گجرات : پس پردہ کیا ہے؟

ایم ودودساجد

کیا آپ کو آر بی سری کمار کا نام یاد ہے؟
جولوگ 2002کے گجرات فسادات کی تفصیلات سے واقف ہیں انہیں یہ نام ضرور یاد ہوگا۔آر بی سری کمار ان فسادات کے دوران گجرات میں انٹلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے۔انہوں نے گجرات فسادات اور ان کے ہمہ جہت مجرموں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔انہوں نے گجرات حکومت سمیت اپنے کئی سینئر افسروں سے بھی حق وباطل کے معاملہ میں لڑائی مول لی۔یہاں تک کہ انہوں نے بہت سے معاملات میں گجرات فسادات کے بدقسمت متاثرین کے بھلے کیلئے حکومت اوراپنے سینئر افسروں کے بہت سے غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کردیا اور دوران سروس ہی فسادات کی تحقیقات کرنے والے مختلف کمیشنوں کے سامنے حکومت کے خلاف شہادتیں پیش کیں۔ اب وہ ریٹائرڈآئی پی ایس افسر ہیں۔

گزشتہ13 اپریل کودہلی کے ویمن پریس کلب میں ان کی تصنیف کردہ کتاب ’’پس پردہ گجرات‘‘ کے اردو ترجمہ کی رسم اجراء انجام دی گئی۔یہ کتاب انہوں نے بنیادی طورپر انگریزی میں تحریر کی ہے۔اس کااردو ترجمہ مشہور بزرگ صحافی سید منصور آغا نے کیا ہے۔رسم اجراء کی تقریب کے کنوینر سینئر صحافی معصوم مرادآبادی تھے۔اس کتاب کا اردو ترجمہ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی پبلشنگ کمپنی ’فاروس‘نے شائع کیا ہے۔اس موقع پر آر بی سری کمار نے تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے گجرات فسادات کے دوران کیسے کیسے تجربات کئے اور انہیں فسادیوں کے خلاف انٹلی جنس رپورٹیں اور شہادتیں دینے کی پاداش میں کتنا پریشان اور ہراساں کیا گیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اتنے بڑے ملک ہندوستان میں کوئی بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا پبلشر ان کی کتاب چھاپنے کو تیار نہیں ہوا۔اور جب بڑی مشکل کے بعد ایک پبلشر نے ان کی انگریزی کتاب چھاپی تو پھر اس نے دباؤ میں آکر اس کتاب کو فروخت کیلئے باہر نہیں نکالا۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے بتایا کہ اسی طرح اس کتاب کا کوئی اردو ترجمہ کرنے اور اس کو چھاپنے کو بھی تیار نہیں تھا۔آر بی سری کمار نے بتایا کہ وہ اردو ترجمہ اور اشاعت کیلئے کئی اردو پبلشرز سے ملے لیکن سب نے ہاتھ کھڑے کردئے۔200سے زائدصفحات کی اس کتاب کو گجرات فسادات کے کچھ اور حقائق جاننے کیلئے ضرور پڑھنا چاہئے۔میں بھی یہ کتاب خرید کرلایااور اس میں شامل حقائق اور انکشافات کا بغور مطالعہ کیا۔اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ مصنف نے 13ابواب میں سے ہر باب کی ابتداء موضوع سے متعلق مذہبی احکامات کو نقل کرکے کی ہے۔میرا خیال ہے کہ گجرات فسادات پر اس سے جامع ‘معتبراور مستندکوئی اور دستاویز ابھی تک نہیں آئی ہے۔آر بی سری کمار کا تعلق مجاہد آزادی خاندان سے ہے۔انہوں نے اپنی کتاب کواپنے والدین اور استاذ کے علاوہ مرحوم احسان جعفری کے نام سے منسوب کیا ہے۔

اب کتاب میں مذکور ایک واقعہ دل تھام کر پڑھئے ‘سری کمارلکھتے ہیں:

“……….28فروری(2002)کی شام جب میں آفس میں تھا‘خورشید احمد(آئی پی ایس)نے مجھے فون پر اطلاع دی کہ تقریباً 400مسلم خاندان ‘جو فسادیوں کی زد پر ہیں‘سیجاپور کے محفوظ (ریزروڈ)کمانڈ ہیڈ کوارٹرمیں پناہ مانگ رہے ہیں۔مسٹر خورشید اس کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے کمانڈنٹ تھے‘جو کہ نرودا پاٹیا سے متصل ہے جہاں اس دن شام تک 96مسلمانوں کو قتل کردیا گیا تھا۔یہ ہیڈ کوارٹر محفوظ چہار دیواری کے اندر ہے اور سنتری اس کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں۔خورشیداحمد ان عام باشندوں کو ایس آر پی ایف بٹالین ہیڈ کوارٹر میں داخل ہونے دینے کیلئے واضح ہدایت چاہتے تھے۔میں نے فوراً ان کو فیکس سے یہ ہدایت بھیج دی کہ جو لوگ حفاظت کی خاطر اندر آنا چاہتے ہیں انہیں آنے دیا جائے اور انہیں خالی بیرکوں میں جگہ دیدی جائے۔مسٹر خورشیداور ان کے نائب مسٹر قریشی ان مسلمانوں کو ‘جن کی جانیں یقینی طورپر خطرے میں تھیں‘ کیمپ کے اندر داخل ہونے کی اجازت دینے کے جوکھم سے گھبرائے ہوئے تھے۔ان پر شایدآر ایس ایس کارکنوں کا دباؤ بھی تھا۔میں نے ان کو یقین واطمینان دلایا کہ میرے تحریری حکم پرعمل کرنے میں ان پر کوئی الزام نہیں آئے گا۔لیکن میرے تحریری حکم کے باوجودکمانڈنٹ مسٹر خورشید احمد نے پناہ کے خواستگار مسلمانوں کو کیمپ میں داخلہ کی اجازت نہیں دی۔اطلاع یہ ہے کہ اسی دن شام کو نرودا پاٹیا میں جن 96مسلمانوں کا بہیمانہ قتل ہوا‘یہ انہی 400مسلمانوں میں سے تھے جنہیں کیمپ میں میرے حکم کے باوجود ایک مسلمان افسر نے داخل نہیں ہونے دیا۔بعد میں ریاستی حکومت نے خورشید احمد کو سورت کا ڈپٹی کمشنر آف پولس بنادیا۔یہ ایک انتہائی اہم منصب ہے جس کی طلب بہت سے افسرا ن کو رہتی ہے۔یہی نہیں ان کی اہلیہ شمیمہ حسن (آئی اے ایس) کو ولساڈ کا ضلع ڈویلپمنٹ آفسراور سریندر نگر کا کلکٹر بنادیا گیا۔اسی کے ساتھ مسٹر قریشی کو ان کی’’ امتیازی خدمات‘‘ کے عوض صدر جمہوریہ کا پولس میڈل دلوادیا گیا۔حالانکہ عام پولس میں کام کرنے کا ان کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ایس آر پی ایف کے کسی افسر کو شاید ہی یہ ایوارڈ ملتا ہو۔…….‘‘

ملاحظہ فرمایا آپ نے؟میرا خیال ہے کہ آر بی سری کمار جیسے ہندوافسرکے اس انکشاف کے بعد اب لکھنے اور کہنے سننے کو کچھ باقی نہیں رہ گیا ہے۔مجھے اس موقع پر ملک بھر میں سول سروسز کی تیاری کرانے والے مسلم اداروں کے ذمہ داروں کی یہ دلیل کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے کہ فسادات میں مسلمانوں کے یکطرفہ نقصان کی ایک وجہ مسلم افسروں کی متناسب نمائندگی کا نہ ہونا بھی ہے۔اب یہ زندہ مثال بھی دیکھنے اور سننے کو مل گئی کہ ایک ہی مقام پر دو-دو سینئراور بااختیارمسلم افسربھی استطاعت کے باوجودان مظلوم ودرماندہ 400مسلمانوں کو پناہ نہ دے سکے اور پھر ان میں96مسلمان اسی رات بے دردی کے ساتھ قتل کردئے گئے۔یہ حال اس وقت ہے کہ جب ان دونوں مسلم افسروں کے سینئرسری کمار نے تحریری حکم دے دیا تھا کہ ان مظلوم مسلمانوں کو پناہ دیدی جائے۔اگر یہ دونوں مسلم افسر اس حکم پر عمل کرلیتے تو ضابطہ کے مطابق ان سے کوئی باز پرس نہ ہوتی بلکہ اس کی پرسش ہندو افسر آر بی سری کمار سے ہوتی۔بعد میں جس پراسرار انداز میں اور خلاف ضابطہ ان دونوں مسلم افسروں کو ترقی دی گئی اس سے یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ ان دونوں نے جان بوجھ کران مظلوم مسلمانوں کو درندوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیاتھا۔جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کی مددکرنے والے اس بے باک ہندوافسر(آر بی سری کمار)کو قدم قدم پر ستایا گیا‘ترقی روکی گئی‘مقدمے قائم کئے گئے‘ چھوٹی چھوٹی باتوں پرباز پرس کی گئی‘جونئر افسروں کو ان کے اوپر بٹھایا گیااوراہم منصبوں سے ہٹاکرکم ترعہدے دئے گئے۔کئی مقدمے تو سری کمار آج بھی جھیل رہے ہیں۔سری کمار کی سادگی دیکھ کرگمان ہوتا ہے کہ اگر تقوے کیلئے ایمان کی شرط نہ ہوتی تو سری کمار اس دور کے ولی ہوتے۔ اس واقعہ سے کسی کو کچھ سمجھنے کو ملا ہو یا نہ ملا ہو لیکن میرے ذہن ودل میں جتنی محبت سری کمارجیسے ہندوافسر کیلئے پیدا ہوگئی ہے ‘خورشید اور قریشی جیسے مسلم افسروں کیلئے اس سے کئی گنا شدت کے ساتھ نفرت ہوگئی ہے۔