#_Justice_for_Asifa ________😭آہ آصفہ😭_______

______ثمریاب ثمر________

حرفِ دل ہے آج پھر نوحہ کناں قرطاس پر
آنسوؤں کا ہوگیا دریا رواں قرطاس پر

اپنے ہاتھوں سے سجا کر پھول پودوں کا جہاں
رو پڑا ہے خود ہی یارو باغباں قرطاس پر

سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے گلستاں کی ہر کلی
ہر طرف ہے دیکھ لو آہ و فغاں قرطاس پر

ایک ننھی سے کلی اور ظلم کا کوہ گراں
سرنگوں ہے شرم سے یاں آسماں قرطاس پر

آصفہ کا نام آیا رک گئیں سانسیں مری
کیسے لکھوں ظلم کی اب داستاں قرطاس پر

رام کےگھر میں لٹیں گی عصمتیں سوچانہ تھا
جب بھی سوچا آگیا لرزا یہاں قرطاس پر

ہر طرف نفرت کے شعلے ہر طرف لاشوں کے ڈھیر
ڈھونڈتا ہوں امن کا میں سائباں قرطاس پر

کس کی شہ پرخون سے لت پت ہیں پھولوں کی قبا
کھل گیا ہے آج یہ سرِ نہاں قرطاس پر

قاتلوں کو پھر بچانے آگئے منصف ثمر
عدل کا بس رہ گیا باقی نشاں قرطاس پر