جواب چاہیے، جواب ڈھونڈتا ہوں میں.

تحریر :فہد نذیر عباس، متعلم کے، ایم، سی اردو عربی فارسی یونیورسٹی لکھنو

‌ انسان کو خدا نے اشرف المخلوقات بنایا ،اس میں اپنی روح پھونکی، اس کی عظمت کے اظہار کیلئے اس کے آگے فرشتوں سے سجدہ کرایا، لیکن اسی اشرف المخلوقات نے ایسا بدترین کارنامہ انجام دیا ،ایسی وحشیانہ اور غیر فطری حرکت کی کہ انسانیت تو در کنار جنگل کے درندے بھی شرمسار ہوجائیں ،کبھی نر بھیہ کبھی آٹھ مہینہ کی بچی کے ساتھ عصمت دری ،تو کبھی آٹھ سالہ معصوم سی بچی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی، جنگل کے بھی اپنے قانون ہوا کرتے ہیں، درندے بھی ایسی انسانیت سوز حرکت نہیں کرتے،آج انسان صرف اک مشت خاک بن کر رہ گیا ہے، لباس انسانیت ریزہ ریزہ ہو چکا ہے گھٹے اگر تو بس اک مشت خاک ہے انساں. بڑھے اگر تو وسعت کونین میں سما نہ سکے. اب تو عصمت دری کے دلدوز اور ہیبتناک سانحات ہمارے لئے روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن گئے ہیں ،تاہم اخبارات بھی اسے فرنٹ پیج میں جگہ نہیں دیتے، نربھیہ سے ملک بھر میں عصمت دری کے خلاف آواز اٹھی تھی، ملک گیر احتجاج ہوا تھا، ایسا کچھ پل کیلئے احساس ہوا تھا کہ یہ سلسلہ ختم ہو جائیگا، لیکن یہ سلسلہ تھما نہیں، بلکہ آے دن جرائم میں اضافہ ہی ہوا،احتجاجات کے بعد حالا ت کو یکسر بدل جانا چاہئے تھا، لیکن اثر و رسوخ رکھنے والوں نے ابھی تک عصمت دری کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا، حیرت کی بات ہیکہ وزیر داخلہ نے اناؤ اور کٹھوعہ کے واقعات پر لب کشائی تک نہیں کی، وزیراعظم نے چپی توڑی بھی تو بڑے ہی پہیکے اور بے اثر انداز میں، جیسے کہ کوئی معلم یا بزرگ کسی کو نصیحت کر رہا ہو، افسوس صد افسوس کہ انسانیت سوز حرکت کرنے والے حرام خور کو صرف اس لئے حمایت حاصل ہے کہ بی جے پی کا رکن اسمبلی کلیدی ملزم ہے ،یاکچھ ہندو تنظیمیں اس کو بچانے کے درپے ہے، انسانیت کی بد قسمتی کا اس سے بڑا المناک کیا ہوگا کہ مجرم کی شناخت اس کے جرم سے نہیں بلکہ اس کے مذہب سے ہو، حمایتی ترنگا لے کر مجرم کی حمایت میں کھڑے ہو، وحشیانہ عمل پر پردہ ڈالنے کیلئے کبھی مذہب کا سہارا لیا جائے، تو کبھی ذات برادری و اقرباء پروری کا، تو کبھی کچھ اور ہتھکنڈہ اپنا یا جائے،جو وکلاء اور دیگر حضرات وقتی مفادات کی خا طر مجرم کا ساتھ دے رہے ہیں، وہ یاد رکھ لیں کہ وہ بھی اسی ہندوستان میں جی رہے ہیں، کہیں ان کے ستارے گردش میں آگئے تو، کیونکہ. لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں یھاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑے ہے. مجرم جو کوئی بھی ہو، چاہے کتنا ہی طاقتور ہو، اس کا تعلق کسی بھی سماج سے ہو اس کو سزا ملنا چاہئے، جیسا کہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ نامی عورت کے جرم کو معاف کرنے کی سفارش لے کر آنے والے شخص سے کہا تھا “لولا كانت فاطمة بنت محمد لقطعت يديها “اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ در بدر بھٹکتی ہوئ جرائم میں پہنسی اس دنیا کو اگر کوئی عدل و انصاف کا راستہ دکھا سکتا ہے اور عصمت دری سے نجات دلا سکتا ہے، تو وہ صرف مسلمان ہے جس کے پاس اجتماعی زندگی کی ساری گتھیوں کے صحیح حل تو موجود ہے،لیکن اس کو نافذ کرنے کیلئے اس کے پاس اقتدار نہیں ہے ،یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ مسلم عصمت دری کرنے والے کو اسلام کے مطابق سزا دینے کی بات تو کرتا ہے،اپنے مسلم حکمرانوں کا ذکر، ان کے کارناموں اور ان کے انصاف کا ذکر کرتے زبان نہیں تھکتی، لیکن آج کے تناظر ميں سیاست کو زہر ہلاہل سمجھتا ہے،ہمارے رہنما اپنا دینی اقتدار بچانے کیلئے خود کو سیاسی اقتدار سے باز رکھتے ہیں ،اسی کو مصلحت بھی بتاتے ہیں، لیکن خود اپنا کام اسی مصلحت کے پیش نظر سیاسی طور پر انجام دے بھی دیتے ہیں ،دراصل بات یہ ہیکہ دین ہم کو ہزار آفتوں اور تصادموں سے بچاتا ہے، اگر ہم خود کو اس کے سپرد کردے، لیکن ہم نے دین کو اپنے مفادات، اپنی خواہشات اور اپنے نفس کے حوالہ کردیا ہے اور اس کو ایک دوسرے سے بچانے لگے ہیں تو جس کی وجہ سے نہ ہم بچیں ہیں ،نہ ہمارا دین بچے ہیں ،کاش!ہم نے خود کو دین کا ٹھیکیدار اور محافظ کے بجائےدین کو اپنا محافظ مانا ہوتا،تو آج ہماری حیثیت کچھ اور ہوتی، ہم نربھیہ اور آصفہ جیسے معصوم کو انصاف دے پاتے اور ہمای حیثیت ہندوستانی سیاست میں بن بلائے مہمان کی نہ ہوتی۔عصمت دری سے متاثرین حضرات کو انصاف دلانے کیلئے کوئی کینڈل مارچ نکال رہا ہے،کوئی آرٹیکل لکھ رہا ہے اور آرٹیکل کے بھتر اور غیر بہتر ہونے پر واہ واہی لوٹ رہا ہے، کوئی وھاٹس ایپ کی ڈی پی لگاکے خوش ہے، کوئی سوشل میڈیا پہ عصمت دری سے متعلق چیزوں کو شیئر کر کے خوش ہے،کوئی دہرنا دینے کے خوش ہے ،ہم یہ سب کر کے ایسے خوش ہے جیسے نربہیہ سے لے کر آصفہ تک سب کو انصاف دلا دیا ہو ،کچھ دنوں تک یہ چلے گا پھر ہم سرد پڑ جائیں گے، پھر کوئی گدھ معصوم بچی کا جسم نوچےگا، پھر ہم کینڈل مارچ نکالیں گے، کیا ہم اسی طرح بار بار تختئہ مشق بنتے رہیں گے، ہم یہی رد عمل بار بار دہراتے رہیں گے ، انسانیت بیزار لوگ سماج پر حاوی ہوتے رہیں گے اور مجرموں کو دہڑلے سے بچایا جاتا رہیگا، کیا یہی مسئلہ کا حل ہے،۔ جواب چاہیے جواب ڈہونڈتا ہوں میں، جنھیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈہونڈتا ہوں میں.