مساجد یا ہماری شان و شوکت ؟

محمد رفیق عثمان منصوری
وسئی ، پالگھر ،
9930888140

ایک عالم نے کہا ان کا پیشہ امامت ہے۔ اس کے جواب میں میں نے ان سے کہا کہ آپ سراسرناقص غلط بیانی کر رہے ہیں۔ امامت پیشہ نہیں ہے یہ ایک دینی ذمہ داری ہے۔لاحول ولا قوۃ۔پیشہ کے آگے اگر الف ،ب کو جوڑ دیا جاتا ہے تو پیشہ کیا ہوجاتا ہے؟”کچھ دیر خاموشی کے بعد عالم صاحب نے پوچھا “آپ مساجد کی تعمیر کیلئے چندہ دیتے ہیں؟”میں نے کہا” نہیں ۔ عموما لوگ ایسی مساجد میں جانا پسند کرتے ہیں جہاں ائیر کنڈیشن ،لاتعداد پنکھے،قیمتی جھومر،ٹھنڈے پانی کے بڑے بڑے فریج،قیمتی قالین اور اس طرح کے دیگر اہتمام پر زور دیا جاتا ہے۔جہاں آپﷺ اور اصحاب اکرامؓ جیسی نمازوں کا خشوع و خضوع نہیں ہوسکتا ہے۔آپ ﷺ ان کے ساتھی صحابہ کرامؓ چلچلاتی دھوپ میں نمازیں ادا کرنے سے نہیں جھجکتے تھے ۔اسی غور و فکر کے بعد میرا خیال ہے کہ تمام مساجد کی آسائشوں اور بارونق نمائشوں کے ساز و سامان کو اگر بھنگار کے کانٹوں پر بھی وزن کر کے حساب لگایا جائے تو مرا اندازا ہے کہ حاصل ہونے والی رقم سے بے شمار سڑکوں کے کنارے بسے ننگ و دھڑنگ ،بے یار ومددگار معصوم بچوں کیلئے رہنے سہنے اور مساجد و مدارس میں بھی تعلیم کا نظام کیاجاسکتا ہے۔لفظ آخریہ کہ مسجد نبویﷺ اور مسجد اقصٰی کی حفاظت اورسلامتی کی فکر کی جائے۔