للن اور کلن کی واپسی

ڈاکٹر سلیم خان
للن سنگھ اور کلن خان برطانیہ کے کنگ ایڈورڈ کاٹن مل میں ملازم تھے ۔ سستے ٹکٹ کے چکر میں دونوں نے امارات ائیر لائنس سے سفر کا ارادہ کیا۔ اب انہیں دبئی تک ایک ساتھ آنا تھا اور وہاں سے جہاز بدل کر اپنی اپنی منزل مقصود یعنی دہلی اور لاہور جانا تھا ۔ ایمگریشن پر للن بلاروک ٹوک نکل گیا مگر کلن کی بڑی تفتیش ہوئی ۔ غصے میں لال پیلا کلن جب ہوائی جہاز کے دروازے پر پہنچا تو للن کے چہرے پرایک سانولی سی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔
للن سنگھ بولا بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے؟
ارے ان بدمعاشوں کا کیا ؟ جس کو چاہے جتنا من میں آئے پریشان کریں ۔ میرا تو دماغ ہی خراب ہوگیا ۔ دوچارسوال اور کرتا تو میں اس کا سر پھوڑ دیتا۔
یہی تو بات ہے ۔ دراصل تم پاکستانی لوگ بدنام بہت ہو،اسی لیے یہ گورےپریشان کرتے ہیں ۔ ۔ ہمیں دیکھو بلا چوں چرا چھوڑ دیا ۔
کلن خان کو غصہ آگیا وہ بولا تم بے ضررکیڑے مکوڑے ان ظالموں کی حمایت کرتے ہو؟ اچھا بتاو میں نے تمہارےیا اس کے ساتھ کون سی بدسلوکی کی ؟
تم ویسے تھوڑی نا ہو جیسا کہ یہ سمجھتے ہیں۔ ساری دنیا میں چونکہ پاکستانی مشکوک ہیں اس لیے گیہوں کے ساتھ گھن پس جاتا ہے؟نمک پاشی جاری تھی۔
اچھا! اگر ان کی نظر میں ہندوستانی اتنے ہی اچھے ہیں تو انہوں نےہمارے صادق خان کے بجائے کسی ساجن کمار کو لندن کا میئر کیوں نہیں بنادیا ؟
للن جھینپ کر بولا ارے بھائی وہ کیا ہے کہ لیبر پارٹی نے مسلمانوں کو بہلانے کے لیے اسے نامزد کر دیا ۔ ویسے بھی وہ اب کاہے کا پاکستانی ہے ؟
وہ پاکستانی نہیں ہے؟ ابھی تو پچھلے دنوں اس نے پاکستان جاکر کہا تھا کہ مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر ناز ہے اور تم کہتے ہو وہ پاکستانی نہیں ہے۔
ارے بھائی صادق خان جیسا اگر ایک آدھ پاکستانی نکل آئے تو کیا اس سےملک کی تصویر بدل جاتی ہے؟
اچھاشاید تم برطانیہ کا وزیرداخلہ ساجد جاویدکو نہیں جانتے وہ بھی پاکستانی نژاد ہے ۔ وزیر داخلہ کا مطلب جانتے ہو وزیر اعظم کے بعد دوسرے نمبر کا سب سے بڑا عہدہ ہے۔ میں تو کہتا ہوں کوئی بعید نہیں کہ کل کوئی پاکستانی برطانیہ کا وزیراعظم بن جائے۔ کیایہاں کوئی ہندوستانی اتنا معروف ہے ؟
للن پھنس گیا تھا اس نے دماغ پر زور ڈال کر کہا کیوں وجئے ملیا اور للت مودی بھی تو برطانیہ میں رہتے ہیں اور اخبارات میں انہیں چرچا ہوتا ہے ؟
ارے یہ کس کا نام لے لیا تم نے،ویسے تو میہول چوکسی بھی برطانیہ میں چھپا ہوا ہے۔ یہ لوگ بھگوڑے ہیں تمہاری پولس ان کا تعاقب کررہی ہے۔
اس سے کیا ہوتا ہے ؟ تمہارا الطاف حسین بھی تو برطانیہ میں روپوش اور پاکستان میں مطلوب ہے۔
کلن نے زور دار قہقہہ لگا کر کہا یہ بھی خوب رہی ۔ پاکستانی حکومت اور عوام دونوں الطاف حسین کوغدار مانتے ہیں ۔ وہ کاہے کا پاکستانی ؟
اچھا اب پھنس گئے تو الطاف حسین کو غیر بنا دیا۔ یہ تو بہت غلط بات ہے۔
میں نے کیوں یہ تو اس کا اپنا کارنامہ ہے۔اس نے ڈیلاس کے اندر جلسۂ عام میں کہا تھا ’’ ہم نے برطانیہ کے بہکاوے میں آکرپاکستان بنانے کی غلطی کردی ۔ ہم اپنے خلاف سازش کو نہیں سمجھ سکے اور وہ اس کا حصہ بن گئے اس لیے میں بھارت کے ہندوؤں سے معافی مانگتا ہوں ۔ اس بدبخت نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں امریکہ اور اسرائیل میرا ساتھ دیں۔ اس غدار نے آئی ایس آئی سے لڑنے کی اور پاکستان کے تباہ و برباد ہونے کی دعا بھی کی ۔
للن بولا ارے بھائی ایسی بات کوئی پاکستانی کیسے کہہ سکتا ہے؟ مجھے تو یہ اس غریب کے خلاف پروپگنڈا لگتا ہے۔
بھائی اس کوتو پورا پاکستان را ٓ کا ایجنٹ سمجھتا ہے ۔ تم مانو یا نہ مانو وہ پاکستان میں للت مودی اور نیرو مودی کی طرح مطلوب ہے۔ وہ تو تمہارا آدمی ہے۔
للن سنگھ بولا یار تم تو یونہی برا مان گئے ۔سرمایہ دار اور سیاستداں نہ ہمارے ہیں نہ تمہارے یہ بس ایک دوسرے کہ ہمدردو غمگسار ہیں ۔کلن نے تائید کی