کانگریس کے مینی فیسٹو کے خلاف داخل عرضی سپریم کورٹ نے مستردکی انتخابات کے اس اسٹیج پر مداخلت نہیں کرسکتے: عد الت عظمیٰ 

نئی دہلی10 مئی : کرناٹک انتخابات میں کانگریس کے مینی فیسٹو کے خلاف داخل عرضی کو سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں دخل دینے سے انکارکر دیاہے۔ سپریم کورٹ نے کہاہے کہ انتخابات ہونے میں48 گھنٹے باقی ہیں اور اس اسٹیج پر کسی بھی طرح مداخلت نہیں کی جاسکتی ہے۔درخواست گزار چاہیں توانتخابات کے بعدقانونی امدادحاصل کرسکتے ہیں۔ عوامی نمائندہ ایکٹ1951کے تحت شکایت کر سکتے ہیں۔ وہیں جسٹس ڈی وائی چندر چوڈ نے کہاہے کہ اس انتخابی منشور میں مذہب کی بنیادپرنہیں بلکہ کمیونٹی میں سماجی و اقتصادی سطح پر کمزور لوگوں کے لئے کہا گیا ہے۔ شری رام سینا کے پرمود متالک کی درخواست پرسپریم کورٹ نے سماعت کی۔بدھ کو کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ انتخابات سے ٹھیک پہلے کسی ایسی درخواست کو سماعت کے لئے کس طرح قبول کر سکتے ہیں، جس میں امیدوار کے الیکشن لڑنے پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔واضح ہو کہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو ہدایات دے کہ وہ کانگریس سے مطالبہ کرے کہ کہ آپ انتخابی منشور سے اس حصہ کو حذف کریں جہاں کانگریس نے مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگا ہے۔ ساتھ ہی کانگریس کی منظوری منسوخ کی جائے اور کانگریس کے تمام امیدواروں کے انتخاب لڑنے پر پابندی لگا دی جائے ۔