہیں۔ لیکن یہ طریقہ ذرا “غیر ہندوستانی” لگتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں سے اس کی امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس طریقے پر عمل پیرا ہوں گے کیونکہ خواہ معاملہ مذہبی ہو یا سیاسی یہاں کے مسلمان ان دونوں ملکوں کے فیصلوں کو در خور اعتنا نہیں سمجھتے۔
3. اگرپہلا طریقہ ناقابل عمل لگے یا مسلم تنظیمیں از خود اس مسئلے کا کوئی پائیدار حل نہ نکالیں تو ایسی صورت میں تیسرا طریقہ یقینا قابل عمل ہے اور پورا کا پورا “ہندوستانی” بھی ہے۔ وہ یہ کہ مرکزی حکومت اس پر توجہ کرے اور اپنی وزارت برائے اقلیتی امور کی ماتحتی میں ایک معیاری نظام تشکیل دیکر اپنے مسلم شہریوں کے لیے علماء کی رہنمایانہ آراء کی روشنی میں جس طرح حج بیت اللہ سے متعلق خدمات انجام دیتی آئی ہے رویت ہلال کی ذمہ داری بھی سنبھالے۔ صرف حکومت کی طرف سے مجاز شخص ہی دہلی سے رمضان اور عید کے چاند کا اعلان کرے۔ اس سے رفتہ رفتہ ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئیں غیر ضروری ہلال کمیٹیاں بھی ناپپد ہوجائیں گے۔

قبل اس کے معاملہ سنگین ہوجائے مسلمانوں کو آپس میں ہی اس معاملے کا حل نکال لینا چاہیے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ کسی شخص کو اس بارے میں تذبذب ہو کہ اگر فلاں تاریخ کو ممبئی میں عید ہوئی تو دہلی میں ہوگی یا نہیں۔ اس سے حکومتی ادارے، پرائیویٹ سیکٹرس اور اسکول ہر جگہ کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ عید مسلمانوں کے لئےعبادت کے ساتھ ایک قومی تعطیل بھی ہےاور یہ ہندوستان میں ہر جگہ ایک ہی دن ہونی چاہیے۔ ایک عام مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر دہلی میں 29 رمضان کو چاند نظر آجائے اور اس حساب سے 15 جون کو عید ہو تو اس دن ممبئی میں عید ہوگی یا نہیں۔ اگر ہوئی تو اس صورت میں وہاں رمضان 28 کا ماننا پڑے گا جبکہ ہجری کیلینڈر میں مہینہ یا تو 29 کا ہوتا ہے یا 30 کا۔ اگر ممبئی کے علاوہ دہلی اور باقی ہندوستان میں روزہ تیس ہوتا ہے، جس کا قوی امکان بھی ہے، اور عید بروز سنیچر مورخہ 16 جون کو منائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں امید ہے کہ لوگ زیادہ تذبذب کے شکار نہیں ہوں گے۔ لیکن یہ مسئلہ صرف اس سال کا نہیں ہے، یہ ماضی میں ہوا اور مستقبل میں مستقل حل نکلنے تک ہوتا رہے گا.

جمعیۃ علمائے ہند، ایک ملک گیر تنظیم ہونے کی وجہ سے، اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، مسلمانوں کے مختلف مکتب فکر کی نمائندہ جماعت ہونے کی حیثیت سے، اگر رویت ہلال کے معاملے کو حکومت کی مداخلت سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو ان دونوں تنظیموں کو اس سلسلے میں جلد سے جلد پیش رفت کرنی ہوگی۔ ورنہ آج نہیں تو کل مرکزی حکومت اس معاملے میں مداخلت کرے گی اور اسے مسلم عوام کی طرف سے کسی خاص مخالفت کا بھی سامنا کرنا نہیں پڑے گا کیونکہ یہ مسئلہ تین طلاق بل یا ایکسا سیول کوڈ جیسا بالکل نہیں ہے.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مضمون نگار مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کے دائیریکٹر اور ماہنانہ ایسٹرن کریسٹ، ممبئی کے ایڈیٹر ہیں۔