آخری عشرہ اور اعتکاف کی فضیلت

از قلم اجوداللہ پھولپوری

اسلام کی پانچ بنیادی تعلیمات میں رمضان کریم کے روزوں کا شمار بھی کیا گیا ھے
اس ماہ مبارک کی بڑی فضیلتیں احادیث وآثار میں وارد ھوئی ھیں اس بابرکت مہینے میں اللہ جل شانہ کی خاص رحمت بندوں کی طرف متوجہ ھوتی ھے
احادیث کی روشنی میں اس ماہ مبارک کو تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ھے اور ھر عشرہ اپنے اندر ایک منفرد خصوصیت رکھتا ھے
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کی ذکر کردہ روایت میں ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ھے اور دوسرا عشرہ مغفرت کا ھے جبکہ تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا (صحیح ابن خزیمہ، حدیث ۱۷۸۰ بیہقی شعب الایمان) یوں تو رمضان کریم کا پورا مہینہ ھی دیگر مہینوں کے تقابل میں ایک منفرد اور مثالی حیثیت رکھتا ھے لیکن اس مہینہ کے آخر دس دنوں کی فضائل حدیث کی روشنی میں اور بھی زیادہ اھمیت کے حامل ھیں
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم آخر عشرہ میں عبادت و ریاضت میں اپنی محنت کو خوب سے خوب تر فرمادیتے اماں عائشہ فرماتی ھیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مجاھدہ کو آخر عشرہ میں جتنا بڑھا دیتے دیگر دنوں میں اتنا نہیں کرتے (صحیح مسلم ۲۰۰۹)
آخر عشرہ کی جہاں بہت سی خصوصیات ھیں اسمیں سب سے بڑی خصوصیت آخر عشرہ کا اعتکاف ھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک اخیر عشرہ کے اعتکاف کا اھتمام فرماتے تھے
بخاری شریف کی روایت میں ھیکہ ام المؤمنین امی عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ھیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخر عشرہ کا اھتمام فرماتے رھے حتی کی رب کریم نے آپکو اپنے پاس بلالیا (بخاری شریف ۱۸۸۶)
حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت کردہ حدیث میں ھے کہ……آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے اخیر دس دنوں کا اعتکاف فرماتے تھے (بخاری شریف ۱۸۸۵)
اس آخر عشرہ کی خاص باتوں میں ایک بات یہ بھی ھیکہ یہ عشرہ اپنے اندر ایک ایسی رات کو سمیٹے ھوئے ھے جو ھزار راتوں سے بہتر ھے( لَیلَۃُ القَدرِ خَیرُ مِن اَلفِ شَھر ) اور اس بابرکت رات کی عبادت ھزار مہینوں کی عبادت سے بڑھکر ھے اور کیوں نہ ھو یہی تو وہ رات ھے جس رات قرآن کریم جیسی رشد وھدایت سے بھری کتاب بیک وقت آسمان دنیا پر اتاری گئی ( اِنّا اَنزَلنٰهُ فِی لَیلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنّا مُنذِرِین….. قسم ھے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ھے ھم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ھے) سورۃ الدخان
بہر حال آخر عشرہ میں اعتکاف اور کثرت سے عبادت و دعاء کا اھتمام کرنا چاھئے اور اس آخر عشرہ میں اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی کو خوب کثرت سے پڑھنا چاھئے
ایک بات اور جسکا خاص خیال کرنا چاھئے وہ یہ ھے کہ کسی بزرگ اور اللہ والے کی نگرانی میں اعتکاف کا اھتمام کرے( بشرطیکہ محلہ کی مسجد معتکف سے خالی نہ ھو ) خصوصا وہ لوگ جنکا کسی سے اصلاحی تعلق ھو وہ اپنے پیر ومرشد کے نگرانی میں اعتکاف کریں تاکہ عبادتوں میں نکھار پیدا ھو اور آپکی اصلاح بھی ھوتی رھے اسلئے کہ یہ وقت بڑا قیمتی ھے بعض لوگ خاموشی سے اعتکاف کو گزار جاتے ھیں جس سے ایک بڑے حاصل ھوجانے والے نفع سے محرومی ھاتھ آتی ھے
اللہ تعالی ھم سبکو اس اخیر عشرہ سے خوب فائدہ اٹھانے والا بنائے اور اپنی زندگی کو کسی اللہ والے کے زیر سایہ رہ کر گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائے…آمین