“فلاحی تنظیمیں معاشرے کے لئے سیاستدانوں سے زیادہ کارآمد” : ملند دیورا ‘سیوا’ کا ۲۳ تنظیموں اور افراد کو بہترین کارکردگی کے لئے ایواڈ تفویض

ممبئی . ممبئی کی معروف فلاحی تنظیم سیوا نے کل رات اسلام جمخانہ میں شہر کے مختلف حصوں میں مختلف سماجی اور فلاحی امور سے وابستہ ۲۳ تنظیوں اور افراد کو ان کی بہترین کارکردگی کے لئے ایوارڈ تفویض کیا اس میں ایک لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی شامل ہے. اس پرشکوہ تقریب کی صدارت انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی کر رہے تھے جبکہ مہمان خصوصی سابق مرکزی وزیر ملند دیورا تھے۔ ملند دیورا نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں سیاست میں آنے کا خواہش مند نہیں تھا بلکہ سماجی تنظیم کے ذریعے خدمت خلق کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں مانتا ہوں کہ فلاحی تنظیمیں معاشرے کے لئے سیاستدانوں سے زیادہ کارآمد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، سیاست دانوں اور فلاحی تنظیموں کا بہت صحت مند رشتہ ہوتا ہے، تینوں ایک دوسرے کے بنا ادھورے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تینوں ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ کسی ایک کو دوسرے سے اہم نہیں بتایا جا سکتا. انہوں نے حالات حاظرہ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں بچے، جوان، بوڑھے، خواتین، ملازمت پیشہ اور صنعت کار سب پریشان ہیں اور انہیں موجودہ حکومت کی حقیقت کا علم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام تبدیلی چاہتی ہے اور ہر کانگریسی کا یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں کو کانگریس پارٹی کی جانب متوجہ کرے۔ انہوں نے کانگریسی رہنماؤں کو سماجی تنظیموں کے سربراہان کو بھی اپنی جانب متوجہ کرنے کا مشورہ دیا. انہوں نے تمام ایوارڈ یافتگان کو مبارک باد دی اور انہیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ تقریب کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے بی جے پی کی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اقلیتی اداروں سے داخلوں کا حق چھین لیا ہے اور اس وجہ سے ہمارے ادارے داخلوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے افسوس جتایا کہ اتنی بڑی ناانصافی کے خلاف کسی مسلم ایم ایل اے نے آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ ہی ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ انہوں نے تحریک آزادی میں انجمن اسلام متحرک کردار کا ذکر کرتے ہوئے یقین دلایا کہ جب جب ملک میں خراب حالات آئیں گے انجمن اسلام اپنا فرض پورا کرے گا۔ انہوں نے سیوا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ جن سماجی تنظیموں کو اعزاز دے رہی ہے اس سے ان تنظیموں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ سابق ایم ایل اے اور سیوا کے صدر یوسف ابراہانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ علاقائی پارٹیاں وہیں انتخاب لڑیں جہاں ان کا اثر ہو ورنہ اس کا نقصان پورے ملک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہان جو کرتے اور کہتے ہیں اس سے لا محالہ بی جے پی کو فائدہ پہونچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمینٹ کے الیکشن میں ملند دیورا کی شکست دراصل ساؤتھ ممبئی کے عوام کی شکست ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمان ریل میں کھانا کھانے سے گھبراتا ہے کہ نہ جانے کیسے اس کی جان پر بن آئے۔ انہوں نے کہا کہ غلط ہاتھوں میں اقتدار سونپنے کے ذمہ دار وہ سماجی تنظیمیں یا افراد ہیں جنہوں نے عوام کی رہنمائی نہیں کی اور اپنے کو اس تحریک سے الگ رکھا۔ انہوں نے کہا کے بی جے پی کی حکومت نے جو خرابی پیدا کر دی ہے اسے سدھارنے میں پچاس سال لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن تنظیموں یا افراد نے اچھے کام کئے ہم ان کی پزیرائی کر رہے ہیں۔ سابق ایم ایل اے پرنسپل سہیل لوکھنڈوالا نے اسٹیج پر مولانا ابوالکلام آزاد کی تصویر نہ ہونے پر چٹکی لیتے ہوئے اپنی بات شروع کی اور کہا کہ مولانا ہندو مسلم اتحاد کے اتنے بڑے علمبردار تھے کہ انہوں نے اس کی قیمت پر آزادی تک کو ٹھکرانے کی بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کا حصول ہندو مسلم اتحاد کے بنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے مرلی دیورا کو سیکیولر رہنما بتاتے ہوئے ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔موجودہ صورت حال میں ملک میں تفرقہ پیدا کرنے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے سہیل لوکھنڈوالا نے کہا کہ مسلمان دستور سے کھلواڑ برداشت نہیں کرے گا اور اس کی مخالفت کرنے اور اس کے خلاف نبرد آزما ہونے میں یہ صف اول میں نظر آئے گا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ جو لوگ اچھے دن کا پروپیگنڈہ کر رہے تھے ان کے برے دن اور ملک کے اچھے آنے والے ہیں۔ انہوں نے سماجی خدمتگاروں کی پزیرائی کے لئے سیوا اور اس کے عہدے داران کو مبارک باد دی. سیوا کے عہدہ دار اور فلاحی تنظیم رائٹ وےکے صدر سعید خان نے سیوا کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم برسوں سے ملی، سماجی اور فلاحی امور سے وابستہ ہے اور آج ایسی تنظیموں اور افراد کا اعزاز کرنے جا رہی ہے جو مستقل مزاجی سے اور الگ الگ طریقوں سے سماجی خدمات میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا جب کوئی پریشانی آتی ہے تو عام لوگ یا تو سیاست دانوں سے یا پھر این جی اوز سے رجوع ہوتے ہیں۔ تقریب میں ملند دیورا نے ممبئی امن کمیٹی، ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلس، بے بی گارڈن ریسیڈینٹس ایسوسی ایشن، سینٹر فار ایڈ کئیر اینڈ کیور آف کینسر، ڈاکٹر امجد پٹھان، ایکتا فورم، ایک ذریعہ فاّنڈیشن، حسن بادامی(اسنوکر کھلاڑی)، جاوید شروف، خدمت چیریٹیبل ٹرسٹ، کمہارواڑہ ویلفیر ٹرسٹ، محیب علی ناصر، محمد حسین پٹیل، پیر سید حاجی علی ٹرسٹ، رائٹ وے، رحمانی گروپ، رضائے غوث ویلفئیر سوسائٹی، سہیادری کو آپریٹیو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹیڈ، سدبھاّنا ایسوسی ایشن، ایڈوکیٹ قاضی مہتاب اور محمد ارباز فاونڈیشن کو ایوارڈ تفویض کیا اور عبدالغنی سارنگ کی گلپوشی کی اس کے علاوہ سابق ایم ایل اے حاجی بشیر موسیٰ پٹیل کو لائف ٹائم ایچیومینٹ ایوارڈ سے نوازا۔ دیگر مہمانان میں مولانا ظہیر الدین خان، مولانا خالد اشرف، مولانا ظہیر عباس رضوی، مولانا اعجاز کشمیری، ایم ایل اے امین پٹیل، بھائی جگتاب، مشتاق انتولے، عبدالرؤف سومار وغیرہ شامل تھے۔اس تقریب تقسیم انعامات کی نظامت مشترکہ طور پر ڈاکٹر قاسم امام اور ماہنامہ گل بوٹے کے مدیر فاروق سید کر رہے تھے