صلہ رحمی اور ہمارا رویہ

محمد حامد ناصری
استاذ/ دارالعلوم الایمان کنشاسا کونگو افریقہ

اسلام خاندان کوبہت ہی اہمیت دیتاہےاوراس کےدرمیان محبت واحترام کی تاکیدکرتاہےاوراس خاندان کی اساس اوربنیاد والدین ہیں۔
اس لیے آج کی میری تحریر کا موضوع صلہ رحمی کے عنوان پر ہے
“صلۃ” عربی لفظ ہے، اس کا مادہ “وصل” ہے جس کے معنی ایک چیز کو دوسری سے ملانے، جوڑنے، اور پہنچنے کے ہیں۔ الوصل ضد الهجران، وصل يصِلُ وصلاً وَصِلَةً، وصل ما بينه وبينهم من علاقة القرابة والصهر. قال أبو الأثير: وهي كناية عن الإحسان إلى الأقربين من ذوي النسب والأصهار، والعطف عليهم، والرفق بهم، والرعاية لأحوالهم۔(لسان العرب،9/322 ملخصا) اور معجم الوسیط میں ہے: وصل حبله بفلان. وصل برَّهُ. وصل أعطاه مالاً. وصل رحِمَه: أحسن إلى الأقربين إليه من ذوي النصب، والأصهار الخ۔(معجم الوسيط،1037) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ “صلۃ” کے معنی ملانے کے ہیں اور یہ قطع،وھجر کی ضد ہے، اور مفہوم یہ ہے کہ نسبی خاندان یا سسرالی خاندان والوں کے ساتھ احسان کرنا، ان کا خیال کرنا اور ان کی رعایت کرنا۔
اللہ پاک قرآن کریم میں مؤمنین کی مدح کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے:
﴿وَالَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ وَ یَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ ﴾ (الرعد،21)
ترجمہ: اور یہ ایسے ہیں کہ الله نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم کیا ہے ان کو قائم رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور سخت عذاب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ (بیان القرآن) ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: من صلة الأرحام والإحسان إليهم وإلى الفقراء والمحاويج وبذل المعروف….الخ (ابن کثیر)
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مؤمن جس طرح حقوق اللہ کا دل سے احترام کرتا ہے، اسی طرح بندوں کے حقوق بھی پوری فیاضی سے ادا کرے اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتارہے، رشتے ناطے کو نہ کاٹے، قطع تعلق نہ کرے بل کہ اللہ کے حکم کے مطابق اس کو جوڑے۔
سورۃ بقرہ میں قطع رحمی ، رشتہ داروں اور اہل قرابت سے برا سلوک کرنے کی مذمت اور کفار کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
﴿الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِهٖ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِهٖ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ اُولٰٓئِکَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ﴾ (البقرۃ،27)
ترجمہ:
(الله تعالیٰ) اس مثال سے کسی کو مگر صرف بے حکمی کرنیوالوں کو جو کہ توڑتے رہتے ہیں اس معاہدہ کو جو الله تعالیٰ سے کرچکے تھے اس کے استحکام کے بعد اور قطع کرتے رہتے ہیں ان (تعلقات) کو کہ حکم دیا ہے الله نے ان کو وابستہ رکھنے کا اور فساد کرتے رہتے ہیں زمین میں پس یہ لوگ (پورے) خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ (بیان القرآن، البقره،27)
اور سورۃ الرعد میں اللہ پاک نے ان تعلقات کے توڑنے والے کو لعنت کا مستحق قرار دیا ہے، اللہ فرماتاہے: ترجمہ: ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی، اور ان کے لیے اس جہاں میں خرابی ہوگی۔(بيان القرآن،الرعد،25)
یہی نہیں بلکہ انسان جو مال بہت محنت سے کماتا ہے، جس کیلیے رات ودن ایک کردیتا ہے، مرنے مارنے کو تیار رہتا ہے، اس مال میں بھی اللہ پاک نے رشتہ داروں کا حق رکھا ہے، اور تنبیہ بھی فرمائ ہے کہ اللہ پاک تمہارے سارے اعمال سے باخبر ہے اس لیے، انفاق میں بخل مت کرنا۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: ﴿ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِهٖ عَلِیۡمٌ ﴾ (البقرۃ،215)
ترجمہ:
لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کیا کریں۔ آپ فرمادیجیے کہ جو کچھ مال تم کو صرف کرنا ہے سو ماں باپ کا حق ہے اور قرابت داروں کا اور بے باپ کے بچوں کا اور محتاجوں کا اور مسافر کا اور جونسا نیک کام کروگے سو الله تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے (وہ اس پر ثواب دیں گے)۔ (بیان القرآن)
ایک جگہ اللہ پاک نے دین اسلام کی خوبی اور غرض اصلی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ صرف قبلہ کی طرف منہ کرنا نہ کرنا ہی دین نہیں ہے بل کہ دین کچھ اور بھی ہے،اور وہ اللہ، روز قیامت، فرشتے، کتب سماویہ اور نبیوں پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں کا مال کے ذریعہ سے مدد کرنا بھی ہے، جو آیت میں مذکور ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتاہے:
﴿لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ (البقرۃ،177) ترجمہ: کچھ سارا کمال اسی میں نہیں (آگیا) کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یا مغرب کو، لیکن (اصلی) کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص الله تعالیٰ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (سب) کتب (سماویہ) پر اور پیغمبروں پر اور مال دیتا ہو اس (الله) کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور (بے خرچ) مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکوٰة بھی ادا کرتا ہو اور جو اشخاص (ان عقائد و اعمال کے ساتھ یہ اخلاق بھی رکھتے ہوں کہ) اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہوں جب عہد کرلیں اور وہ لوگ مستقل رہنے والے ہوں تنگدستی اور بیماری میں اور قتال میں یہ لوگ ہیں جو سچے (کمال کے ساتھ موصوف) ہیں اور یہی لوگ ہیں جو (سچے) متقی (کہے جاسکتے) ہیں۔(بیان القرآن)
اور ایسا نہیں ہے کہ ان لوگوں کی مدد کرنے، اقارب کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا کوئ فائدہ نہیں، بلکہ اللہ پاک دنیا اور آخرت میں اس کا بدلہ عطا فرماتا ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ” مَنْ سَرَّہُ أَنْ یُبْسَطَ لهُ فِي رِزْقِهِ، أوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ”۔ (البخاري،2067كتاب البيوع، بابٌ: من أحب البسط في الرزق) ’’ جو چاہے کہ اس کے رزق میں فراخی ہواور اس کی عمر زیادہ ہو تو وہ اہل قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔ ‘‘ (بخاری،2067)
ہر شخص اگر اپنے عزیز و اقارب ، کی معاشی ضرورتوں کا خیال کرنے لگے، ان کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن وسلوک کا برتاؤ کرنے لگے تو معاشرہ میں امن ، بھائی چارگی کی فضا قائم ہوجائے۔ آج کل قطع رحمی عام ہوچکی هے، عزیز واقارب کے آپسی تعلقات معاندانہ ہیں، ہمیں رشتہ جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، توڑنے کا نہیں، یہ زندگی بہت مختصر ہے ۔ اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے ۔ اگر ہم یہ لمحہ بھی قطع رحمی کی نظر کردیتے ہیں، تو پھر دنیا میں کرنے کے لیے کیا بچے گا، آخرت میں ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن دشمنوں کو معاف فرمادیا تھا، طائف میں ہونے والے ظلم پر صبرکیا، اور ان کے لیے دعاء فرمائ ، ہم اپنے ہی بھائیوں سے لڑتے جھگڑتے ہیں، ان سے قطع تعلق کرتے ہیں۔ سالوں گزر جاتے ہیں، آپس میں ملتے ہی نہیں، اور اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنالیتے ہیں، اپنی انا کی بجائے اگر ہم اللہ ورسول ﷺ کا حکم پیش نظر رکھیں ، تو ہر گھر دوسرے گھرکے لیے نمونہ اور آئیڈیل بن جائے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: “لاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ أنْ يَهْجُرَ أَخاهُ فَوْقَ ثَلاثِ لَيالٍ، يَلْتَقِيَانِ، فَيُعْرِضُ هَذا، وَيُعْرِضُ هَذا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلامِ”۔ (النخاري،6077كتاب الأدب، باب الهجرة)
ترجمه:کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ تین رات سے زیادہ اپنے بھائی سے ترک تعلق کرے یعنی یہ کہ جب ایک دوسرے سے سامنا ہو تو ایک منہ پھیر کر ایک طرف ہوجائے اور دوسرا دوسری طرف چل دے اور دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔
قطع رحمی سے خود صلہ رحمی نے بھی پناہ چاہی ہے، اور اللہ نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ جو اس کو جوڑے گا اللہ بھی اس کو جوڑے گا، اور جو اس کو توڑے گا اللہ بھی اس کو توڑے گا، چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: “خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ، فَأَخَذَتْ بِحَقْوِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ لَهُ : مَهْ ؟ قَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ. قَالَ : أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ، وَأَقْطَعَمَنْ قَطَعَكِ ؟ قَالَتْ : بَلَى يَا رَبِّ. قَالَ : فَذَاكِ “. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : { فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ }. (البخاري،4830 كتاب التفسير، بابٌ: وتقطعوا أرحامكم)
ترجمه: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:” اللہ پاک نے مخلوق پیدا کیا، جب اس کی پیدائش سے فارغ ہوا، تو رحم نے کھڑے ہوکر، رحم کرنے والے اللہ کے دامن میں پناہ لی، تو اللہ پاک نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے؟ عرض کیا آپ کے پاس قطع تعلق سے پناہ چاہتا ہوں، ارشاد ہوا: کیا تو اس پر راضی نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اس کو جوڑوں، اور جو تجھ کو توڑے میں بھی اس کو توڑدوں، عرض کیا: کیوں نہیں میرے رب، اللہ پاک نے فرمایا: ایسا ہی ہوگا”۔ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت ہڑھ لو(جس میں قطع رحمی کے عذاب کا ذکر ہے) { فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ }. (سورہ محمد،22)
سورہ محمد کی اس آیت کے بعد اللہ پاک نے فرمایا: ترجمہ: یہ (فساد مچانے والے اور قطع تعلق کرنے والے) وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے اپنی رحمت سے دور کردیا، پھر ان کو بہرا کردیا، ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔ (بیان القرآن، محمد،23)
معلوم هوا کہ صلہ رحمی سے پورا معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوجاتاہے، اور قطع رحمی سے معاشرہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس پر اللہ پاک کی پھٹکار ہوتی ہے، اللہ پاک اس سے اپنا تعلق توڑ لیتا ہے، اس لیے ہر مسلمان کو اپنی سطح پر صلہ رحمی کی ایک مثال قائم کرنا چاہیے، تاکہ ایک منظم مسلم معاشرہ کا قیام عمل میں آسکے۔
آج جس معاشرہ کی ہمیں ضرورت ہے وہ نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کو ہمیں بنانا ہوگا۔ اپنے اندرجھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہمیں اپنے بھائ بہنوں، والدین، اور قرابت داروں سے کتنی انسیت ہے، ضرورت کے وقت ہم ان کے کام آتے ہیں یا نہیں، بیماری میں ان کی عیادت، موت وحیات کی غمی وخوشی میں ان کے ساتھ شرکت، مالی پریشانی کے وقت ان کی مدد، کیوں کہ انہیں اوقات میں ایک انسان کو دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے۔
اللہ پاک نے دنیا میں موقع دیا ہے، موت کے ساتھ یہ موقع بھی ختم ہوجائے گا۔ اگر آپ صلہ رحمی کرنا چاہتے ہیں تو دل کھول کر کریں، اس کا پھل رب تعالی عطا فرمائےگا، کیا ہم صلہ رحمی کا ادنی درجہ بھی نہیں کرسکتے جس میں نہ کوئی خرچ آتا ہے، اور نہ دشوار گزار مراحل سے گزرنا ہوتا ہے، صرف دو میٹھے بول کسی دوسرے مسلمان کی ناراضگی ختم کرسکتی ہے، کم از کم اس پر عمل کرلیا جائے، اور اگر اس سے زیادہ کی گنجائش ہمارے پاس ہے تو آپس میں تحفے تحائف لینے دینے سے بھی عداوتیں ختم ہوتی ہیں، اور محبتیں بڑھتی ہیں، اس پر عمل کیا جائے۔ معاف کرنا بھی بہت بڑا کام ہے، ہمارا پروردگار ہماری بڑی سے بڑی غلطیاں معاف کردیتا ہے، پھر ہم اپنے بہن بھائی، اعزہ واقارب سے ویسا سلوک کیوں نہیں کرتے، انہیں معاف کیوں نہیں کرتے؟
چند دنوں بعد رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے ایسے موقع پر اپنے بھائ بہنوں اور رشتہ داروں کی دلجوئ اور مدد کی ضرورت ہے۔ وہ مستحق ہوں یا نہ ہوں ہر حال میں ان کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا حکم ہے۔ یتامی ومساکین کا نمبر تیسرا اور چوتھاہے پہلا نمبر والدین پھر خاندان والے اقربا کاہے پھر کوئ اور ہے۔ اس لیے ان کی طرف پہلے توجہ دی جائے۔
اللہ پاک ہماری ھدایت فرمائے، قطع رحمی کرنے سے ہماری حفاظت فرمائے، اور صلہ رحمی کرنے والا بنائے، آمینصلہ رحمی اور ہمارا رویہ

محمد حامد ناصری
استاذ/ دارالعلوم الایمان کنشاسا کونگو افریقہ

اسلام خاندان کوبہت ہی اہمیت دیتاہےاوراس کےدرمیان محبت واحترام کی تاکیدکرتاہےاوراس خاندان کی اساس اوربنیاد والدین ہیں۔
اس لیے آج کی میری تحریر کا موضوع صلہ رحمی کے عنوان پر ہے
“صلۃ” عربی لفظ ہے، اس کا مادہ “وصل” ہے جس کے معنی ایک چیز کو دوسری سے ملانے، جوڑنے، اور پہنچنے کے ہیں۔ الوصل ضد الهجران، وصل يصِلُ وصلاً وَصِلَةً، وصل ما بينه وبينهم من علاقة القرابة والصهر. قال أبو الأثير: وهي كناية عن الإحسان إلى الأقربين من ذوي النسب والأصهار، والعطف عليهم، والرفق بهم، والرعاية لأحوالهم۔(لسان العرب،9/322 ملخصا) اور معجم الوسیط میں ہے: وصل حبله بفلان. وصل برَّهُ. وصل أعطاه مالاً. وصل رحِمَه: أحسن إلى الأقربين إليه من ذوي النصب، والأصهار الخ۔(معجم الوسيط،1037) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ “صلۃ” کے معنی ملانے کے ہیں اور یہ قطع،وھجر کی ضد ہے، اور مفہوم یہ ہے کہ نسبی خاندان یا سسرالی خاندان والوں کے ساتھ احسان کرنا، ان کا خیال کرنا اور ان کی رعایت کرنا۔
اللہ پاک قرآن کریم میں مؤمنین کی مدح کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے:
﴿وَالَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ وَ یَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ ﴾ (الرعد،21)
ترجمہ: اور یہ ایسے ہیں کہ الله نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم کیا ہے ان کو قائم رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور سخت عذاب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ (بیان القرآن) ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: من صلة الأرحام والإحسان إليهم وإلى الفقراء والمحاويج وبذل المعروف….الخ (ابن کثیر)
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مؤمن جس طرح حقوق اللہ کا دل سے احترام کرتا ہے، اسی طرح بندوں کے حقوق بھی پوری فیاضی سے ادا کرے اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتارہے، رشتے ناطے کو نہ کاٹے، قطع تعلق نہ کرے بل کہ اللہ کے حکم کے مطابق اس کو جوڑے۔
سورۃ بقرہ میں قطع رحمی ، رشتہ داروں اور اہل قرابت سے برا سلوک کرنے کی مذمت اور کفار کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
﴿الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِهٖ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِهٖ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ اُولٰٓئِکَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ﴾ (البقرۃ،27)
ترجمہ:
(الله تعالیٰ) اس مثال سے کسی کو مگر صرف بے حکمی کرنیوالوں کو جو کہ توڑتے رہتے ہیں اس معاہدہ کو جو الله تعالیٰ سے کرچکے تھے اس کے استحکام کے بعد اور قطع کرتے رہتے ہیں ان (تعلقات) کو کہ حکم دیا ہے الله نے ان کو وابستہ رکھنے کا اور فساد کرتے رہتے ہیں زمین میں پس یہ لوگ (پورے) خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ (بیان القرآن، البقره،27)
اور سورۃ الرعد میں اللہ پاک نے ان تعلقات کے توڑنے والے کو لعنت کا مستحق قرار دیا ہے، اللہ فرماتاہے: ترجمہ: ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی، اور ان کے لیے اس جہاں میں خرابی ہوگی۔(بيان القرآن،الرعد،25)
یہی نہیں بلکہ انسان جو مال بہت محنت سے کماتا ہے، جس کیلیے رات ودن ایک کردیتا ہے، مرنے مارنے کو تیار رہتا ہے، اس مال میں بھی اللہ پاک نے رشتہ داروں کا حق رکھا ہے، اور تنبیہ بھی فرمائ ہے کہ اللہ پاک تمہارے سارے اعمال سے باخبر ہے اس لیے، انفاق میں بخل مت کرنا۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: ﴿ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ قُلۡ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ فَلِلۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ ابۡنِ‌السَّبِیۡلِ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِهٖ عَلِیۡمٌ ﴾ (البقرۃ،215)
ترجمہ:
لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کیا کریں۔ آپ فرمادیجیے کہ جو کچھ مال تم کو صرف کرنا ہے سو ماں باپ کا حق ہے اور قرابت داروں کا اور بے باپ کے بچوں کا اور محتاجوں کا اور مسافر کا اور جونسا نیک کام کروگے سو الله تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے (وہ اس پر ثواب دیں گے)۔ (بیان القرآن)
ایک جگہ اللہ پاک نے دین اسلام کی خوبی اور غرض اصلی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ صرف قبلہ کی طرف منہ کرنا نہ کرنا ہی دین نہیں ہے بل کہ دین کچھ اور بھی ہے،اور وہ اللہ، روز قیامت، فرشتے، کتب سماویہ اور نبیوں پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں کا مال کے ذریعہ سے مدد کرنا بھی ہے، جو آیت میں مذکور ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتاہے:
﴿لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ (البقرۃ،177) ترجمہ: کچھ سارا کمال اسی میں نہیں (آگیا) کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یا مغرب کو، لیکن (اصلی) کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص الله تعالیٰ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (سب) کتب (سماویہ) پر اور پیغمبروں پر اور مال دیتا ہو اس (الله) کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور (بے خرچ) مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکوٰة بھی ادا کرتا ہو اور جو اشخاص (ان عقائد و اعمال کے ساتھ یہ اخلاق بھی رکھتے ہوں کہ) اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہوں جب عہد کرلیں اور وہ لوگ مستقل رہنے والے ہوں تنگدستی اور بیماری میں اور قتال میں یہ لوگ ہیں جو سچے (کمال کے ساتھ موصوف) ہیں اور یہی لوگ ہیں جو (سچے) متقی (کہے جاسکتے) ہیں۔(بیان القرآن)
اور ایسا نہیں ہے کہ ان لوگوں کی مدد کرنے، اقارب کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا کوئ فائدہ نہیں، بلکہ اللہ پاک دنیا اور آخرت میں اس کا بدلہ عطا فرماتا ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ” مَنْ سَرَّہُ أَنْ یُبْسَطَ لهُ فِي رِزْقِهِ، أوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ”۔ (البخاري،2067كتاب البيوع، بابٌ: من أحب البسط في الرزق) ’’ جو چاہے کہ اس کے رزق میں فراخی ہواور اس کی عمر زیادہ ہو تو وہ اہل قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔ ‘‘ (بخاری،2067)
ہر شخص اگر اپنے عزیز و اقارب ، کی معاشی ضرورتوں کا خیال کرنے لگے، ان کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن وسلوک کا برتاؤ کرنے لگے تو معاشرہ میں امن ، بھائی چارگی کی فضا قائم ہوجائے۔ آج کل قطع رحمی عام ہوچکی هے، عزیز واقارب کے آپسی تعلقات معاندانہ ہیں، ہمیں رشتہ جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، توڑنے کا نہیں، یہ زندگی بہت مختصر ہے ۔ اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے ۔ اگر ہم یہ لمحہ بھی قطع رحمی کی نظر کردیتے ہیں، تو پھر دنیا میں کرنے کے لیے کیا بچے گا، آخرت میں ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن دشمنوں کو معاف فرمادیا تھا، طائف میں ہونے والے ظلم پر صبرکیا، اور ان کے لیے دعاء فرمائ ، ہم اپنے ہی بھائیوں سے لڑتے جھگڑتے ہیں، ان سے قطع تعلق کرتے ہیں۔ سالوں گزر جاتے ہیں، آپس میں ملتے ہی نہیں، اور اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنالیتے ہیں، اپنی انا کی بجائے اگر ہم اللہ ورسول ﷺ کا حکم پیش نظر رکھیں ، تو ہر گھر دوسرے گھرکے لیے نمونہ اور آئیڈیل بن جائے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: “لاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ أنْ يَهْجُرَ أَخاهُ فَوْقَ ثَلاثِ لَيالٍ، يَلْتَقِيَانِ، فَيُعْرِضُ هَذا، وَيُعْرِضُ هَذا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلامِ”۔ (النخاري،6077كتاب الأدب، باب الهجرة)
ترجمه:کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ تین رات سے زیادہ اپنے بھائی سے ترک تعلق کرے یعنی یہ کہ جب ایک دوسرے سے سامنا ہو تو ایک منہ پھیر کر ایک طرف ہوجائے اور دوسرا دوسری طرف چل دے اور دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔
قطع رحمی سے خود صلہ رحمی نے بھی پناہ چاہی ہے، اور اللہ نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ جو اس کو جوڑے گا اللہ بھی اس کو جوڑے گا، اور جو اس کو توڑے گا اللہ بھی اس کو توڑے گا، چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: “خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَامَتِ الرَّحِمُ، فَأَخَذَتْ بِحَقْوِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ لَهُ : مَهْ ؟ قَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ. قَالَ : أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ، وَأَقْطَعَمَنْ قَطَعَكِ ؟ قَالَتْ : بَلَى يَا رَبِّ. قَالَ : فَذَاكِ “. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : { فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ }. (البخاري،4830 كتاب التفسير، بابٌ: وتقطعوا أرحامكم)
ترجمه: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:” اللہ پاک نے مخلوق پیدا کیا، جب اس کی پیدائش سے فارغ ہوا، تو رحم نے کھڑے ہوکر، رحم کرنے والے اللہ کے دامن میں پناہ لی، تو اللہ پاک نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے؟ عرض کیا آپ کے پاس قطع تعلق سے پناہ چاہتا ہوں، ارشاد ہوا: کیا تو اس پر راضی نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اس کو جوڑوں، اور جو تجھ کو توڑے میں بھی اس کو توڑدوں، عرض کیا: کیوں نہیں میرے رب، اللہ پاک نے فرمایا: ایسا ہی ہوگا”۔ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت ہڑھ لو(جس میں قطع رحمی کے عذاب کا ذکر ہے) { فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ }. (سورہ محمد،22)
سورہ محمد کی اس آیت کے بعد اللہ پاک نے فرمایا: ترجمہ: یہ (فساد مچانے والے اور قطع تعلق کرنے والے) وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے اپنی رحمت سے دور کردیا، پھر ان کو بہرا کردیا، ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔ (بیان القرآن، محمد،23)
معلوم هوا کہ صلہ رحمی سے پورا معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوجاتاہے، اور قطع رحمی سے معاشرہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس پر اللہ پاک کی پھٹکار ہوتی ہے، اللہ پاک اس سے اپنا تعلق توڑ لیتا ہے، اس لیے ہر مسلمان کو اپنی سطح پر صلہ رحمی کی ایک مثال قائم کرنا چاہیے، تاکہ ایک منظم مسلم معاشرہ کا قیام عمل میں آسکے۔
آج جس معاشرہ کی ہمیں ضرورت ہے وہ نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کو ہمیں بنانا ہوگا۔ اپنے اندرجھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہمیں اپنے بھائ بہنوں، والدین، اور قرابت داروں سے کتنی انسیت ہے، ضرورت کے وقت ہم ان کے کام آتے ہیں یا نہیں، بیماری میں ان کی عیادت، موت وحیات کی غمی وخوشی میں ان کے ساتھ شرکت، مالی پریشانی کے وقت ان کی مدد، کیوں کہ انہیں اوقات میں ایک انسان کو دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے۔
اللہ پاک نے دنیا میں موقع دیا ہے، موت کے ساتھ یہ موقع بھی ختم ہوجائے گا۔ اگر آپ صلہ رحمی کرنا چاہتے ہیں تو دل کھول کر کریں، اس کا پھل رب تعالی عطا فرمائےگا، کیا ہم صلہ رحمی کا ادنی درجہ بھی نہیں کرسکتے جس میں نہ کوئی خرچ آتا ہے، اور نہ دشوار گزار مراحل سے گزرنا ہوتا ہے، صرف دو میٹھے بول کسی دوسرے مسلمان کی ناراضگی ختم کرسکتی ہے، کم از کم اس پر عمل کرلیا جائے، اور اگر اس سے زیادہ کی گنجائش ہمارے پاس ہے تو آپس میں تحفے تحائف لینے دینے سے بھی عداوتیں ختم ہوتی ہیں، اور محبتیں بڑھتی ہیں، اس پر عمل کیا جائے۔ معاف کرنا بھی بہت بڑا کام ہے، ہمارا پروردگار ہماری بڑی سے بڑی غلطیاں معاف کردیتا ہے، پھر ہم اپنے بہن بھائی، اعزہ واقارب سے ویسا سلوک کیوں نہیں کرتے، انہیں معاف کیوں نہیں کرتے؟
چند دنوں بعد رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے ایسے موقع پر اپنے بھائ بہنوں اور رشتہ داروں کی دلجوئ اور مدد کی ضرورت ہے۔ وہ مستحق ہوں یا نہ ہوں ہر حال میں ان کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا حکم ہے۔ یتامی ومساکین کا نمبر تیسرا اور چوتھاہے پہلا نمبر والدین پھر خاندان والے اقربا کاہے پھر کوئ اور ہے۔ اس لیے ان کی طرف پہلے توجہ دی جائے۔
اللہ پاک ہماری ھدایت فرمائے، قطع رحمی کرنے سے ہماری حفاظت فرمائے، اور صلہ رحمی کرنے والا بنائے، آمین