جسٹس راجندر سچر ،مولانا محمد سالم قاسمی ۔مولانا عبد الوہاب خلجی اور ایڈوکیٹ محمد سالار خان کی وفات پر تعزیتی اجلاس کا انعقاد علماءودانشوران نے ان شخصیات کی وفات کو ملک وملت کا عظیم خسارہ بتاتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا

نئی دہلی ۔4مئی (پریس ریلیز)
اقلیتوں کے معروف بہی خواہ آنجہانی جسٹس راجندر سچر ،دارلعلوم وقف دیوبند کے سابق مہتمم مولانا محمد سالم قاسمی ،آل انڈیا ملی کونسل کے سابق اسسٹنٹ جنرل سکریٹری مولانا عبد الوہاب خلجی اور ایڈوکیٹ محمد سالار خان رکن جنر ل اسمبلی آئی او ایس کی وفات پر آج انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز اور آل انڈیاملی کونسل کے اشتراک سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی آئی ٹی ہال میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیاگیا ۔اجلاس کی صدارت کا فریضہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمد ی نے انجام دیا۔اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہاکہ چاروں شخصیات اہم اور خوبیوں کی پیکر تھی ،ان کی اچھائیوں کو اپنی زندگی میں ہمیں لانے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔انہوں نے جسٹس راجندر سچر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اپنی سچر رپوٹ میں مسلمانوں کی تعلیمی زوال کا جائزہ پیش کیاتھا جس سے سبق لیتے ہوئے ہمیں اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ تعلیم ہی کامیابی کی راہ ہے ۔آئی او ایس کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے چاروں شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہا آنجہانی جسٹس سچر کو آئی او ایس سے خصوصی لگاﺅ تھا ۔آئی او ایس کی 25 ویں سالگرہ پر سب سے بہتر خط مولانا محمد سالم قاسمی نے لکھاتھااس دور قحط الرجال میں شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتے تھے۔مولانا عبد الوہاب خلجی ملت کے بہی خواہ عالم دین تھے ۔ایڈوکیٹ سالار خان جس شعبہ میں گئے وہیں انہوں نے اپنی صلاحیت سے جگہ بنالی ۔ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اس پر موقع پر یہ بھی اعلان کیاکہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز سے شائع ہونے والی میگزین مطالعات کا خصوصی شمارہ مولانا محمد سالم قاسمی اور مولانا عبد الوہاب خلجی پر شائع کیاجائے گا جبکہ انگریزی جرنل کا خصوصی شمارہ جسٹس راجندر سچر اور ایڈوکیٹ سالاخان کی حیات وخدمات پر شائع کیاجائے گا ۔
اقلیتی کمیشن کے چیرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہاکہ مولانا محمد محمد سالم قاسمی یکتائے روزگا اورمنفر دشخصیت کے حامل تھے ،مولانا عبد الوہاب خلجی وسیع النظر او ر کشاد ہ دل عالم دین تھے ۔انہوں نے جسٹس راجند اور ایڈوکیٹ سالار خان کی خصوصیات کابھی تذکرہ کیا ۔پروفیسر اختر الواسع وائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسیٹی جودھپور نے اپنے خطاب میں تمام شخصیات کی وفات کو ایک عظیم خسارہ بتاتے ہوئے کہاکہ یہ شخصیتیں اپنی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔امارت شرعیہ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہاکہ گذشتہ تیس سالوں سے مختلف ملی تنظیموں سے میرا رابطہ ہے کبھی کسی سے میں نے مولانا محمد سالم قاسمی کے بارے میں کسی طرح کی برائی نہیں سنی ،وہ وسیع فکر کے حامل اور متفق علیہ شخصیت تھے ۔ایسی شخصیات کی خدمات اور خوبیوں کا تذکرہ ہوتے رہنا چاہیئے انہو ں نے دیگر شخصیات کو بھی خراج عقیدت پیش کیا ۔جسٹس راجند رسچر کے پوتے اکشے بھنڈاری نے کہاکہ آنجہانی جسٹس سچر ہمیشہ دوسروں کی بھلائی اور خیر خواہی چاہتے تھے ،ملک کے حالات کے بارے میں بہت فکر مند رہتے تھے ۔سب آخری کتاب جوانہوں نے پڑھی ہے وہ بابری مسجد کی شہادت سے متعلق تھی ۔مولانا عبد الحمید نعمانی نے کہاکہ آدمی اپنے کام اور کردار کی وجہ ہمیشہ زندہ رہتاہے مولانا محمد سالم قاسمی بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ مولانا محمد سالم قاسمی پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ قاری طیب صاحب کے بعد مہتم بننا چاہتے تھے جو غلط ہے اور میں اس کا عینی شاہد ہوں کہ ایسی کوئی بھی بات نہیں تھی ۔مولانا عبد الوہاب خلجی کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ صدیقی نے والد محترم کی وفات گہرے رنج وغم کا اظہا ر کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی بہت مشفق اور مخلص تھے ،ہمشیہ دوسروں کی مددکرنا چاہتے تھے ۔ڈاکٹر منظور عالم اور اس جیسی شخصیات کا بارہاہم نے ابو کی زبان سے نام سناہے ۔ایڈوکیٹ سالار محمد خان کی بیٹی محترمہ عالیہ سالار نے اپنے والد کی موت پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ نیک سیرت اور سبھی بے پناہ محبت کرنے والے تھے ،بڑی سے بڑی بات کو مسکرا کر ٹال دیتے اور کہتے سب ہوجائے گا ۔ہمیشہ مسکراتے ۔جس سے ایک مربتہ ملتے اس کو اپنا بنالیتے ۔ڈاکٹر قاسم رسول الیا س نے تمام شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایڈوکیٹ سالا رمحمد خان کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ وکالت کا پیشہ اپنانے کے بجائے اگر صحافت میں موجود رہتے تو آج ان کا قد بہت اونچا ہوتا۔اس موقع پر پروفیسر خواجہ عبد المنتقم ۔مولاناعبد اللہ طارق ۔ڈاکٹر شیس تیمی ۔مولانا خلجی کے بیٹے محمد خلجی ۔ایڈوکیٹ فیروز غازی ۔مولانا عمر گوتم سردار چھجن جی وغیرہ نے بھی خطاب کیا ۔قبل ازیں مولانا اطہر ندوی کی تلاوت سے اجلاس کا آغاز ہوا ۔نظامت کا فریضہ ڈاکٹر نکہت حسین نے انجام دیاجبکہ آل انڈیا ملی کونسل دہلی یونٹ کے صدر پرویز میاں خان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔واضح رہے کہ اس اجلاس میں آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر مولانا حکیم عبد اللہ مغیثی کی بھی شرکت ہونی تھی لیکن علالت کے باعث وہ نہیں آسکی تاہم ان کا پیغام پڑھ کر سنایاگیاجس میں انہوں نے چاروں شخصیات کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ۔جسٹس راجندر سچر ،مولانا محمد سالم قاسمی ۔مولانا عبد الوہاب خلجی اور ایڈوکیٹ محمد سالار خان کی وفات پر تعزیتی اجلاس کا انعقاد
علماءودانشوران نے ان شخصیات کی وفات کو ملک وملت کا عظیم خسارہ بتاتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا
نئی دہلی ۔4مئی (پریس ریلیز)
اقلیتوں کے معروف بہی خواہ آنجہانی جسٹس راجندر سچر ،دارلعلوم وقف دیوبند کے سابق مہتمم مولانا محمد سالم قاسمی ،آل انڈیا ملی کونسل کے سابق اسسٹنٹ جنرل سکریٹری مولانا عبد الوہاب خلجی اور ایڈوکیٹ محمد سالار خان رکن جنر ل اسمبلی آئی او ایس کی وفات پر آج انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز اور آل انڈیاملی کونسل کے اشتراک سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی آئی ٹی ہال میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیاگیا ۔اجلاس کی صدارت کا فریضہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمد ی نے انجام دیا۔اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہاکہ چاروں شخصیات اہم اور خوبیوں کی پیکر تھی ،ان کی اچھائیوں کو اپنی زندگی میں ہمیں لانے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔انہوں نے جسٹس راجندر سچر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اپنی سچر رپوٹ میں مسلمانوں کی تعلیمی زوال کا جائزہ پیش کیاتھا جس سے سبق لیتے ہوئے ہمیں اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ تعلیم ہی کامیابی کی راہ ہے ۔آئی او ایس کے چیرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے چاروں شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہا آنجہانی جسٹس سچر کو آئی او ایس سے خصوصی لگاﺅ تھا ۔آئی او ایس کی 25 ویں سالگرہ پر سب سے بہتر خط مولانا محمد سالم قاسمی نے لکھاتھااس دور قحط الرجال میں شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتے تھے۔مولانا عبد الوہاب خلجی ملت کے بہی خواہ عالم دین تھے ۔ایڈوکیٹ سالار خان جس شعبہ میں گئے وہیں انہوں نے اپنی صلاحیت سے جگہ بنالی ۔ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اس پر موقع پر یہ بھی اعلان کیاکہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز سے شائع ہونے والی میگزین مطالعات کا خصوصی شمارہ مولانا محمد سالم قاسمی اور مولانا عبد الوہاب خلجی پر شائع کیاجائے گا جبکہ انگریزی جرنل کا خصوصی شمارہ جسٹس راجندر سچر اور ایڈوکیٹ سالاخان کی حیات وخدمات پر شائع کیاجائے گا ۔
اقلیتی کمیشن کے چیرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہاکہ مولانا محمد محمد سالم قاسمی یکتائے روزگا اورمنفر دشخصیت کے حامل تھے ،مولانا عبد الوہاب خلجی وسیع النظر او ر کشاد ہ دل عالم دین تھے ۔انہوں نے جسٹس راجند اور ایڈوکیٹ سالار خان کی خصوصیات کابھی تذکرہ کیا ۔پروفیسر اختر الواسع وائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسیٹی جودھپور نے اپنے خطاب میں تمام شخصیات کی وفات کو ایک عظیم خسارہ بتاتے ہوئے کہاکہ یہ شخصیتیں اپنی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔امارت شرعیہ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہاکہ گذشتہ تیس سالوں سے مختلف ملی تنظیموں سے میرا رابطہ ہے کبھی کسی سے میں نے مولانا محمد سالم قاسمی کے بارے میں کسی طرح کی برائی نہیں سنی ،وہ وسیع فکر کے حامل اور متفق علیہ شخصیت تھے ۔ایسی شخصیات کی خدمات اور خوبیوں کا تذکرہ ہوتے رہنا چاہیئے انہو ں نے دیگر شخصیات کو بھی خراج عقیدت پیش کیا ۔جسٹس راجند رسچر کے پوتے اکشے بھنڈاری نے کہاکہ آنجہانی جسٹس سچر ہمیشہ دوسروں کی بھلائی اور خیر خواہی چاہتے تھے ،ملک کے حالات کے بارے میں بہت فکر مند رہتے تھے ۔سب آخری کتاب جوانہوں نے پڑھی ہے وہ بابری مسجد کی شہادت سے متعلق تھی ۔مولانا عبد الحمید نعمانی نے کہاکہ آدمی اپنے کام اور کردار کی وجہ ہمیشہ زندہ رہتاہے مولانا محمد سالم قاسمی بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ مولانا محمد سالم قاسمی پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ قاری طیب صاحب کے بعد مہتم بننا چاہتے تھے جو غلط ہے اور میں اس کا عینی شاہد ہوں کہ ایسی کوئی بھی بات نہیں تھی ۔مولانا عبد الوہاب خلجی کی صاحبزادی ڈاکٹر عائشہ صدیقی نے والد محترم کی وفات گہرے رنج وغم کا اظہا ر کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی بہت مشفق اور مخلص تھے ،ہمشیہ دوسروں کی مددکرنا چاہتے تھے ۔ڈاکٹر منظور عالم اور اس جیسی شخصیات کا بارہاہم نے ابو کی زبان سے نام سناہے ۔ایڈوکیٹ سالار محمد خان کی بیٹی محترمہ عالیہ سالار نے اپنے والد کی موت پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ نیک سیرت اور سبھی بے پناہ محبت کرنے والے تھے ،بڑی سے بڑی بات کو مسکرا کر ٹال دیتے اور کہتے سب ہوجائے گا ۔ہمیشہ مسکراتے ۔جس سے ایک مربتہ ملتے اس کو اپنا بنالیتے ۔ڈاکٹر قاسم رسول الیا س نے تمام شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایڈوکیٹ سالا رمحمد خان کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ وکالت کا پیشہ اپنانے کے بجائے اگر صحافت میں موجود رہتے تو آج ان کا قد بہت اونچا ہوتا۔اس موقع پر پروفیسر خواجہ عبد المنتقم ۔مولاناعبد اللہ طارق ۔ڈاکٹر شیس تیمی ۔مولانا خلجی کے بیٹے محمد خلجی ۔ایڈوکیٹ فیروز غازی ۔مولانا عمر گوتم سردار چھجن جی وغیرہ نے بھی خطاب کیا ۔قبل ازیں مولانا اطہر ندوی کی تلاوت سے اجلاس کا آغاز ہوا ۔نظامت کا فریضہ ڈاکٹر نکہت حسین نے انجام دیاجبکہ آل انڈیا ملی کونسل دہلی یونٹ کے صدر پرویز میاں خان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔واضح رہے کہ اس اجلاس میں آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر مولانا حکیم عبد اللہ مغیثی کی بھی شرکت ہونی تھی لیکن علالت کے باعث وہ نہیں آسکی تاہم ان کا پیغام پڑھ کر سنایاگیاجس میں انہوں نے چاروں شخصیات کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ۔