جدیدمفسد ِاعتکاف

ڈاکٹر سلیم خان
خلیل خان نہایت منظم ومنضبط زندگی گذارتا تھا۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا پورا پورا خیال رکھتا تھا۔دل نماز روزہ میں لگا رہتا اور دماغ خیر خیرات کے بارے میں سوچتا رہتا۔ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کااحساس اسے وطن عزیز سے دور مسقط لے گیا۔ اس کو سال میں ایک ماہ کی چھٹی ملتی ۔ رمضان آتے ہی اس کا قلب و ذہن ہندوستان لوٹ آتا ۔ وہ اپنے بچوں کے لیے کھلونے ، والدین کے لیے کپڑے اور دوستوں کے لیے تحفے خریدنے لگتا۔ دس رمضان کو اپنے بیوی بچوں کے پاس دہلی آجاتا۔ بیس رمضان کو مسجد میں جاکر معتکف ہوجاتا اور چاندرات کو بال بچوں کے ساتھ اپنے گاوں مرادآباد روانہ ہوجاتا ۔ تعطیلات کے آخری دس ایام والدین اور اعزہ و اقرباء کے ساتھ گزارنے کے بعد بچوں کے ساتھ دہلی لوٹ کر مسقط روانہ ہوجاتا۔ یہ خلیل خان کا برسوں سے معمول تھا جس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی تھی۔
اس سال جب وہ اپنے گاوں سےواپس ہونے لگا تو بوڑھی ماں نے کہا بیٹا بیٹھ تجھ سے کچھ بات کرنی ہے۔
خلیل نے کہا بولو ماں کوئی گستاخی تو نہیں ہوگئی؟
نہیں بیٹے اس بار تو کچھ بدلا ہوا ساتھا ؟
نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہوا ۔ وہی دس ، دس دن کا معمول رہا۔
جی ہاں وہ تو ٹھیک ہے بیٹے لیکن اب کی بار تو اپنے ساتھ یہ کیا لے آیا کہ جب ہمارے ساتھ بیٹھا ہوتا تو تیری نظر اس لگی پر ہوتی اور تو کچھ اور دیکھ رہا ہوتا ۔ جب ہم کچھ بول رہے ہوتے تو اس پر تو کسی اورکی سن رہا ہوتا ۔ تو نے نہ اپنے بیمار ماموں کا حال دریافت کیا اور نہ اپنے چچا کی تعزیت کی ۔ اور تو اور اپنے بھانجے کی نومولود بچے سے ملنے کے لیے بھی نہیں گیا ۔یہ تجھے کیا ہوگیا ؟
خلیل خان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ۔ وہ بولا ماں اگر حیات رہا توپھر ایسا نہیں ہوگا ۔
بیٹے اللہ تیری عمر دراز کرے۔ اگلے سال جب آنا تو اس مصیبت کو ساتھ نہ لانا ۔ اللہ تجھے شاد باد رکھے ۔ ماں نے بیٹے کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دیا۔
واپسی میں بس کے اندرخلیل خان نے دیکھا واٹس ایپ پر ایک ویڈیو آئی ہے جس میں کوئی نامعلوم واعظ کہہ رہا ہے’’اعتکاف کرنے والے کی مثال احرام باندھنے والے کی سی ہے۔وہ کلی طور پر اپنے آپ کو خدا کے حضور ڈال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خدا مجھے تیری قسم ہے کہ میں یہاں سے نہیں ہٹوں گایہاں تک کہ تو مجھ پر رحم کر دے‘‘۔ اس ویڈیو نے خلیل خان کی توجہ اپنے اعتکاف کی جانب مبذول کردی۔ ہر سال اعتکاف کے دوران وہ اللہ تعالیٰ کی ایک ایک نعمت کو یاد کرتا اور اس کا شکر ادا کرتا تھا لیکن اس سال تو یہ عمل شروع ہی نہ ہوسکا ۔ وہ اپنےایک ایک گناہ کو یاد کرکے توبہ و استغفار کرتا تھا اس باروہ موقع بھی نہیں آیا ۔ دوران سال جن لوگوں کی حق تلفی ہوئی ہوتی ان کی معافی تلافی کی فہرست بناتا لیکن اب تو وہ بھی غائب تھی ۔ مسجد میں ہونے کے سبب نمازیں تو وقت پر ادا ہوگئی تھیں لیکن پہلے جیسی خشوع و خضوع کی کیفیت کا فقدان تھا ۔ قرآن مجید بھی ایک بار ختم کردیا تھا لیکن غوروتدبر کا موقع کم ہی نہ ملا تھا ۔ وہ سوچ رہا تھا یہ کیسا روکھا پھیکا اعتکاف تھا ۔ اس کی دعاوں کا سوزو گداز کس نے غارت کردیا تھا؟ خلیل خان کواچانک وہ آیت یاد آگئی جس میں ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کوخانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد تاکید کی گئی کہ ’’ میرے گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو‘‘۔اس نے اعتکاف تو کیا تھا لیکن اپنے دل یعنی اللہ کےاندرونی گھر کو پاک صاف کیا ہی نہیں۔ خلیل خان نے مصمم ارادہ کیا کہ آئندہ جب والدین کی خدمت میں جائے گا یا اپنے رب کے دربار میں حاضری دےگا تو قلب کو پراگندہ کرنے والے فون کو ساتھ نہیں رکھے گا۔