دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس نے ملک کے مسلمانوں کو پیغام دیا ہے کہ اختلافات کا وقت نہیں اتحاد کا وقت ہے.

پریس ریلیز، دربھنگہ، 20/اپریل، علماء، آئمہ.،ملی رہنما اور خاص کر امارت شرعیہ اور مفکر اسلام حضرت سید شاہ ولی رحمانی قابل مبارکباد ہیں، دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس کو کامیاب کر کے مسلمانوں نے عظیم اتحاد کا نمونہ پیش کیا، اور سارے عقائد و مسلک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بیس لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنے علماء ائمہ اور انسانیت کا دکھ، درد رکھنے والا ادارہ امارت شرعیہ کے آواز پر لبیک کہتے ہوئے سب کچھ نچاور کر کے اور سر جوڑ کر جو ملک کو پیغام دیا ہے وہ صرف قابل تعریف ہی نہیں بلکہ قابل عمل بھی ہے، یہ باتیں سیو لائف فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر شاہ عظمت اللہ ابو سعید نے اپنے بیان میں کہا،اور انھوں نے کہا کہ جس طریقے سے چند افراد سوشل میڈیا پر امارت شرعیہ اور حضرت امیر شریعت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ قابل مذمت ہیں، جہاں تک رہی بات کسی کو ایم ایل سی بنانے کی وہ سرا سر جھوٹ اور بے بنیاد الزام ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، حضرت امیر شریعت کے مشن اور ویزن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دلت اور مسلمان کو ملک میں ایک ہو نے کی ضرورت ہے اور جو عزائم امارت شرعیہ نے کانفرنس میں رکھا ہے اس پر مسلمانوں کو عمل پیرا ہونا چاہیے، ملک کے مسلمانوں کو جس قائد کی سخت ضرورت ہے اس میں ایک نام حضرت شاہ ولی رحمانی ہے،
ڈاکٹر فضل اللہ قادری نے کہا کہ دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس کے ذریعے جس طریقے سے مسلمانوں نے شریعت کے تحفظ اور ملک کی سلامتی اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف پٹنہ کو پر کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم اپنے امیر اور علماء کی آواز پر ہر طریقے کی قربانی پیش کر سکتے ہیں.
افضل پرویز قاسمی نے کہا کہ حضرت امیر شریعت اس کانفرنس کے ذریعے جو تجاویز ملک اور مسلمانوں کو دیا ہے وہ قابل عمل اور وقت کی ضرورت ہے.
محمد ظفر اللہ مصباحی نے کہا کہ جس طرح سے شاہ ولی رحمانی نے سارے عقائد اور مسلک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم ہرطریقے کی مداخلت برداشت کر سکتے ہیں لیکن دین میں مداخلت قطعی طور پر برداشت نہیں کر سکتے ہیں.
ڈاکٹر پرویز باری نے کہا کہ دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس کے موقع پر باشندگان پٹنہ نے ضیافت، ہمدردی اور حسن اخلاق پیش کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کرنے والے ہیں، اپنے دین کے لیے ہر طرح کی قربانی پیش کر سکتے ہیں.
اس موقع پر محمد فخر عالم، ایس ایم ضیاء، آل حسن، نیاز احمد، صفی احمد، مفتی سلیم ناصری، محمد زبیر، مولانا منت اللہ قاسمی ، ولی اللہ تنویر، محمد شمشاد، اسرافیل شاہ نے کانفرنس کی کامیابی پر حضرت امیر شریعت، ناظم امارت شرعیہ انیس الرحمن قاسمی، سہیل احمد ندوی، ثناء الھدی قاسمی، سہیل اختر قاسمی اور تمام کارکنان کانفرنس، خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف، اور دیگر ملی و سماجی تنظیم اور شرکاء کانفرنس کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کیا.