میڈیا، عدلیہ، حکومت اور ہم

آمنا سامنا میڈیا :

تحریر، فہد نذیر عباس متعلم کے ایم سی اردو عربی فارسی یونیورسٹی لکھنؤ

میڈیا، عدلیہ اور اپوزیشن کسی بھی جمہوریت کے اہم ستون ہوتے ہیں، اگر حکومت میں اپوزیشن نہ ہو تو میڈیا ہی اپوزیشن کاکام کرتی ہے، آج کا میڈیا ارنب گوسوامی اور سدھیر چودہری جیسے لوگوں سے خوفزدہ ہے، اور ایک خوفزدہ میڈیا جمہوریت میں مرے ہوے شہری کو ہی جنم دیتا ہے، میڈیا تو بہت پہلے ہی فروخت ہو چکی تھی، عدلیہ تھوڑا بہت اپنا کام انجام دے رہا تھا، لیکن دیپک مشرا جیسے جسٹس نے نظام عدلیہ کو بھی مفلوج کر دیا ہے، امت شاہ کی بادشاہت کو دوام بخشنے کیلئے جج لویا کا کیس ثبوت کی موجودگی کے باوجود سپریم کرٹ نے خارج کردیا، کرپشن کے باوجود امت شاہ کے بیٹے جے شاہ پر قانون کے لمبے ہاتھ بڑے ہی چھوٹے نظر آئے، مکہ مسجد بم دھماکہ کے کلیدی ملزم اسیمانند کو باعزت رہا کرنے والے جج نے اپنا تغلقی فرمان سنا کر استعفیٰ نامہ سونپ دیا داور مالیگاؤں بم دھما کہ کی کلیدی ملزم پرگیہ ٹھاکر سنگھ کو بھی بری کر دیا گیا، ،اسی طرح جب ایودھیا سے واپس ہو رہے 67/کارسیوک سابر متی ایکسپریس میں زندہ جل گئے تو یہ بات اڑادی گئی کہ گودھرا اسٹیشن پر کچھ مسلم خونچہ والوں سے جھڑپیں ہوئیں جس کے انتقام میں ریل کی بوگی میں اسٹیشن سے کچھ دوری پر آگ لگا دی گئی جبکہ یوسی بنرجی کی عبوری رپورٹ سے اس حقیقت کا انکشاف ہواکہ کارسیوکوں اور وینڈروں کے درمیان پیسوں کی وجہ سے جھگڑا ہوا تو کارسیوک کا اسٹو الٹ گیا جس پر وہ کھانا پکا رہے تھا، اسی گودھرا کا انتقام لینے مشتعل بھیڑ 28/فروری 2002 کو نروڈہ پاٹیہ پہونچی ،جس کی قیادت گجرات حکومت میں مودی کی کابینی رفیق مایا کوڈنانی کر رہی تھی، نروڈہ پاٹیہ میں 97/مسلم آبادی کو بری طرح ہلاک کردیا گیا اور کچھ لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا، سیشن کورٹ نے کوڈنانی کو 28 سال کی سزا سنائی تھی، لیکن بڑی عدالت نے 11گواہوں کی گواہی ماننے سے انکار کیا اور مایا کوڈنانی کو بے قصور مان لیا گیا، ان تمام فیصلوں سے ان طاقتوں کو تقویت ملتی سکتی ہے، جو فرقہ ورانہ منافرت کی سیاسی فصل کانٹتی رہی ہیں ،ان طاقتوں کو حوصلہ ملےگا، جو بھیڑکو اکسا کر معصوموں کو اپنا سیاسی نوالہ بنا تے ہیں او ان کی لاشوں پر آگے بڑھ کر بڑے عہدے تک پہونچ جاتے ہیں، عدلیہ پر اس طرح کا تسلط ملک کی جمہوریت پر بد نما داغ ہے، شہ زور، فساد پھیلانے والے اور عصمت دری کرنے والے مجرمین اسی لئے دندناتے پھر رہے ہیں، 2016 میں 1900 ہزار سے زائد بچیوں کی عصمت دری کی گئی، ہر سال تقریبا چہتیس ہزار عصمت دری کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور عدلیہ بے بس نظر آتی ہے ۔اگرمیڈیا، حکومت اور عدلیہ کی یہی صورتحال رہی تو ہمارا ملک بیمار اور نفسیاتی عوارضات کا شکار ہوگا جس کی نتیجہ میں ہماری نسلیں زخم خوردہ حالات میں پل کر بڑی ہونگی، ترقی کی تمام راہیں مسدود ہو جائیں گی ،ایسا لگتا ہیکہ شدت پسندی مجرمانہ ذہنیت اور تانہ شاہ حکومت سے ہماری نسلوں کو دور رکھنے کیلئےصرف مسجدوں، منبرومحراب میں سمٹ کر رہنے سے کام نہیں چلےگا، اے سی میں بیٹھ کر اور ٹھنڈا پانی پی کر قران کریم پڑھنے پڑھانے سے کام نہیں چلےگا، بلکہ کربلا کے واقعہ سے کچھ سیکھنا ہوگا، ہم عوام الناس کو ہی مورچہ سنبھالنا ہوگا، جمہوریت کی حفاظت اور عدلیہ کی بقاء کیلئے ہمیں ایوان اقتدار تک پہونچنا ہوگا، ان ظالموں کی قیادت کو پیروں تلے روند نے اور ان کی بخیہ ادھیڑنے کیلئے زمام قیادت اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا ، ان کی حکومتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوگا اور پورے ملک میں عدل وانصاف کا پر چم بلند کرنا ہوگا ۔کیونکہ بیعت جبر لے رہا ہے یزید پہر کسی کربلا کی آہٹ ہے