بھاجپائی قیادت ہر محاذ پر فلاپ ! مسعود اختر ایم ایل اے 

سہارنپور (احمد رضا) کانگریس کے سینئر قائد اور ممبر اسمبلی مسعود اختر نے کیرانہ چناؤ کی زبردست جیت پر بولتے ہوئے کہاکہ بھاجپائی دلت اور مسلم فرقہ کے ساتھ امتیاز برت رہی ہے جگہ جگہ دلت اور مسلم فرقہ پر حملہ کئے جارہے ہیں ہندو مسلم کو تقسیم کئے جانیکی سازشیں تیار کیجا رہی ہیں ریاستی سرکار ہر مورچہ پر فلاپ ہوچکی ہے اندنوں ویسٹ یوپی کے درجن بھر علاقوں میں چندپولیس افسران اور دبنگ سیاست دانوں کی ملی بھگت کے چرچہ عام ہے جس وجہ سے یہاں عام آدمی کا جینا محال ہوچکا ہے ! گزشتہ دنوں سی بی آئی کی مکمل تفتیش کے بعداناؤ کے بھاجپائی ممبر اسمبلی اور اسکے بھائی اور ساتھیوں کا شرمناک مجرمانہ واقعہ سبھی کے سامنے آچکاہے کمشنری کا نوجوان طبقہ، پسماندہ طبقہ اور کسان الجھنوں سے دوچار ہیں مہنگائی اور بیروزگاری بڑھی ہے! قابل امر ہے کہ بھاجپائی سرپرستی میں پلنے والے شاطروں کے خاتمہ کیلئے ہمارے زون کے تیز ترارڈی آئی جی شرد سچان اور ایس ایس پی ببلو کمار تن تنہاایسے بدمعاشوں، مافیاؤں اور مٹھی بھر مفادپرست سیاست دانوں اور انسے منسلک چند پولیس ملازمین کے ایک بڑے نیٹورک کو ختم کرپانیکی پوزیشن میں نہی ہیں کیونکہ پچھلی سرکاروں کی طرح ہی اس سرکار میں بھی کچھ وزراء کے معاون اس نیٹ ورک کی پشت پناہی کرتے نظر آرہے ہیں کیرانہ چناؤ ہارنیپر بھاجپائی حلقہ مقامی انتظامیہ کو ہی ہار کا ذمہ دار بتا رہاہے اور اپنے رویہ سے آنکھیں پھیرے ہوئے ہیں اصل مین بھاجپائی جبریہ طور سے چناؤ جیتنا چاہتے تھے ایسا نہی ہوسکا تو اپنے ہی افسران کو برا کہتے میں سرگرم ہیں بھاجپائی گروپ کے ذریعہ ان دنوں بیباک طریقہ سے بدمعاشوں کی مدد کیجارہی ہے گزشتہ بارہ ماہ کے دوران ہماری کمشنری میں جس قدر نسلی اور مذہبی جھڑپیں رونماہوئی ہیں ان سبھی کی پشت پر سیاسی آقاؤں کی حکمت عملی کار فرمارہی ہے اس سچائی کو خد ہمارے وزیر اعلیٰ بھی نہی جھٹلا سکے ہیں اور آج بھی یہی نظریہ یہاں کارفرماہے جس وجہ سے امن پسبد شہری اور مظلوم عوام خوف کے سائے میں سانس لینے کو مجبور ہے! قابل ڈی آئی جی، فرض شناس ایس ایس پی ببلوکمار اور زونل آئی جی اس سچائی سے خوب واقف ہیں اسی لئے چاہ کربھی پولیس سخت جدوجہد کے بعد بھی غیر سماجی عناصر کا صفایا کرنے میں ابھی تک ناکام بنی ہوئی ہے! بڑھتے کرائم کے اس اہم اور قابل تشویش ایشو پر آج اہم سے گفتگو کرتے ہوئے دیہات کے ممبر اسمبلی اور کانگریس کے سینئر قائد مسعود اخترسنے صاف کہا ہے کہ ہماری سرکار وں کو بدنام کرنیوالی بھاجپا سرکار جان بوجھ کر جرائم کو چھپارہی ہے کانگریس کے سینئر قائد نے بیخوف بتایاکہ آج کمشنری میں جرائم اور جرائم پیشہ افراد کی باڑھ سی آگئی ہے سرکار جرائم کو قابو کرنے میں ناکام بنی ہوئی ہے ایمانداری سے پولیس افسران کو کام ہی نہی کرنے دیاجارہاہے پولیس کو سختی کرنے اور محکمہ میں موجود بد عنوان اسٹاف کوبھی نہی ہٹایاجارہاہے دیہات حلقہ کے ممبر اسمبلی مسعود اختر نے کہا ہے کہ مغربی اضلاع سہارنپور ، میرٹھ ، شاملی اور مظفر نگر اور بجنورکے درجن بھر علاقوں میں دو ماہ کے دوران قریب قریب تین درجن سے زائد ڈکیتی، آپسی مارپیٹ، قتل، نسلی تشدد،فرقہ وارانہ جھڑپ اور لوٹ پاٹ اور چھوٹی بڑی چوریوں کی سنسنی خیز وارداتیں انجام دیگئی ہیں مگر چاہتے ہوئے بھی ابھی تک پولیس ان واردات میں شامل اصل ملزمان، مافیاؤں، دنگائیوں اور لٹیروں کو گرفتارتک نہی کرسکی ہے جس وجہ ریاست کی نظم و نسق کی حدیں چرمرانے لگی ہیں اور سرکار تماشائی بنی ہے! ! فوٹو۔۔ کانگریسی قائد مسعود اختر
اسلام کے تمان ارکان قابل تعظیم مگر عصری تعلیم بھی ضروری !