علماء کو چندے کے نام پر ذلیل کرنے والو! کل تمہاری نسل بھیک مانگے گی.

(تحریر : ذوالفقار احمد رضوی سبحانی)

آج چندے کے نام پر علماء سے بدتمیزی کرنے والو! علماء کی گستاخی کرنے والو! سن لو،
مولوی اپنے لئے چندہ نہیں لیتا ہے،
یہ مولوی جو دیوانوں کی طرح دن بھر رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں چکر لگاتا ہے نا،
یہ دیوانگی پیٹ کے لیے نہیں ہے،
یہ اس لئے اتنا دیوانہ رمضان میں بن گیا ہے
تاکہ تم سے پیسے لے کر، تم سے زکاۃ لیکر تمہیں پاک کردے،
تمہارے دل اور مال کی گندگی کو دور کردے،
تمہارے مال کو پاک کردے،
تاکہ تمہاری اولاد حرام کھا کر تمہیں بڑھاپے میں جوتے نا مارے،
مولوی اس لئے تمہارے چوکھٹ پر آتا ہے کہ تم سے زکاۃ لیکر تمہارے مال کو جلنے، ڈوبنے اور برباد ہونے سے بچا لے،
مولوی اس لئے تمہارے پاس آتا ہے کہ تمہیں اللہ کے غضب سے بچا لے،
اور مرتے وقت روح کے نکلنے میں آسانی ہو،
ورنہ سن لو لاکھوں روپیہ لیکر بھی ڈاکٹر نزع کے وقت تمہاری پیاس نہیں بجھا سکے گا،
اور نا ہی ڈاکٹر موت کی آسانی کا کوئی انجکشن لگا سکتا ہے،
اس وقت یہی مولوی جسے تم ذلیل کرنے کی کوشش رہے ہو یہی تمہارے سر پہ کھڑے ہو کر سورہ یاسین پڑھ رہا ہوگا،
اور وہ تمہارا بیٹا جس کے لئے تم بینک بیلنس کر رہے ہو
وہ اس وقت اپنی گرل فرینڈ سے کہہ رہا ہوگا یار پاپا کی روح نہیں نکل رہی ہے،
یہ مولوی اس لئے تمہاری آفس پر آتا ہے
تاکہ تم سے زکاۃ لیکر انہیں پیدا کرے جو تمہارا جنازہ پڑھاسکیں اور تم سڑنے اور بدبودار ہونے سے بچ جاؤ،
علماء کو ذلیل کرنے والو! سن لو
تمہارا پورا خاندان ملکر بھی مرنے کے بعد تمہاری آنکھیں بند نہیں کر سکتا
اس کے لیے بھی مولوی کو بلانا پڑے گا،
اور پھر یہی چندے والا مولوی دعا پڑھ کر تمہاری آنکھیں بند کرے گا،
تمہارا پورا قبیلہ مل کر بھی نا تمہیں کفن پہنا پائے گا، نا غسل دے سکے گا،
اور نا ہی تمہاری صحیح قبر بنا پائے گا،
یہی مولوی جنازے کے وقت تمہارے سب سے زیادہ نزدیک کھڑا ہوگا،
اور تمہاری قبر سے بھی سب بعد میں یہی مولوی ہٹے گا،
جس دن یہ زکاۃ لینے والے مولوی ختم ہو گئے نا
اس دن دجال اور شیاطین تمہیں برباد کر دیں گے،
یہ زکاۃ لینے والے مولوی جسے آج تم ملا کہہ رہے ہو یہ جس دن نہ رہے اس دن سے قیامت کا انتظار کرنا،
اور اس دن یاجوج ماجوج اور دجال کے نکلنے کا دن ہوگا،
اس مولوی کو تم نے سمجھا کیا ہے؟
ارے یہ مولوی تمہارے ایمان و عقیدے کا محافظ ہے جاہلو!،
یہ مولوی کل قیامت میں بھی تمہارے کام آئے گا،
کل قیامت میں اللہ کے حکم سے یہ مولوی تمہاری شفاعت کریگا،
ڈیڑھ سو، دوسو روپے دیکر اتنا تاؤ دکھاتے ہو؟
دو ٹکا دیکر بدلے میں کیا کیا چاہیے تمہیں،
ایک بات تو پکی ہے اس طرح دینے سے تمہیں اللہ کی رضا تو نہیں ملنے والی،
اللہ کی رضا چاہتے ہو تو ہنس مکھ چہرے سے دو،
تم نے دو روپیہ کیا کما لیا اپنے آپ میں نہیں ہو؟
مولوی دیکھ کر ایسا منہ بنا لیتے ہو کہ لگتا ہے اب بس مولوی کو کھا جاؤ گے
رمضان میں تو کچھ سیٹھوں سے اچھے کتے لگتے ہیں جو زبان نکال کر بڑے بھولے انداز میں ہانپ رہے ہوتے ہیں،
اور نئے نئے سیٹھ صاحب ہر وقت مولوی کو ذلیل کرنے کے فراق میں لگے رہتے ہیں
(سب ایسے نہیں ہوتے کچھ نئے نام نہاد مالدار ایسا کرتے ہیں)
سنا تھاکہ کتا اگر کاٹنے کو دوڑائے اور یَا قِطْمِیْر کہہ دو تو کتا نہیں کاٹتا ہے،
مگر یہ سیٹھ نئے نئے مارکیٹ میں آئے ہیں نا جو ابھی چوہے سے چھچھوندر بنے ہیں
یہ بھیا،بابو، بھائی، سیٹھ، جی، جناب صاحب، کہنے کے باوجود چھُو چھُو کر رہے ہیں ماننے کو تیار نہیں ہیں،
خود چوری، ڈکیتی کر کے نئے نئے مالدار بنے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ،
مولوی سب چندہ کر کے گھر بنواتے ہیں دکان لیتے ہیں،
ابے ذلیل کس مولوی کو تونے بنگلہ بناتے دیکھا؟
کس مولوی کو تونے شوپنگ مال بناتے دیکھا؟
کس مولوی کو تو نے مہنگی کار میں چلتے دیکھا؟
وہ (کوئی جھوٹا فراڈی) گھڑیال نما منہ والے پیر ہوگا،
علماء کو چندہ کے نام پر پریشان کرنے والو سن لو
آج تم ہم مولویوں کو چندے کے نام پر ذلیل کرنا چاہتے ہو نا،
کل تمہاری اولادیں بھیک مانگے گیں،
تب یہی چندے والا مولوی اپنی تقریر میں کہے گا کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا
” وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ” یعنی سائل کو نا جھڑکو، جب مولوی یہ تقریر کریگا تب تم بھیک پاؤگے اس چندے والے مولوی کے بغیر تمہیں بھیک بھی نہیں ملے گی،
اگر میری تحریر کسی کو بری لگ جائے تو وہ مجھے چندہ نا دے کوئی بات نہیں،
لیکن کل مسجد کے دروازے پر میں تمہیں ضرور بھیک دلاؤں گا،
اور خود اپنی جیب سے بھی پانچ اور دس کے سکے تیرے کاسے میں ڈال دوں گا
وہ بھی غصہ کئے بغیر اور رسید اور روداد بھی نہیں مانگوں گا،
مولوی کا دل بہت بڑا ہوتا ہے،
اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرمادیا ہے
“وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ”
یعنی یہ وہ دن ہیں جسے ہم لوگوں کے درمیان ادلتےبدلتے رہتے ہیں،
آئے گا وہ دن جب تو ایک مولوی کے چندے سے بنی ہوئی مسجد کے سامنے کھڑا ہوگا،
اور تیرے ہاتھ میں ایک ٹوٹا ہوا کٹورا ہوگا
اور اس میں چند ایک دو روپے کے سکے ہوں گے جسے تو ہلا ہلا کر بجا رہا ہوگا،
تب یہی چندے والا مولوی چمکتے چہرے اور دمکتی آنکھوں کے ساتھ نماز پڑھا کر امام کی حیثیت سے نکلے گا،
اور تیرے کٹورے میں دس یا پانچ روپے ڈال گا،
امام صاحب کو بھیک دیتا ہوا دیکھ کر بہت سے لوگ تجھے بھیک دیں گے اور تیرا کٹورا بھر جائے گا،
تب تجھے اس چندے والے مولوی کی یاد آئے گی،

دوستو! میں نے اس لئے یہ سب کچھ لکھا کہ،
آج بروز منگل ١٩ رمضان المبارک کو میں نے ایک ذلیل کو دیکھا
جو سو روپے کے لئے ایک مولوی کو ڈانٹ رہا تھا اور علماء کی توہین کر رہا تھا جھوٹے الزام لگا رہا تھا،
اس بھیڑئیے پر مجھے بہت غصہ بخدا اس کتے سے میں جیت تو شاید نہیں سکتا تھا،
لیکن اس کے جبڑے میں ضرور پھاڑ سکتا تھا،
میں نے اس نیچ کا گریبان پکڑا لیکن مولوی دل کا بڑا نیک اور رحم دل ہوتا ہے،
اسی مولوی نے ہم دونوں کو الگ کر دیا،
اللہ اس ظالم کو ہدایت عطا فرمائے،
جو خوشدلی سے چندہ دینے والے ہیں انہیں میرا سلام.

🖊… ذوالفقار احمد رضوی سبحانی.