کیرانہ لوک سبھاچناؤ بھاجپا کے وقار کی جنگ

بھاجپائی ۲۰۱۳ جاٹ مسلم فسادکو آج بھی مدعابنانیکی کی فراق میں!

سہارنپور (احمد رضا) ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور انکی سرکار کے تین درجن ممبران لوک سبھا، ممبران اسمبلی جاٹ مسلم فساد ۲۰۱۳ کی یاد تازہ کراتے ہوئے جاٹ ووٹ کو سیکولر اتحاد سے ددور کرنے کی اپنی پلاننگ میں مصروف ہیں وہیں اجیت سنگھ اپنی ساکھ بچانیکے لئے جاٹ ووٹ سے اپنے امیدوار کو جتانے کی پر زور اپیل کرتے گھوم رہے ہیں ! ملک کے وزیر اعظم نے جاٹ لیڈران کو یہ چناؤ جیتنے کیلئے شاملی اور کیرانہ حلقہ میں بھیج کر جاٹ ووٹ کو بھاجپاکے لئے متحد رکھنے اور لوک دل اتحاد کی مسلم امید وار تبسم حسن کو ہرانے کے لئے سرگرم بنایا ہواہے تیز دھوپ اور جسم کو جلانے والی لوؤں کی پرواہ کئے بنا یہاں کا جاٹ ، مسلم اور دلت آج تک کو ساتھ ساتھ ہے ۲۸ مئی کو پولنگ ہی بتائی گی کہ سیکولر فرنٹ فتح یاب رہتاہے یا سرکاری مشینری کچھ بھی کہیں مگر یہ سچائی ہے کہ اس اہم رتبہ والی سیٹ پر ریاست کے د رجن بھر منسٹر، ایم پی اور ایم ایل اے کیرانہ کا ضمنی لوک سبھا چناؤ جیتنے کی تمام سیدھی الٹی تدابیر میں جٹیہیں مگر سیکولر متحدہ محاذ کی امیدوار تبسم حسن ابھی تک سبھی کے ساتھ مل جل کر چناؤ میدان میں ڈٹی ہوئی ہیں سبھی مذاہب کے لوگ تبسم حسن کے ساتھ کھڑے ہیں وہیں بھاجپائیہ امیدوار سابق وزیر حکم سنگھ کی بیٹی مرگانکنا سنگھ سرکار اور انتظامیہ کی پیٹھ پر چڑھ کر چناؤ جیت نے کی تیاریوں میں مصروف ہیں!
یہ بھی اہمیت کے حامل ہیکہ پھول پور، گورکھپور اور کرناٹک اسمبلی ہاؤس میں اپنی ہار کے بعد بھاجپائی مشینری اس الیکشن کو ہر صورت جیتنا چاہ رہی ہے اگر آج بھاجپائی یہ سیٹ گنواتے ہیں تو پھر یوپی سے چناؤ جیتنا بھاجپاکیلئے ۲۰۱۹ میں بیحد مشکل ہوجائیگا اس لئے یہ الیکشن ہر نظریہ سے بہت اہم بنا ہوا ہے یہ سچ ہے کہ یہاں مقابلہ بہت سخت مگر مسلم اور دلت ووٹ کے اتحاد پر منحصر ہے اگر یہ ووٹ متحد رہا تو بھاجپائی امیدوار کی جیت مشکل ہوگی اگر بھاجپائی مشینری گزشتہ فساد کی یاد تازہ کراکر جاٹ ووٹ یکجہ کرنے میں کامیاب رہی ساتھ ساتھ مسلم اور دلت ووٹ بھی تقسیمہوگیا تب ایسی پوزیشن میں سیکولر اتحاد کی امیدوار تبسم حسن کا جیتنا مشکل ہوجائیگا تقسیم کرو کی حکمت عملی پر ہی بھاجپائی قیادت زور لگا رہی ہے! کل ملکر کیرانہ چناؤ جیتنا بھاجپائی سرکار کیلئے ناک کا سوال بن چکاہے وزیر اعلیٰ یہاں از خد الیکشن کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں انکی یہاں گنگوہ اور شاملی میں دو بڑی چناؤی ریلیاں ہو چکی ہیں یہاں سبھی نے گزشتہ فساد اور جاٹوں کی گرفتاری کوہی بڑھا چڑھاکر پیش کیا لاکھوں بے گھر مسلمانوں کا کسی نے ذکر ہی نہی کیا اکھلیش یادو ، مایاوتی اور راہل کو نشانہ بناکر جاٹ ووٹ کو اپنے ساتھ لانیکی اپیل کی گئی ہے ،مگر اپوزیشن قائدین کی نیک نیتی کے باعث دلت اورمسلم کا ووٹ ابھی بھی متحد رہکر بھاجپائی قیادت کو کامیاب نہی ہونے دے رہاہے مرکز سے لیکر ریاستی سرکار کی اعلیٰ ٹیم اس چناؤ میں زور آزماں ہیں، اجیت سنگھ، اکھلیش یادو، مایاوتی اور راہل کی حکمت عملی سے ہم یہ چناؤ ہر صورت جیت رہے ہیں بقول سوشل قائد اور کیرانہ کے ممبر اسمبلی ناہید حسن کے نمائندے چودھری مبارک حسن اور کانگریسی رہنما اشوک سینی کا کہناہیکہ کیرانہ لوک سبھا چناؤکیلئے ووٹرس کو اپنی جانب یکجا کرنیکا عمل شروع ہوچکاہے اب ایک ہی دن پولنگ میں باقیبچا ہے!
قابل ذکر ہے کہکیرانہ کی اس اہم سیٹ پر کانگریس ، بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی ہی لمبے عرصہ سے بھاجپائی امیدواروں کو مات دیتی آئی ہے جب جب یہاں کا سیکولر، دلت اور مسلم ووٹ چھہ فیصد بھی تقسیم ہوا ہے تب تب یہاں اس اہم سیٹ پر بھگوا امید وار ہی کامیاب ر ہاہے اگر ووٹرس دانش مندی کا مظاہرہ کریں تو اس پار بھی یہاں بھاجپائی امیدوار کو کم از کم پچاس ہزار سے زائد ووٹ کے تناسب سے ہرایا جانا کافی سہل ہو سکتا ہے! مبارک حسن نے بتایا کہ مگر ابھی جاٹ ووٹرس کی دلچسپی یہاں کم نظر آرہی ہے جبکہ چودھری اجیت سنگھ جاٹ ووٹرس کو ساتھ لانے میں بیحد سرگرم بنے ہیں جاٹوں کی سستی کے سبب یہاں اتحاد کی مضبوط جھلک نظر نہی آرہی ہے اسی لئے بھاجپائی سینہ تانے گھوم رہے ہیں! دوسری جانب کیرانہ سیٹ سے متعلق بھاجپائی دعوے داری کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس نے صاف اشارہ دیا کہ جھوٹے نعروں اور وعدوں سے بھاجپاکیلئے اب الیکشن جیتنا ممکن نہی ہوگا عوام متحد رہکر بھاجپاکیخلاف پولنگ کو مجبور کئے گئے ہیں ان دنوں ہر جانب مہنگائی اور بیروزگاری کی مار سے ہر تیسرا گھر مشکلات سے دوچار ہے سرکار عوام کیلئے کچھ بہتر اقدام کر نیکو کسی بھی طرح راضی نہی ہے یہاں کا کسان، نوجوان تعلیم یافتی طبقہ، مسلم طبقہ اور دلت طبقہ برسوں سے انتظامیہ اور پولیس کے عتاب کا شکار بنا ہے سب کچھ جانتے ہوئے بھی مرکزی اور ریاستی سرکار چپ ہے اسلئے سبھی لوگ بھاجپائی قیادت سے تنگ ہیں!کیرانہ کا ضمنی لوک سبھا الیکشن کا آخری مرحلہ طے ہونے جا رہاہے موقع پرست اور فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینا ضروری ہے اسلئے ہر صورت ووٹ کا استعمال ملت اسلامیہ کے لئے ضروری ہے جگہ جگہ مسلم ووٹ کے بکھراؤ اور بربادی کے پلان بنائے جا رہے ہیں اگر ہم نے اس بار تھوڑی بھی لاپرواہی برتی تو پھر موقع ہاتھ سے نکل جانا طے ہے متحد رہکر ایک امیدوار کو ووٹ دینا ہم سبھی کا اہم ذمہ ہے اپنی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ بہکاوے میں آکر ووٹ کو تقسیم سے بچائیں خد بھی متحد ہوں اور دیگر کوبھی ایکجا رکھنے کی کوشش ضروری ہے!