شبِ قدر کی حقیقت، علامات اور اعمال

از: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

٭ہیڈ اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی بڑی فضیلت واہمیت ہے۔ یہ عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی، اعتکاف جیسی عظیم عبادت کے ساتھ ساتھ اسی عشرہ کی کسی طاق راتوں میں سے ایک رات “شبِ قدر”، یا “لیلۃ القدر” ہوتی ہے۔ شبِ قدر یا لیلۃ القدر بڑی بابرکت اور فضیلت واہمیت والی رات ہے۔ اس رات کے فیوض وبرکات کثرت سے حدیثوں میں آئے ہیں؛ جب کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں، ایک سورت نازل فرمایا اور اس سورۃ میں اس کی رات کی اہمیت اور فضیلت بیان فرمایا ہے۔ اس سورۃ کا نام سورۃ القدر ہے۔ شب قدر کا مطلب ہے کہ وہ رات جس کی اللہ کے نزدیک قدر ومنزلت ہو۔

“قدر” کا معنی اور مطلب کیا ہے؟ “قدر کے ایک معنی عظمت وشرف کے ہیں۔ …. اس رات کو “لیلۃ القدر” (شبِ قدر) کہنے کی وجہہ اس رات کی عظمت وشرف ہے۔ ابو بکر وراق نے فرمایا کہ اس رات کر لیلۃ القدر اس وجہہ سے کہا گیا کہ جس آدمی کی اس سے پہلے اپنی بے عملی کے سبب کوئی قدر وقیمت نہ تھی، اس رات میں توبہ واستغفار اور عبادت کے ذریعہ وہ صاحب قدر وشرف بن جاتا ہے۔” (معارف القرآن 8/791)

صرف اس امت کو شب قدر ملی:
شب قدر جیسی عظیم الشان اور انوار وبرکات والی رات، نبی اکرم 150ﷺ150 کی فکر کے نتیجے میں، صرف امت محمدیہ کو ملی۔ شبِ قدر اللہ کی جانب سے بہت بڑا احسان ہے جو کسی دوسری امت کے حصے میں نہیں آئی۔ نبی اکرم 150ﷺ150 نے فرمایا : “اللہ سبحانہ وتعالی نے میری امت کو شبِ قدر عطا فرمایا اور اس سے پہلے کسی (امت) کو یہ عطا نہیں فرمایا ۔” (جامع الأحاديث، حدیث: 39912)

موطا امام مالک میں ہے کہ “رسول اللہ150ﷺ150 کو، ان سے پہلے لوگ کی عمریں دکھائی گئیں، یا ان میں سے جو اللہ نے چاہا؛ تو گویا آپ 150ﷺ150 نے اپنی امت کی عمروں کو بہت کم محسوس کیا کہ وہ عمل میں وہاں تک نہیں پہنچ سکے گی، جہاں تک دوسرے لوگ اپنی طویل عمر کی وجہہ سے پہنچے؛ لہذا اللہ نے آپ 150ﷺ150 کو شبِ قدر عنایت فرمائی جو ہزار مہینوں سے (عبادت کے اعتبار سے) بہتر ہے۔” (موطأ امام مالک، حدیث: 1145)

ایک دوسری روایت اس طرح ہے کہ رسول اللہ 150ﷺ150 نے بنی اسرائیل کے ایک ایسے آدمی کا ذکر فرمایا، جس نے اللہ کے راستے میں، ایک ہزار مہینے تک ہتھیار پہنے رکھا؛ تو مسلمان اس سے(بہت) متعجب ہوئے؛ تو اللہ عز وجل نے انّا انزلناہ …. نازل فرمائی کہ ایک شبِ قدر کا عمل، ان ہزار مہینوں سے بہتر ہے جن میں اس آدمی نے فی سبیل اللہ ہتھیار پہنے رکھا۔ (السنن الکبری للبیہقی، حدیث: 8522)

شب قدر کی علامات اور متوقع رات:
اتنی مبارک اور شرف وعزت والی رات کی تاریخ متعین نہیں ہے؛ لیکن اتنا طے ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک رات: “شبِ قدر” ہوتی ہے۔ ایک بار رسول اللہ 150ﷺ150 اپنے صحابہ کرام150رضی اللہ عنہم150 کو شبِ قدر کی اطلاع دینے کے لیے تشریف لا رہے تھے؛ تو آپ 150ﷺ150 نے دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے پایا؛ پھر وہ آپ 150ﷺ150 سے اٹھا لی گئی؛ لہذا شبِ قدر متعین نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ 150ﷺ150 باہر تشریف لائے اور یہ چاہ رہے تھے کہ اپنے صحابہ 150رضی اللہ عنہم150کو شب قدر کے بارے میں بتائیں؛ لیکن (مسلمانوں میں سے) دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے؛ تو رسول اللہ 150ﷺ150 نے فرمایا: “میں اس ارادہ سے نکلا تھا کہ تمھیں شبِ قدر کے بارے میں اطلاع دوں؛ تو دو آدمی آپس میں لڑ رہے تھے؛لہذا مجھ سے اٹھا لی گئی۔ پس تم اسے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔” (شعب الایمان، حدیث: 3406)

ابن عمر 150رضی اللہ عنہما150 فرماتے ہیں کہ رسول اللہ 150ﷺ150 سے شبِ قدر کے بارے میں سوال کیا گیا اور میں سن رہا تھا، آپ 150ﷺ150 نے فرمایا:”یہ ہر رمضان میں ہوتی ہے”۔ (ابوداؤد، حدیث: 1387)

حضرت ابن عمر150رضی اللہ عنہما150 بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ 150ﷺ150 نے فرمایا: “تم شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو!”(مسند ابی داؤد طیالسی، حدیث: 2047)

حضرت عبادہ بن صامت 150رضی اللہ عنہ150 نے رسول اللہ 150ﷺ150 سے شبِ قدر کے بارے میں پوچھا؛ تو آپ 150ﷺ150 نے فرمایا: “وہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے۔ وہ کسی طاق رات میں ہوتی ہے، اکیسویں رات، یا تیئسویں رات یا پچیسویں رات یا ستائیسویں رات، یا انتیسویں رات یا پھر رمضان کی آخری رات میں۔ جس نے ایمان واخلاص کے ساتھ، اس رات قیام کیا، اس کے سابقہ گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی اور اس کی علامات میں سے یہ ہے کہ یہ رات انتہائی راحت بخش، صاف، پرسکون اور خاموش ہوتی ہے، نہ زیادہ گرم ہوتی ہے نہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔ اس میں چاند روشن ہوتا ہے۔ اس رات میں صبح تک کسی ستارے کے لیے ٹوٹنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اس کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے اور اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔ وہ بالکل برابر ہوتا ہے گویا کہ وہ چودھویں رات کا چاند ہے اور اللہ تعالی نے شیطان پر حرام قرار دیا ہےاس دن وہ اس کے ساتھ نکلے۔ (الدر المنثور8/571)

حضرت جابر بن عبد اللہ 150رضی اللہ عنہما150 روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم 150ﷺ150 نے ارشاد فرمایا: “میں نے اس رات (شبِ قدر) کو یکھا ہے۔ یہ آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں ہے اور یہ رات انتہائی پرسکون اور راحت بخش ہے، نہ گرم ہے اور نہ ہی سرد۔ اس میں چاند روشن ہوتا ہے اور اس میں شیطان ظاہر نہیں ہوتا، یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی ہے۔ (الدر المنثور8/571)

کچھ لوگوں کو یہ اشکال ہوتا ہے کہ بسا اوقات چند ممالک میں اسلامی تاریخ مختلف ہوتی ہے، مثلا: ہندوستان میں رمضان کی اکیسویں رات ہوتی ہے؛ تو سعودیہ عربیہ میں رمضان کی بائیسویں رات ہوتی ہے۔ اس صورت میں سوال یہ ہوتا ہےکہ “شبِ قدر” کہاں کی تاریخ کے اعتبار سے ہوگی یا پھر ہر ملک میں، مختلف دنوں میں شب قدر ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی تاریخ “اختلاف مطالع” کے سبب مختلف ملکوں اور شہروں میں، شبِ قدر مختلف دنوں میں ہو، تو اس میں کوئی اشکال نہیں؛ کیوں کہ ہر جگہ کے اعتبار سے جو رات شبِ قدر قرار پائے گی، اس جگہ اسی رات میں شبِ قدر کے برکات حاصل ہوں گے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔” (معارف القرآن 8/794)

شبِ قدر کی عبادت کی اہمیت:
اللہ سبحانہ وتعالی شبِ قدر کی عبادت کے بارے میں، قرآن کریم میں فرماتے ہیں: (ترجمہ) “شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔” ہزار مہینے تیراسی سال اور چار مہینے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ ” ہزار مہینے تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے،اس سے زیادہ شبِ قدر میں، عبادت کرنے کا ثواب ہے۔”(بیان القرآن)

حضرت انس 150رضی اللہ عنہ150 سے مرفوعا مروی ہے کہ لیلۃ القدر میں، جبریل 150علیہ السلام150 فرشتوں کے ایک گروہ میں آتے ہیں اور جس کسی کو عبادت الہی میں مشغول دیکھتے ہیں، اس کے لیے دعاء مغفرت کرتے ہیں۔ (بیان القرآن)

امام ابن ابی شیبہ (رحمہ اللہ) نے حضرت حسن 150رضی اللہ عنہ150 سے بیان کیا ہے کہ میں کسی دن کو کسی دن پر اور کسی رات کو کسی رات پر افضل نہیں جانتا، بجز شبِ قدر کے؛ کیوں کہ (عبادت کے اعتبارسے) یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (الدر المنثور 6/1054)

شبِ قدر میں عبادت:
ہمیں رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں: اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں میں شبِ قدر کی تلاش میں، عبادات میں مشغول رہنا چاہیے۔ شبِ قدر کی تلاش کا مطلب یہ ہے کہ اس رات میں زیادہ ہی تلاوت قرآن کریم، ذکر واذکار، نفل نمازیں اور دوسرے اعمال کرنا چاہیے۔ ان راتوں میں عبادات کے حوالے سے چند احادیث ملاحظہ فرمائے:

حضرت انس 150رضی اللہ عنہ150 نے بیان فرمایا کہ شبِ قدر میں کوئی عمل، صدقہ، نماز اور زکاۃ ہزار مہینوں کے اعمال سے افضل وبہتر ہے۔ (فتح القدیر للشوکانی 5/577)

رسول اللہ 150ﷺ150 نے امّ المومنین حضرت عائشہ 150رضی اللہ عنہا150 کو شب قدر میں دعا مانگنے کا حکم دیا؛ چناں چہ حضرت سفیان ثوری 150رحمہ اللہ150 فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک شبِ قدر میں دعا نماز سے بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نماز جس میں دعا نہ یا کم ہو، اس سے بہتر ہے کہ آدمی دعا میں مشغول رہے۔ ہاں، اگر اس طرح نماز پڑھ رہا ہو کہ اس میں دعا بھی خوب کرے، آیت رحمت پر اللہ تعالی سے رحمت کی دعا کرے، آیت عذاب پر اللہ تعالی کی پناہ چاہے؛ تو پھر یہ نماز بہتر ہے۔ سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ تہجد کی نماز پڑھے، تلاوت کرے اور دعا بھی کرے۔ (لطائف المعارف لابن حجر 204)

حضرت ابو ہریرہ 150رضی اللہ عنہ150 بیان کرتے ہیں کہ نبی 150ﷺ150 نے فرمایا: “مَنْ قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.” (صحیح بخاری، حدیث: 1901) یعنی جس شخص نے شبِ قدر میں ایمان کی حالت میں، اللہ تعالی سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے قیام کیا؛ تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ اس حدیث شریف میں قیام کا لفظ آیا ہے۔ اس قیام کا مطلب یہ ہے کہ اس رات میں تہجد کی نماز ادا کی جائے، دوسرے نفلی عبادات کیے جائیں اور دعا بھی کی جائے، جیسا کہ نبی اکرم 150ﷺ150 نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دعا کرنے کو سیکھایا۔

رمضان کے مہینے میں نبی 150ﷺ150 کا معمول یہ تھا کہ رات میں تہجد کی نماز ادا کرتے، ترتیل کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے، جب کسی آیت رحمت کی تلاوت کرتے؛ تو اللہ تعالی سے اس کا سوال کرتے اور جب کسی آیت عذاب کی تلاوت کرتے تو اس سے اللہ کی پناہ چاہتے۔ اس طرح نبی 150ﷺ150 اپنی عبادات میں نماز، قرات، دعا: سب کو شامل کرتے۔ یہی بہتر طریقہ بھی ہے۔

شبِ قدر کی دعا:

شبِ قدر میں کیا کرنا چاہیے اور کونسی دعا مانگی چاہیے؟ اس حوالے سے امّ المومنین عائشہ 150رضی اللہ عنہا150 فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول 150ﷺ150 آپ بتلائے کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ (فلاں رات) “شبِ قدر”ہے؛ تو میں اپنے رب سے کیا مانگوں اور کیا دعا کروں؟ آپ 150ﷺ150 نے ارشاد فرمایا: “(یہ) دعا مانگو! اللّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي.” (شعب الایمان، حدیث:3427) ترجمہ: ” اے اللہ! آپ بہت معاف کرنے والے ہیں اور آپ معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں؛ لہذا مجھے معاف کردیجیے!”

ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ اس دعا میں اللہ کے نبی150ﷺ150 نے معافی مانگنے کو سیکھایا ہے؛ جب کہ عام طور پر ایک مسلمان پورے رمضان نیک اعمال میں مشغول رہتا ہے؛ پھر بھی “شبِ قدر” میں معافی کا سوال کیوں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نیک اور صالح بندوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ کثرت سے اعمال صالحہ کرنے کے باوجود بھی وہ اپنے اعمال کو اعمال صالحہ نہیں شمار کرتے؛ لہذا خود کو ایک گنہگار سمجھ کر معافی کا سوال کرتے ہیں۔

وہ لوگ بدقسمت ہیں:
رمضان کا پورا مہینہ مسلمانوں کے لیےموسم بہار ہے، جتنا فائدہ اٹھانا چاہے اٹھا سکتا ہے۔ خاص طورپر آخری عشرہ بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں خوب عبادت کرنی چاہیے۔ آخری عشرہ میں بھی طاق راتیں انوار وبرکات سے پُر راتیں ہوتی ہیں، ان کا ایک منٹ بھی ضائع کرنا بدنصیبی اور بدقسمتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ 150رضی اللہ عنہ150 فرماتے ہیں کہ رسول اللہ 150ﷺ150 نے فرمایا: “…. فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ.” (مسند احمد، حدیث: 7148) یعنی اس (رمضان) میں ایک ایسی رات ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے؛ جو اس کے خیر محروم رہا، وہ تحقیق کہ (ہر طرح کے خیر سے) محروم رہا۔”

Shukriyah!

Jazakumullahu Kheiran!

===============================

Khursheed Alam Dawood Qasmi,

Moon Rays Trust School,
Zambia, Africa,
Cell No.:+260978238541