محمد علی جناح کی تصویر کے بہانے حامد انصار ی کو بنایاجارہاہے نشانہ :ملی کونسل

نئی دہلی ۔5مئی (پریس ریلیز)
علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں جو تنازع چل رہاہے کیا واقعی اس کا تعلق بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویرسے ہے یا اس کے پس پردہ کچھ اور کہانی ہے اور اس کا حقیقی تعلق محمد جناح کے بجائے سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کو لائف ٹائمز ممبر شپ دیئے جانے سے ہے جن کے تئیں حکمراں جماعت کا رویہ ہمیشہ مخالفانہ رہاہے۔یہ سوال ایک پریس ریلیز میں آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔انہوںاس کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ اگست 2017 میں جب راجیہ سبھا میں حامد انصاری کو الوداعیہ پیش کیاجارہاتھا اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کیلئے چبھتی ہوئی زبان استعمال کرتے ہوئے کہاتھاکہ جو بے چینی تھی اب وہ ختم ہوجائے گی ۔دس سالوں تک آپ نے خود کو آئین اور دستور کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ،اس دوران بہت ساری بے چینی رہی تاہم اب وہ نہیں ہوگی ،سوچ وفکر کے اعتبار سے آزادی مل جائے گی ۔ان کے جانشیں بننے والے موجودہ نائب صدر جمہوریہ وینکیانائیڈو نے بھی کچھ ایسی زبان استعمال کی تھی ۔ گذشتہ کچھ دنوں وزیر اعظم نریند ر مودی نے رمضان کے تعلق سے اچھی بات کی تھی لیکن ایسالگتاہے کہ وہ آر ایس ایس اور ہندو یووا واہنی کے لوگوں کو ہضم نہیں ہوسکاہے اور یہ اس لئے ان کے لوگو ںنے ایک مرتبہ پھر غنڈہ گردی اور دہشت گردی شروع کردی ہے ۔
ڈاکٹر عالم نے کہاکہ حکمراں جماعت کی طرف سے ہمیشہ حامد انصاری کو نشانہ بنانے کی کو شش کی گئی ،2017 میں انہوں نے کیرلامیں منعقد انسی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو استڈیز کی ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی اس موقع پر بھی فرقہ پرست طاقتوں او رحکمراں جماعت کے لوگوں نے ان پر تنقید کی ۔ڈاکٹر عالم نے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے حامد انصاری صاحب وائس چانسلر رہے ہیں،دس سالوں تک وہ نائب صدر جمہوریہ رہے ہیں ۔حامد انصاری اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کے 18 لوگ مجاہد آزادی رہے ہیں ۔ملک کی سیاست ،خلافت تحریک اور کانگریس سے ان کے خاندان کا گہرارابطہ رہاہے ۔ملک کی ترقی میں ان کی اور خاندان کی نمایاں خدمات ہے ۔اسی کے سبب انہیں اے ایم یو اسٹوڈینٹ یونین کی لائف ٹائم ممبر شپ سے نوازاگیا ہے جو فرقہ پر ستوں کیلئے ناقابل برداشت ہے اور محمد علی جناح کی تصویر کے بہانے انہیں ٹارگٹ کیاجارہاہے۔
ڈاکٹر عالم نے کہاکہ ہندو یووا وہنی کا مسلح حملہ کرنا ملک کے لاءاینڈر کو چلینج کرنا ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک طلبہ پر پولس کا لاٹھی چلاناہے ۔انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ مسلح حملہ آوروں کو گرفتار کرکے اس پورے معاملے کی جانبدارنہ تحقیق کرائی جائے ۔