اسلام کی عظمت کا نشاں ہے قرآن، عرفان کی اک جوئے رواں ہے قرآن

ڈاکٹر سلیم خان
رمضان کے بادل چھا رہے ہیں ۔ قرآن کی باد نسیم چل پڑی ہے۔ سوشیل میڈیا میں امت کی غفلت دور کرنے کی خاطر زبوں حالی کا رونا تورویا جاتا ہے لیکن ملت میں قرآن فہمی کےحوالے سے قا بل قدر بہتری کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ پہلے لوگ صرف تلاوت قرآن پر اکتفاء کرتے تھے پھر تراجم مقبول عام ہوئےاور اب مساجد میں دروس قرآن کا اہتمام بھی شروع ہو گیاہے۔ عوام الناس ان مجالس میں بڑے پیمانےپر شریک ہونے لگے ہیں۔ تمام مکاتب فکر اس امر میں متفق ہوگئے ہیں کہ قرآن مجید پر عملدرآمد کے لیے اس الہامی ہدایت کو سمجھنا لازم ہے۔ اس تناظر میں ڈاکٹر محی الدین غازی کی کتاب ’قرآن کا پیغام عمل ‘بڑی اہمیت کی حامل ہے اور رمضان مبارک سے پہلے اس کا چھپ کر بازار میں آجانا خوش آئند ہے ۔
گزشتہ سال رمضان میں ڈاکٹر غازی کی زبانی قرآن مجید کا مختصر اور جامع خلاصہ ویڈیوکی شکل میں مقبول ہوالیکن امت میں ویڈیو سے استفادہ انفرادی سطح تک محدود ہوتا ہے۔ اجتماعی حیثیت سے قرآن مجید کی معرفت کے لیے پڑھنے اور سننے کا رواج ہے۔ رمضان میں تراویح کے بعد بہت ساری مساجد اور محفلوں میں ترجمہ یا خلاصہ کی سماعت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مذکورہ قرآنی بیداری کے طفیل اس سال ڈاکٹر صاحب کی تصنیف شعبان میں چھپ کر منظر عام پر آئی اور دیکھتے دیکھتے اس کے ۵ ہزار نسخے فروخت ہوگئے ۔ یہ خلاصہ چونکہ بہت مختصر ہے اس لیےایک پارہ کے مضامین پڑھنے میں صرف ۵ تا ۶ منٹ درکار ہوتے ہیں ۔ سہل اور سلیس زبان کے سبب یہ بہ آسانی ہر خاص و عام کی سمجھ میں آجاتا ہے۔
ہدایت پبلشرز نےاردو کے دوسرے ایڈیشن کے ساتھ اس کا آسان ہندی ترجمہ بھی شائع کردیا ۔ اس ترجمہ میں عام فہم ہندی کےالفاظ تو موجود ہیں مگر ثقیل ہندی سے گریز کرکے اردو کی مدد لی گئی ہے۔ امت کا ایک بڑا طبقہ اردو زبان جانتا ہے مگر رسم الخط سے ناواقف ہے ۔ وہ شدید خواہش کے باوجود اردو کتابوں محروم رہ جاتا ہے لیکن اب یہ مجبوری دورہو گئی ہے۔ امید ہے اس کتاب کے توسط سے عشاء یا دوسری نمازوں کے بعد وسیع پیمانے پر لوگ روزآنہ کی تراویح میں پڑھی جانے والی آیات کا مطلب جان سکیں گے ۔ قرآن مجید کا ایک حق تو اس کی تلاوت ہے لیکن اس کے احکامات کی عمل آوری ، اس کی دعوت کو پھیلانے اور اس کی بنیاد پر دنیا کے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے اس کے معنیٰ و مفہوم کا ادراک ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر ماہِ قرآن میں یہ کتاب قرآن مجید کے عملی پیغام کو سمجھنے اور اس پر عملدرآمد میں کتاب مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
عمارت کی اقامت میں ستون اور چھت دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ستون کے بغیر کوئی چھت نہیں اٹھائی جاسکتی لیکن چھت کے بنا کوئی عمارت مکمل نہیں ہوتی ۔ ان دونوں کے درمیان چولی دامن کارشتہ ہے۔ اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پر قائم ہوتی ہے۔ رسول اکرم ﷺنے فرمایا ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے :گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنا ،زکوٰۃ ادا کرنا،بیت اللہ کا حج کرنا،اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘(بخاری و مسلم )۔ یہ پانچ ارکان اگراسلام کی عمارت کے ستون ہیں تو سوال یہ ہے کہ اس کی چھت کیا ہے؟ دین اسلام کی چھت قرآن کریم ہے جس کے سائے میں اہل ایمان اپنی نجات کا سامان کرتے ہیں ۔ علامہ اقبال اپنے شہرہ آفاق فارسی شعر میں فرماتے ہیں ’اگر تم مسلمان كى زندگی گزارنا چاہتے ہو تو قرآن كريم كو زندگی کا حصہ بنائے بغير ايسا ممكن نہیں‘؎
گر تو می خواہی مسلماں زیستن نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن