حضرت مولانا سالم صاحب کی رحلت حادثہ سخت ہے اور جان عزیز

خاص تحریر ۔۔۔۔از…..محمود دریابادی

چھ ساڑھے چھہ برس عمر ہی کتنی ہوتی ہے مگر مجھے یاد ہے جب پہلی بار حضرت مولانا سالم صاحب کو دیکھا تھا ‘ دراصل ممبئی میں اسلامی سال کے آغازمحرم میں مسلم محلوں کے اندر وعظ کی نششتیں منعقد کرنے کی روایت نہ جانے کب سے چلی آرہی ہے، تمام مکاتب فکر کے مسلمان اِنھیں منعقد کرتے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں سےاپنے علماء کو بلا کر فلسفہ شہادت ودیگر عنوانات پر تقریریں کرواتے ہیں ـ
اپنے حلقے کے مشہور عالم دین اور مقبول واعِظ حضرت مولاناابوالوفا شاہجہانپوری کے مواعظ بھی اس موقع پر بھنڈی بازار پٹھان واڑی میں ہوا کرتے تھے، عام دنوں میں تویہ جلسے عشا بعد ہوتے تھے مگر عاشورہ کے دن چونکہ آس پاس کے علاقے میں کچھ لوگ راستوں پر غیر شرعی کھیل تماشے کیا کرتے تھے ان سے اپنے لوگوں کو محفوِظ رکھنے کے لئے اس دن صبح آٹھ بجے سے ظہر تک بھی ایک جلسہ ہوتا تھا، اس جلسے کی خصوصیت یہ ہوتی تھی کہ ان دنوں ممبئی میں وعظ کرنے والے تمام حلقہ دیوبند کے علماء کو دعوت دی جاتی تھی تھوڑی تھوڑی دیر ہی سہی سب کے بیانات ہوتے تھے، بہت بڑی تعداد میں سامعین کی شرکت ہوتی تھی، مولانا ابوالوفا صاحب کے بعد یہ دن والا جلسہ توختم ہوگیا رات کے جلسے اب بھی ہوتے ہیں ـ
یوم عاشورہ کے ایسے ہی کسی جلسے میں خطیب الاسلام کی پہلی زیارت ہوئی تھی، چھوٹی سی عمر میں ابّا کی انگلی پکڑکے میں اس جلسے میں شریک ہوا تھا ـ یہ بھی یاد ہے کہ جلسے کی صدارت اور نظامت خود حضرت مولانا ابوالوفا صاحب فرمارہے تھے، اس میں سیاہ ڈارھی ‘ متوسط قد ‘ دوہرے بدن اور بھاری آواز کی حامل ایک شخصیت کا تعارف مہتمم دارالعلوم دیوبند حکیم الاسلام قاری طیب صاحب کے صاحبزادے کی حیثیت سے کرایا گیا، نام سنتے ہی لوگ سنبھل کر بیٹھ گئے، تقریر کیا ہوئی کیسی ہوئی چھ سال کی عمر میں مجھے کیا سمجھ میں آتا، مگر شخصیت کی تصویر جو اس وقت ذہن میں چسپاں ہوئی تھی آج بھی تازہ ہے ـ
اس کے بعد نہ جانے کتنی مرتبہ ممبئی میں زیارت ہوئی یاد نہیں مگر اپنی کم عمری کی وجہ سے مصافحہ کا شرف حاصل نہیں کرپایا، پہلی بار قریب سے اس وقت دیکھا جب دارالعلوم میں درجہ ہفتم میں احقر کا داخلہ ہوا، مگر اتفاق یہ بھی ہوا کہ اُس سال ہمارا کوئی سبق حضرت سے متعلق نہیں ہوسکا، حضرت اُن دنوں ہفتم کی غالبا مشکوۃ پڑھاتے تھے مگر ہماری مشکوۃ حضرت مولانا نعیم صاحب سے متعلق تھی، مگر حضرت کو اپنی مخصوص ہیئت اور خاص رفتار کے ساتھ گھر سے درسگاہ تک آتے جاتے ہمیشہ دیکھتے تھے، راستے میں ملنے والے طالبعلم سلام کرتے تو جواب دیتے مگر ادھر اُدھر دیکھے بغیر آگے بڑھ جاتے، یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے راستے میں سلام کے بعد مخاطب کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ” حضرت آج سبق میں حاضر تھا مگر جب حاضری ہورہی تھی تب اپنا نام نہیں سن سکا اس لئے غیر حاضری لگ گئی ہے ـ حضرت کا جواب اب بھی دماغ میں گونج رہا ہے، ” جفَّ القلم ‘ مَضیٰ ما مَضیٰ ” یہ کہتے ہوئے اسی ” خرام مستانہ ” کے ساتھ آگے بڑھ گئے ـ
دارالعلوم کی علاقائی انجمنوں کے جلسے میں بارہا حضرت کے بیانات سے بھی مستفیض ہونے کا موقع ملا ‘ صاف اور ششتہ زبان ‘ یکساں انداز ‘ بار بار ” ظاہر ہے ” اور غیر معمولی ” کا تکیہ کلام جو سننے والے کو بھلا لگتا تھا نیز اپنے مخصوص انداز میں علوم ومعارف خصوصا حکمتِ قاسمیہ کی ترسیل اب بھی کانوں میں رس گھول رہی ہے ـ
دورہ حدیث میں ابوداؤد ثانی کا سبق آپ سے متعلق ہوا، گھڑی دیکھ کر صحیح وقت پر دارالحدیث فوقانی میں تشریف لاتے ‘ مسند پرتشریف فرما ہوتے، عبارت ہوتی، سبق شروع ہوتا گویا کوئی علم کی مشین کُھل گئی، ایسا لگتا تھا سامنے کوئی کتاب رکھی ہے جس سے کوئی تحریر پڑھی جارہی ہو کوئی رُکاوٹ نہیں، کوئی اتار چڑھاونہیں، کوئی غیر ضروری بات، واقعہ، لطیفہ کچھ بھی نہیں، بس ” ظاہر ہے ” اور” غیر معمولی ” کی متناسب تکرار، وقت پورا ہوا، کتاب بند، حضرت روانہ ……..،
ہم اپنی نالائقی یا بد شوقی کی وجہ سے ہمیشہ درسگاہ کے ” پس نشینوں ” میں رہے ہیں اس لئے تعلیم کے دوران دارالعلوم کے اپنےاساتذہ سے بہت ذیادہ روابط نہیں رہے، لیکن اپنی ” جسمانی فربہی ” اور دیگر غیر درسی قسم کی مشغولیات کی وجہ سے بیشتر اساتذہ وطلبا یہاں تک کہ دیوبند کے اکثر رکشہ والے بھی پہچاننے لگے تھےـ
ویسے دارالعلوم کی زندگی میں حضرت سے بالمشافہہ گفتگو کا بس ایک ہی موقع ملا………، ہوا یہ تھا کہ ہمارے دورے کے سال میں شیخ الاسلام لا ئبریری کے زیر اہتمام ہم لوگوں نے ایک بڑا جلسہ کرنا طے کیا تھا جس میں ملک کے نامور علماء مولانا سعید احمد اکبر ابادی ‘ مولانا اسعد مدنی، مولانا اخلاق حسین قاسمی اور علامہ انور صابری وغیرہ شریک ہورہے تھے، اس وقت مسجد رشید تعمیرنہیں ہوئی تھی اور دارالعلوم میں سب سے بڑا ہال دارالحدیث تحتانی ہی تھا تمام بڑے پروگرام چاہے وہ دارالعلوم کے اپنے ہوں یا طلبا کےوہیں ہواکرتے تھے، ہم لوگوں کا جلسہ بھی وہیں ہونا تھا، مگر اتفاق یہ ہوا کہ اجلاس صدسالہ کی تیاری کے سلسلے میں ہمارے جلسے کے ٹھیک دوسرے دن دارالعلوم نے پورے ملک کے مشاہیر کا ایک نمائندہ اجتماع طلب کرلیاتھا، اب ہمارا جلسہ خطرے میں پڑگیا تھا مہینوں سے ہم لوگ تیاری کر رہے تھے، علماء کو دعوت دی جاچکی تھی، مقالے تیار تھے، نعت خواں، مقررین سب تیاری کرچکے تھے، مہمانوں کی مدارات، جلسہ گاہ، ناشتہ پانی ساری ذمہ داریاں بانٹ دی گئی تھیں، عین موقع پر جلسے پر منڈالے والے اس خطرے سے تھے ہم تمام طلبا سہمے ہوئے تھے ـ ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیمی زندگی میں یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اس وقت بہت بڑی دکھائی دیتی تھیں ـ اس موقع پر ایک اور اطلاع آئی کہ نمائندہ اجتماع کے سلسلے میں جوبڑے اساتذہ کی میٹنگ ہوئی اس میں ہمارے جلسے کا ذکر ایسے انداز میں آیا جس کو ہم لوگ ” ذکر خیر ” نہیں کہہ سکتے تھے، اطلاع کے مطابق میٹنگ میں یہ طے ہورہا تھا کہ نمائندہ اجتماع طلبا کے جلسے کے مقابلے میں ذیادہ ضروری ہے، اس لئے طلبا کا جلسہ ملتوی کرادیا جائے، چونکہ حضرت مہتمم صاحب اتفاق سے اس میٹنگ میں شریک نہیں تھے اس لئے آخری فیصلہ ان پر چھوڑ دیا گیا…….، انتہائی بارسوخ ذریعے سے ہم لوگوں کو یہ اطلاع فورا مل گئی، ہم لوگوں نے فورا ہنگامی میٹنگ بلائی طے کیا گیا کہ آج ہی حضرت مہتمم صاحب سے ملنا چاہئیے، چنانچہ مغرب بعد ہم آٹھ دس لوگ طیب منزل پہونچے، حضرت مہتمم صاحب موجود نہیں تھے مولانا سالم صاحب سے ملاقات ہوئی، ہم لوگوں نے پوری صورت حال بیان کی اور جلسہ کی تیاری اور طلبا کی محنت ذوق وشوق کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کی ہم لوگوں کا جلسہ ملتوی نہ کرایا جائے آگے سالانہ امتحان ہے، طلبا تیاری میں لگ جائیں گے، بیرونی مہمانوں کی منظوری بھی مل چکی ہے دوبارہ ان سے نئی تاریخیں بھی شاید نہ مل سکیں ـ
حضرت نے ہم لوگوں کی بات پوری توجہ سے سنی اور پہلے تو تعجب کا اظہار فرمایا کہ آپ لوگوں کی خفیہ اتنی تیز ہے کہ ہماری میٹنگ میں ہونے والی اندورنی گفتگو کی بھی اطلاع آپ تک پہونچ گئی، آگے آپ نے وہی اصولی بات فرمائی کہ دارالعلوم کا مفاد مقدم ہے، دارالعلوم ہی کے مفاد سے ہم سب کا مفاد وابستہ ہے، چونکہ دوسرے دن صبح ہی نمائندہ اجتماع اسی جگہ ہونا ہے اس لئے جلسہ گاہ کو رات ہی میں تیار کرکے رکھنا ہوگا اس لئے یہ بات آئی تھی کہ اُپ لوگوں کا جلسہ ملتوی ہوجائےـ
حضرت کے اس جواب سے ہم لوگ مایوس ہوگئے اسی وقت اللہ نے احقر کے دماغ میں ایک نئی بات ڈالی میں نے عرض کیا کہ ” حضرت اگر دارالحدیث تحتانی میں ہمارا پروگرام ممکن نہیں ہے تو ہم لوگ دارالحدیث فوقانی میں اپنا پروگرام منتقل کرسکتے ہیں …..؟ میں نے اسی وقت ایک دوسرا پینترہ بھی پھینکا کہ ” اگر دارالحدیث تحتانی میں بھی ہمارا پروگرام ہوتا ہے تو ہمیں ہدائت دی جائے ہم جلسہ گاہ کو نمائندہ اجتماع کی ضرورت کے مطابق رات ہی میں تیار کردیں گے …….، اور میرا آخری پینترہ یہ تھا کہ ” پورے ملک سے نمائندہ اجتماع میں شریک ہونے والے مشاہیر یقینا ایک دن پہلے پہونچ جائیں گے اور وہ سب بھی ہمارے جلسے میں شریک ہوں گے اور ان کے سامنے ہم طلبا کامظاہرہ بھی کسی حد دارالعلوم کی نیک نامی کا سبب بن سکتا ہے ـ
میری اس گفتگو کے بعد حضرت نے میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا ” اب آپ نے جویہ نئی تجویز پیش کی ہے اس پر مشورے کے بعد ہی کوئی جواب دیا جاسکتا ہے،
ہم لوگ واپس آگئے، حضرت سے یہ ملاقات خاص طور پرمجھے اس لئے بھی اچھی لگی کہ حضرت نے ہم طلبا کی بات پورے اطمینان اور دلجمعی کے ساتھ سنی، جوابی گفتگو میں بھی نرمی اور ہمدردی کا اظہار فرمایا ـ بہر حال جلسہ ہوا اسی تاریخ اور اسی جگہ پر ہوا، بہت کامیاب رہا بیرونی علما کرام اور نمائندہ اجتماع کے بعض مشاہیر کے بیانات ہوئے طلبا کی تقریریں ‘ مقالات بہت پسند کئے گئے احقر کا بھی ایک مقالہ تھا وہ بھی بہت پسند کیاگیا(افسوس محفوظ نہیں رہا)
فراغت کے بعد اجلاس صد سالہ کے موقع پر بھی دور سے زیارت ہوئی، پھر دارالعلوم کا قضیہ نامرضیہ پیش آگیا، پتہ چلا کہ جامع مسجد میں دارالعلوم وقف قائم ہواہے …… اسی دوران ایک دن اچانک ممبئی میں میرے دواخانے کے سامنے ایک گاڑی رکی، میں نے دیکھا کہ حضرت مولانا سالم صاحب اگلی سیٹ پر تشریف فرماہیں پیچھے دوافراد اور ہیں، میری نظر پڑی فورا بھاگا ہوا گیا، سلام کیا ‘ موٹا ہونا اس دن بھی کام آیا، تعارف کی ضرورت پیش نہیں آئی حضرت نے پہچان لیا، معلوم ہوا کسی صاحب کے انتظار میں یہاں ٹہرے ہیں، دھوپ شدید تھی اس لئے میں نے درخواست کی کہ جب تک دواخانے میں تشریف رکھیں، تشریف لائے…….، وہ آئیں گھر میں ہمارے خداکی قدرت ہے ـ…… کلاہِ گوشہ دہقاں بہ آفتاب رسید ـ
دواخانےکی اس مختصرسی اتفاقی ملاقات کے بعد ایک مرتبہ اور ذرہ نوازی فرمائی باقاعدہ ارادہ کرکے ملنے تشریف لائے ، حضرت قاری صدیق صاحب باندوی علیہ الرحمہ کی وفات پر ہم لوگوں نے ممبئی میں ایک بڑا تعزیتی جلسہ کیا اس میں دعوت دی تشریف لائے، انتہائی موثر صدارتی تقریر فرمائی….،
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ممبئی میں ایک زبردست پروگرام کیا تھا جس میں امام کعبہ سمیت متعدد عالمی شخصیات بھی شریک ہوئی تھیں، ممبئی کے علماء ذاکر نائک کے بعض نظریات کی وجہ سے اس کو پسندنہیں کرتے تھے….. مگر ذاکر نائیک نے دولت کے زور پر محض ممبئی کے علماء کو بے عزت کرنے کے لئےبعض علماء دیوبند وندوہ کو بھی اپنے پروگرام میں مدعو کیاتھا، ہم لوگوں نے اپنے تمام علماء جن کو اس نے مدعو کیا تھا سے رابطہ کرکے ان کو ذاکر نائک کے نظریات وخیالات سےاگاہ کیا اور اس کے پروگرام میں اپنے علماء کی شرکت سے مسلک دیوبند کو ہونے والے نقصانات کو بتایا، افسوس ہمارے بیشتر علماء نے ہماری معروضات پر توجہ نہیں دی اور ” کیسہ زر ” کو مسلک پر مقدم رکھا، مگر آفریں صد آفریں، خانوادہ قاسمی کےاس فردِفرید پر جو پروگرام میں شرکت کے لئے ممبئی تشریف لاچکے تھے مگر جب ہم لوگوں نے ملاقات کرکے پوری تفصیل گوش گذار کی تو بغیر پروگرام میں شرکت کئے ہوئے واپس تشریف لے گئے، ممبئی میں قیام گاہ پر لینے آنے والی ذاکرنائیک کی گاڑی واپس کردی ـ
لکھنو کے ایک پروگرام میں احقر بھی مدعو تھا، حضرت مہمان خصوصی تھے، اس میں احقر نے بھی ایک عدد کج مج قسم کی تقریر کی تھی، پروگرام کے بعد ملاقات جب ہوئی فرمانے لگے کہ ” تعارف تو پہلے سے تھا جناب سے استفادے کا آج موقع ملا،
حضرت کی اس خورد نوازی پر میں کٹ کے رہ گیاـ
دویا تین سال قبل ممبئی میں ہی انجمن اہل السنہ والجماعہ کی سالانہ تحفظ سنت وسیرت صحابہ کانفرنس میں تشریف لائے تھے ـ نقاہت کے باوجود آخر تک موجود رہے، تقریر فرمائی اگرچہ عمر کی زیادتی کے باعث کچھ الفاظ صاف نہیں تھے مگردرمیان میں آنے والی قرانی آیات بالکل صاف مخارج کے ساتھ تلاوت فرماتے تھے ـ
ضعف تو تھا ہی پچھلے کئی دنوں سے صحت کی خرابی کی اطلاعات بھی آرہی تھیں، ویسے بھی عمر طبعی کو پہونچ چکے تھے، کب ساتھ چھوڑ جائیں یہ دھڑکابھی تھا ……مگر جب وفات کی اطلاع آئی تو ایسا لگا کہ اتنی جلدی ….. اچانک…؟
یقینا حضرت کے صاحبزادگان ودیگر اہل خانہ تعزیت کے مستحق ہیں ….. ہم ان کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش بھی کرتے ہیں…..،
مگر کیا ہم متعلقین و متوسلین حضرت کے کچھ نہیں لگتے؟
کاش ہم سے بھی کوئی تعزیت کرتا ـحضرت مولانا سالم صاحب کی رحلت
حادثہ سخت ہے اور جان عزیز

از…..محمود دریابادی

چھ ساڑھے چھہ برس عمر ہی کتنی ہوتی ہے مگر مجھے یاد ہے جب پہلی بار حضرت مولانا سالم صاحب کو دیکھا تھا ‘ دراصل ممبئی میں اسلامی سال کے آغازمحرم میں مسلم محلوں کے اندر وعظ کی نششتیں منعقد کرنے کی روایت نہ جانے کب سے چلی آرہی ہے، تمام مکاتب فکر کے مسلمان اِنھیں منعقد کرتے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں سےاپنے علماء کو بلا کر فلسفہ شہادت ودیگر عنوانات پر تقریریں کرواتے ہیں ـ
اپنے حلقے کے مشہور عالم دین اور مقبول واعِظ حضرت مولاناابوالوفا شاہجہانپوری کے مواعظ بھی اس موقع پر بھنڈی بازار پٹھان واڑی میں ہوا کرتے تھے، عام دنوں میں تویہ جلسے عشا بعد ہوتے تھے مگر عاشورہ کے دن چونکہ آس پاس کے علاقے میں کچھ لوگ راستوں پر غیر شرعی کھیل تماشے کیا کرتے تھے ان سے اپنے لوگوں کو محفوِظ رکھنے کے لئے اس دن صبح آٹھ بجے سے ظہر تک بھی ایک جلسہ ہوتا تھا، اس جلسے کی خصوصیت یہ ہوتی تھی کہ ان دنوں ممبئی میں وعظ کرنے والے تمام حلقہ دیوبند کے علماء کو دعوت دی جاتی تھی تھوڑی تھوڑی دیر ہی سہی سب کے بیانات ہوتے تھے، بہت بڑی تعداد میں سامعین کی شرکت ہوتی تھی، مولانا ابوالوفا صاحب کے بعد یہ دن والا جلسہ توختم ہوگیا رات کے جلسے اب بھی ہوتے ہیں ـ
یوم عاشورہ کے ایسے ہی کسی جلسے میں خطیب الاسلام کی پہلی زیارت ہوئی تھی، چھوٹی سی عمر میں ابّا کی انگلی پکڑکے میں اس جلسے میں شریک ہوا تھا ـ یہ بھی یاد ہے کہ جلسے کی صدارت اور نظامت خود حضرت مولانا ابوالوفا صاحب فرمارہے تھے، اس میں سیاہ ڈارھی ‘ متوسط قد ‘ دوہرے بدن اور بھاری آواز کی حامل ایک شخصیت کا تعارف مہتمم دارالعلوم دیوبند حکیم الاسلام قاری طیب صاحب کے صاحبزادے کی حیثیت سے کرایا گیا، نام سنتے ہی لوگ سنبھل کر بیٹھ گئے، تقریر کیا ہوئی کیسی ہوئی چھ سال کی عمر میں مجھے کیا سمجھ میں آتا، مگر شخصیت کی تصویر جو اس وقت ذہن میں چسپاں ہوئی تھی آج بھی تازہ ہے ـ
اس کے بعد نہ جانے کتنی مرتبہ ممبئی میں زیارت ہوئی یاد نہیں مگر اپنی کم عمری کی وجہ سے مصافحہ کا شرف حاصل نہیں کرپایا، پہلی بار قریب سے اس وقت دیکھا جب دارالعلوم میں درجہ ہفتم میں احقر کا داخلہ ہوا، مگر اتفاق یہ بھی ہوا کہ اُس سال ہمارا کوئی سبق حضرت سے متعلق نہیں ہوسکا، حضرت اُن دنوں ہفتم کی غالبا مشکوۃ پڑھاتے تھے مگر ہماری مشکوۃ حضرت مولانا نعیم صاحب سے متعلق تھی، مگر حضرت کو اپنی مخصوص ہیئت اور خاص رفتار کے ساتھ گھر سے درسگاہ تک آتے جاتے ہمیشہ دیکھتے تھے، راستے میں ملنے والے طالبعلم سلام کرتے تو جواب دیتے مگر ادھر اُدھر دیکھے بغیر آگے بڑھ جاتے، یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے راستے میں سلام کے بعد مخاطب کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ” حضرت آج سبق میں حاضر تھا مگر جب حاضری ہورہی تھی تب اپنا نام نہیں سن سکا اس لئے غیر حاضری لگ گئی ہے ـ حضرت کا جواب اب بھی دماغ میں گونج رہا ہے، ” جفَّ القلم ‘ مَضیٰ ما مَضیٰ ” یہ کہتے ہوئے اسی ” خرام مستانہ ” کے ساتھ آگے بڑھ گئے ـ
دارالعلوم کی علاقائی انجمنوں کے جلسے میں بارہا حضرت کے بیانات سے بھی مستفیض ہونے کا موقع ملا ‘ صاف اور ششتہ زبان ‘ یکساں انداز ‘ بار بار ” ظاہر ہے ” اور غیر معمولی ” کا تکیہ کلام جو سننے والے کو بھلا لگتا تھا نیز اپنے مخصوص انداز میں علوم ومعارف خصوصا حکمتِ قاسمیہ کی ترسیل اب بھی کانوں میں رس گھول رہی ہے ـ
دورہ حدیث میں ابوداؤد ثانی کا سبق آپ سے متعلق ہوا، گھڑی دیکھ کر صحیح وقت پر دارالحدیث فوقانی میں تشریف لاتے ‘ مسند پرتشریف فرما ہوتے، عبارت ہوتی، سبق شروع ہوتا گویا کوئی علم کی مشین کُھل گئی، ایسا لگتا تھا سامنے کوئی کتاب رکھی ہے جس سے کوئی تحریر پڑھی جارہی ہو کوئی رُکاوٹ نہیں، کوئی اتار چڑھاونہیں، کوئی غیر ضروری بات، واقعہ، لطیفہ کچھ بھی نہیں، بس ” ظاہر ہے ” اور” غیر معمولی ” کی متناسب تکرار، وقت پورا ہوا، کتاب بند، حضرت روانہ ……..،
ہم اپنی نالائقی یا بد شوقی کی وجہ سے ہمیشہ درسگاہ کے ” پس نشینوں ” میں رہے ہیں اس لئے تعلیم کے دوران دارالعلوم کے اپنےاساتذہ سے بہت ذیادہ روابط نہیں رہے، لیکن اپنی ” جسمانی فربہی ” اور دیگر غیر درسی قسم کی مشغولیات کی وجہ سے بیشتر اساتذہ وطلبا یہاں تک کہ دیوبند کے اکثر رکشہ والے بھی پہچاننے لگے تھےـ
ویسے دارالعلوم کی زندگی میں حضرت سے بالمشافہہ گفتگو کا بس ایک ہی موقع ملا………، ہوا یہ تھا کہ ہمارے دورے کے سال میں شیخ الاسلام لا ئبریری کے زیر اہتمام ہم لوگوں نے ایک بڑا جلسہ کرنا طے کیا تھا جس میں ملک کے نامور علماء مولانا سعید احمد اکبر ابادی ‘ مولانا اسعد مدنی، مولانا اخلاق حسین قاسمی اور علامہ انور صابری وغیرہ شریک ہورہے تھے، اس وقت مسجد رشید تعمیرنہیں ہوئی تھی اور دارالعلوم میں سب سے بڑا ہال دارالحدیث تحتانی ہی تھا تمام بڑے پروگرام چاہے وہ دارالعلوم کے اپنے ہوں یا طلبا کےوہیں ہواکرتے تھے، ہم لوگوں کا جلسہ بھی وہیں ہونا تھا، مگر اتفاق یہ ہوا کہ اجلاس صدسالہ کی تیاری کے سلسلے میں ہمارے جلسے کے ٹھیک دوسرے دن دارالعلوم نے پورے ملک کے مشاہیر کا ایک نمائندہ اجتماع طلب کرلیاتھا، اب ہمارا جلسہ خطرے میں پڑگیا تھا مہینوں سے ہم لوگ تیاری کر رہے تھے، علماء کو دعوت دی جاچکی تھی، مقالے تیار تھے، نعت خواں، مقررین سب تیاری کرچکے تھے، مہمانوں کی مدارات، جلسہ گاہ، ناشتہ پانی ساری ذمہ داریاں بانٹ دی گئی تھیں، عین موقع پر جلسے پر منڈالے والے اس خطرے سے تھے ہم تمام طلبا سہمے ہوئے تھے ـ ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیمی زندگی میں یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اس وقت بہت بڑی دکھائی دیتی تھیں ـ اس موقع پر ایک اور اطلاع آئی کہ نمائندہ اجتماع کے سلسلے میں جوبڑے اساتذہ کی میٹنگ ہوئی اس میں ہمارے جلسے کا ذکر ایسے انداز میں آیا جس کو ہم لوگ ” ذکر خیر ” نہیں کہہ سکتے تھے، اطلاع کے مطابق میٹنگ میں یہ طے ہورہا تھا کہ نمائندہ اجتماع طلبا کے جلسے کے مقابلے میں ذیادہ ضروری ہے، اس لئے طلبا کا جلسہ ملتوی کرادیا جائے، چونکہ حضرت مہتمم صاحب اتفاق سے اس میٹنگ میں شریک نہیں تھے اس لئے آخری فیصلہ ان پر چھوڑ دیا گیا…….، انتہائی بارسوخ ذریعے سے ہم لوگوں کو یہ اطلاع فورا مل گئی، ہم لوگوں نے فورا ہنگامی میٹنگ بلائی طے کیا گیا کہ آج ہی حضرت مہتمم صاحب سے ملنا چاہئیے، چنانچہ مغرب بعد ہم آٹھ دس لوگ طیب منزل پہونچے، حضرت مہتمم صاحب موجود نہیں تھے مولانا سالم صاحب سے ملاقات ہوئی، ہم لوگوں نے پوری صورت حال بیان کی اور جلسہ کی تیاری اور طلبا کی محنت ذوق وشوق کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کی ہم لوگوں کا جلسہ ملتوی نہ کرایا جائے آگے سالانہ امتحان ہے، طلبا تیاری میں لگ جائیں گے، بیرونی مہمانوں کی منظوری بھی مل چکی ہے دوبارہ ان سے نئی تاریخیں بھی شاید نہ مل سکیں ـ
حضرت نے ہم لوگوں کی بات پوری توجہ سے سنی اور پہلے تو تعجب کا اظہار فرمایا کہ آپ لوگوں کی خفیہ اتنی تیز ہے کہ ہماری میٹنگ میں ہونے والی اندورنی گفتگو کی بھی اطلاع آپ تک پہونچ گئی، آگے آپ نے وہی اصولی بات فرمائی کہ دارالعلوم کا مفاد مقدم ہے، دارالعلوم ہی کے مفاد سے ہم سب کا مفاد وابستہ ہے، چونکہ دوسرے دن صبح ہی نمائندہ اجتماع اسی جگہ ہونا ہے اس لئے جلسہ گاہ کو رات ہی میں تیار کرکے رکھنا ہوگا اس لئے یہ بات آئی تھی کہ اُپ لوگوں کا جلسہ ملتوی ہوجائےـ
حضرت کے اس جواب سے ہم لوگ مایوس ہوگئے اسی وقت اللہ نے احقر کے دماغ میں ایک نئی بات ڈالی میں نے عرض کیا کہ ” حضرت اگر دارالحدیث تحتانی میں ہمارا پروگرام ممکن نہیں ہے تو ہم لوگ دارالحدیث فوقانی میں اپنا پروگرام منتقل کرسکتے ہیں …..؟ میں نے اسی وقت ایک دوسرا پینترہ بھی پھینکا کہ ” اگر دارالحدیث تحتانی میں بھی ہمارا پروگرام ہوتا ہے تو ہمیں ہدائت دی جائے ہم جلسہ گاہ کو نمائندہ اجتماع کی ضرورت کے مطابق رات ہی میں تیار کردیں گے …….، اور میرا آخری پینترہ یہ تھا کہ ” پورے ملک سے نمائندہ اجتماع میں شریک ہونے والے مشاہیر یقینا ایک دن پہلے پہونچ جائیں گے اور وہ سب بھی ہمارے جلسے میں شریک ہوں گے اور ان کے سامنے ہم طلبا کامظاہرہ بھی کسی حد دارالعلوم کی نیک نامی کا سبب بن سکتا ہے ـ
میری اس گفتگو کے بعد حضرت نے میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا ” اب آپ نے جویہ نئی تجویز پیش کی ہے اس پر مشورے کے بعد ہی کوئی جواب دیا جاسکتا ہے،
ہم لوگ واپس آگئے، حضرت سے یہ ملاقات خاص طور پرمجھے اس لئے بھی اچھی لگی کہ حضرت نے ہم طلبا کی بات پورے اطمینان اور دلجمعی کے ساتھ سنی، جوابی گفتگو میں بھی نرمی اور ہمدردی کا اظہار فرمایا ـ بہر حال جلسہ ہوا اسی تاریخ اور اسی جگہ پر ہوا، بہت کامیاب رہا بیرونی علما کرام اور نمائندہ اجتماع کے بعض مشاہیر کے بیانات ہوئے طلبا کی تقریریں ‘ مقالات بہت پسند کئے گئے احقر کا بھی ایک مقالہ تھا وہ بھی بہت پسند کیاگیا(افسوس محفوظ نہیں رہا)
فراغت کے بعد اجلاس صد سالہ کے موقع پر بھی دور سے زیارت ہوئی، پھر دارالعلوم کا قضیہ نامرضیہ پیش آگیا، پتہ چلا کہ جامع مسجد میں دارالعلوم وقف قائم ہواہے …… اسی دوران ایک دن اچانک ممبئی میں میرے دواخانے کے سامنے ایک گاڑی رکی، میں نے دیکھا کہ حضرت مولانا سالم صاحب اگلی سیٹ پر تشریف فرماہیں پیچھے دوافراد اور ہیں، میری نظر پڑی فورا بھاگا ہوا گیا، سلام کیا ‘ موٹا ہونا اس دن بھی کام آیا، تعارف کی ضرورت پیش نہیں آئی حضرت نے پہچان لیا، معلوم ہوا کسی صاحب کے انتظار میں یہاں ٹہرے ہیں، دھوپ شدید تھی اس لئے میں نے درخواست کی کہ جب تک دواخانے میں تشریف رکھیں، تشریف لائے…….، وہ آئیں گھر میں ہمارے خداکی قدرت ہے ـ…… کلاہِ گوشہ دہقاں بہ آفتاب رسید ـ
دواخانےکی اس مختصرسی اتفاقی ملاقات کے بعد ایک مرتبہ اور ذرہ نوازی فرمائی باقاعدہ ارادہ کرکے ملنے تشریف لائے ، حضرت قاری صدیق صاحب باندوی علیہ الرحمہ کی وفات پر ہم لوگوں نے ممبئی میں ایک بڑا تعزیتی جلسہ کیا اس میں دعوت دی تشریف لائے، انتہائی موثر صدارتی تقریر فرمائی….،
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ممبئی میں ایک زبردست پروگرام کیا تھا جس میں امام کعبہ سمیت متعدد عالمی شخصیات بھی شریک ہوئی تھیں، ممبئی کے علماء ذاکر نائک کے بعض نظریات کی وجہ سے اس کو پسندنہیں کرتے تھے….. مگر ذاکر نائیک نے دولت کے زور پر محض ممبئی کے علماء کو بے عزت کرنے کے لئےبعض علماء دیوبند وندوہ کو بھی اپنے پروگرام میں مدعو کیاتھا، ہم لوگوں نے اپنے تمام علماء جن کو اس نے مدعو کیا تھا سے رابطہ کرکے ان کو ذاکر نائک کے نظریات وخیالات سےاگاہ کیا اور اس کے پروگرام میں اپنے علماء کی شرکت سے مسلک دیوبند کو ہونے والے نقصانات کو بتایا، افسوس ہمارے بیشتر علماء نے ہماری معروضات پر توجہ نہیں دی اور ” کیسہ زر ” کو مسلک پر مقدم رکھا، مگر آفریں صد آفریں، خانوادہ قاسمی کےاس فردِفرید پر جو پروگرام میں شرکت کے لئے ممبئی تشریف لاچکے تھے مگر جب ہم لوگوں نے ملاقات کرکے پوری تفصیل گوش گذار کی تو بغیر پروگرام میں شرکت کئے ہوئے واپس تشریف لے گئے، ممبئی میں قیام گاہ پر لینے آنے والی ذاکرنائیک کی گاڑی واپس کردی ـ
لکھنو کے ایک پروگرام میں احقر بھی مدعو تھا، حضرت مہمان خصوصی تھے، اس میں احقر نے بھی ایک عدد کج مج قسم کی تقریر کی تھی، پروگرام کے بعد ملاقات جب ہوئی فرمانے لگے کہ ” تعارف تو پہلے سے تھا جناب سے استفادے کا آج موقع ملا،
حضرت کی اس خورد نوازی پر میں کٹ کے رہ گیاـ
دویا تین سال قبل ممبئی میں ہی انجمن اہل السنہ والجماعہ کی سالانہ تحفظ سنت وسیرت صحابہ کانفرنس میں تشریف لائے تھے ـ نقاہت کے باوجود آخر تک موجود رہے، تقریر فرمائی اگرچہ عمر کی زیادتی کے باعث کچھ الفاظ صاف نہیں تھے مگردرمیان میں آنے والی قرانی آیات بالکل صاف مخارج کے ساتھ تلاوت فرماتے تھے ـ
ضعف تو تھا ہی پچھلے کئی دنوں سے صحت کی خرابی کی اطلاعات بھی آرہی تھیں، ویسے بھی عمر طبعی کو پہونچ چکے تھے، کب ساتھ چھوڑ جائیں یہ دھڑکابھی تھا ……مگر جب وفات کی اطلاع آئی تو ایسا لگا کہ اتنی جلدی ….. اچانک…؟
یقینا حضرت کے صاحبزادگان ودیگر اہل خانہ تعزیت کے مستحق ہیں ….. ہم ان کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش بھی کرتے ہیں…..،
مگر کیا ہم متعلقین و متوسلین حضرت کے کچھ نہیں لگتے؟
کاش ہم سے بھی کوئی تعزیت کرتا ـحضرت مولانا سالم صاحب کی رحلت
حادثہ سخت ہے اور جان عزیز

از…..محمود دریابادی

چھ ساڑھے چھہ برس عمر ہی کتنی ہوتی ہے مگر مجھے یاد ہے جب پہلی بار حضرت مولانا سالم صاحب کو دیکھا تھا ‘ دراصل ممبئی میں اسلامی سال کے آغازمحرم میں مسلم محلوں کے اندر وعظ کی نششتیں منعقد کرنے کی روایت نہ جانے کب سے چلی آرہی ہے، تمام مکاتب فکر کے مسلمان اِنھیں منعقد کرتے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں سےاپنے علماء کو بلا کر فلسفہ شہادت ودیگر عنوانات پر تقریریں کرواتے ہیں ـ
اپنے حلقے کے مشہور عالم دین اور مقبول واعِظ حضرت مولاناابوالوفا شاہجہانپوری کے مواعظ بھی اس موقع پر بھنڈی بازار پٹھان واڑی میں ہوا کرتے تھے، عام دنوں میں تویہ جلسے عشا بعد ہوتے تھے مگر عاشورہ کے دن چونکہ آس پاس کے علاقے میں کچھ لوگ راستوں پر غیر شرعی کھیل تماشے کیا کرتے تھے ان سے اپنے لوگوں کو محفوِظ رکھنے کے لئے اس دن صبح آٹھ بجے سے ظہر تک بھی ایک جلسہ ہوتا تھا، اس جلسے کی خصوصیت یہ ہوتی تھی کہ ان دنوں ممبئی میں وعظ کرنے والے تمام حلقہ دیوبند کے علماء کو دعوت دی جاتی تھی تھوڑی تھوڑی دیر ہی سہی سب کے بیانات ہوتے تھے، بہت بڑی تعداد میں سامعین کی شرکت ہوتی تھی، مولانا ابوالوفا صاحب کے بعد یہ دن والا جلسہ توختم ہوگیا رات کے جلسے اب بھی ہوتے ہیں ـ
یوم عاشورہ کے ایسے ہی کسی جلسے میں خطیب الاسلام کی پہلی زیارت ہوئی تھی، چھوٹی سی عمر میں ابّا کی انگلی پکڑکے میں اس جلسے میں شریک ہوا تھا ـ یہ بھی یاد ہے کہ جلسے کی صدارت اور نظامت خود حضرت مولانا ابوالوفا صاحب فرمارہے تھے، اس میں سیاہ ڈارھی ‘ متوسط قد ‘ دوہرے بدن اور بھاری آواز کی حامل ایک شخصیت کا تعارف مہتمم دارالعلوم دیوبند حکیم الاسلام قاری طیب صاحب کے صاحبزادے کی حیثیت سے کرایا گیا، نام سنتے ہی لوگ سنبھل کر بیٹھ گئے، تقریر کیا ہوئی کیسی ہوئی چھ سال کی عمر میں مجھے کیا سمجھ میں آتا، مگر شخصیت کی تصویر جو اس وقت ذہن میں چسپاں ہوئی تھی آج بھی تازہ ہے ـ
اس کے بعد نہ جانے کتنی مرتبہ ممبئی میں زیارت ہوئی یاد نہیں مگر اپنی کم عمری کی وجہ سے مصافحہ کا شرف حاصل نہیں کرپایا، پہلی بار قریب سے اس وقت دیکھا جب دارالعلوم میں درجہ ہفتم میں احقر کا داخلہ ہوا، مگر اتفاق یہ بھی ہوا کہ اُس سال ہمارا کوئی سبق حضرت سے متعلق نہیں ہوسکا، حضرت اُن دنوں ہفتم کی غالبا مشکوۃ پڑھاتے تھے مگر ہماری مشکوۃ حضرت مولانا نعیم صاحب سے متعلق تھی، مگر حضرت کو اپنی مخصوص ہیئت اور خاص رفتار کے ساتھ گھر سے درسگاہ تک آتے جاتے ہمیشہ دیکھتے تھے، راستے میں ملنے والے طالبعلم سلام کرتے تو جواب دیتے مگر ادھر اُدھر دیکھے بغیر آگے بڑھ جاتے، یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے راستے میں سلام کے بعد مخاطب کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ” حضرت آج سبق میں حاضر تھا مگر جب حاضری ہورہی تھی تب اپنا نام نہیں سن سکا اس لئے غیر حاضری لگ گئی ہے ـ حضرت کا جواب اب بھی دماغ میں گونج رہا ہے، ” جفَّ القلم ‘ مَضیٰ ما مَضیٰ ” یہ کہتے ہوئے اسی ” خرام مستانہ ” کے ساتھ آگے بڑھ گئے ـ
دارالعلوم کی علاقائی انجمنوں کے جلسے میں بارہا حضرت کے بیانات سے بھی مستفیض ہونے کا موقع ملا ‘ صاف اور ششتہ زبان ‘ یکساں انداز ‘ بار بار ” ظاہر ہے ” اور غیر معمولی ” کا تکیہ کلام جو سننے والے کو بھلا لگتا تھا نیز اپنے مخصوص انداز میں علوم ومعارف خصوصا حکمتِ قاسمیہ کی ترسیل اب بھی کانوں میں رس گھول رہی ہے ـ
دورہ حدیث میں ابوداؤد ثانی کا سبق آپ سے متعلق ہوا، گھڑی دیکھ کر صحیح وقت پر دارالحدیث فوقانی میں تشریف لاتے ‘ مسند پرتشریف فرما ہوتے، عبارت ہوتی، سبق شروع ہوتا گویا کوئی علم کی مشین کُھل گئی، ایسا لگتا تھا سامنے کوئی کتاب رکھی ہے جس سے کوئی تحریر پڑھی جارہی ہو کوئی رُکاوٹ نہیں، کوئی اتار چڑھاونہیں، کوئی غیر ضروری بات، واقعہ، لطیفہ کچھ بھی نہیں، بس ” ظاہر ہے ” اور” غیر معمولی ” کی متناسب تکرار، وقت پورا ہوا، کتاب بند، حضرت روانہ ……..،
ہم اپنی نالائقی یا بد شوقی کی وجہ سے ہمیشہ درسگاہ کے ” پس نشینوں ” میں رہے ہیں اس لئے تعلیم کے دوران دارالعلوم کے اپنےاساتذہ سے بہت ذیادہ روابط نہیں رہے، لیکن اپنی ” جسمانی فربہی ” اور دیگر غیر درسی قسم کی مشغولیات کی وجہ سے بیشتر اساتذہ وطلبا یہاں تک کہ دیوبند کے اکثر رکشہ والے بھی پہچاننے لگے تھےـ
ویسے دارالعلوم کی زندگی میں حضرت سے بالمشافہہ گفتگو کا بس ایک ہی موقع ملا………، ہوا یہ تھا کہ ہمارے دورے کے سال میں شیخ الاسلام لا ئبریری کے زیر اہتمام ہم لوگوں نے ایک بڑا جلسہ کرنا طے کیا تھا جس میں ملک کے نامور علماء مولانا سعید احمد اکبر ابادی ‘ مولانا اسعد مدنی، مولانا اخلاق حسین قاسمی اور علامہ انور صابری وغیرہ شریک ہورہے تھے، اس وقت مسجد رشید تعمیرنہیں ہوئی تھی اور دارالعلوم میں سب سے بڑا ہال دارالحدیث تحتانی ہی تھا تمام بڑے پروگرام چاہے وہ دارالعلوم کے اپنے ہوں یا طلبا کےوہیں ہواکرتے تھے، ہم لوگوں کا جلسہ بھی وہیں ہونا تھا، مگر اتفاق یہ ہوا کہ اجلاس صدسالہ کی تیاری کے سلسلے میں ہمارے جلسے کے ٹھیک دوسرے دن دارالعلوم نے پورے ملک کے مشاہیر کا ایک نمائندہ اجتماع طلب کرلیاتھا، اب ہمارا جلسہ خطرے میں پڑگیا تھا مہینوں سے ہم لوگ تیاری کر رہے تھے، علماء کو دعوت دی جاچکی تھی، مقالے تیار تھے، نعت خواں، مقررین سب تیاری کرچکے تھے، مہمانوں کی مدارات، جلسہ گاہ، ناشتہ پانی ساری ذمہ داریاں بانٹ دی گئی تھیں، عین موقع پر جلسے پر منڈالے والے اس خطرے سے تھے ہم تمام طلبا سہمے ہوئے تھے ـ ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیمی زندگی میں یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اس وقت بہت بڑی دکھائی دیتی تھیں ـ اس موقع پر ایک اور اطلاع آئی کہ نمائندہ اجتماع کے سلسلے میں جوبڑے اساتذہ کی میٹنگ ہوئی اس میں ہمارے جلسے کا ذکر ایسے انداز میں آیا جس کو ہم لوگ ” ذکر خیر ” نہیں کہہ سکتے تھے، اطلاع کے مطابق میٹنگ میں یہ طے ہورہا تھا کہ نمائندہ اجتماع طلبا کے جلسے کے مقابلے میں ذیادہ ضروری ہے، اس لئے طلبا کا جلسہ ملتوی کرادیا جائے، چونکہ حضرت مہتمم صاحب اتفاق سے اس میٹنگ میں شریک نہیں تھے اس لئے آخری فیصلہ ان پر چھوڑ دیا گیا…….، انتہائی بارسوخ ذریعے سے ہم لوگوں کو یہ اطلاع فورا مل گئی، ہم لوگوں نے فورا ہنگامی میٹنگ بلائی طے کیا گیا کہ آج ہی حضرت مہتمم صاحب سے ملنا چاہئیے، چنانچہ مغرب بعد ہم آٹھ دس لوگ طیب منزل پہونچے، حضرت مہتمم صاحب موجود نہیں تھے مولانا سالم صاحب سے ملاقات ہوئی، ہم لوگوں نے پوری صورت حال بیان کی اور جلسہ کی تیاری اور طلبا کی محنت ذوق وشوق کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کی ہم لوگوں کا جلسہ ملتوی نہ کرایا جائے آگے سالانہ امتحان ہے، طلبا تیاری میں لگ جائیں گے، بیرونی مہمانوں کی منظوری بھی مل چکی ہے دوبارہ ان سے نئی تاریخیں بھی شاید نہ مل سکیں ـ
حضرت نے ہم لوگوں کی بات پوری توجہ سے سنی اور پہلے تو تعجب کا اظہار فرمایا کہ آپ لوگوں کی خفیہ اتنی تیز ہے کہ ہماری میٹنگ میں ہونے والی اندورنی گفتگو کی بھی اطلاع آپ تک پہونچ گئی، آگے آپ نے وہی اصولی بات فرمائی کہ دارالعلوم کا مفاد مقدم ہے، دارالعلوم ہی کے مفاد سے ہم سب کا مفاد وابستہ ہے، چونکہ دوسرے دن صبح ہی نمائندہ اجتماع اسی جگہ ہونا ہے اس لئے جلسہ گاہ کو رات ہی میں تیار کرکے رکھنا ہوگا اس لئے یہ بات آئی تھی کہ اُپ لوگوں کا جلسہ ملتوی ہوجائےـ
حضرت کے اس جواب سے ہم لوگ مایوس ہوگئے اسی وقت اللہ نے احقر کے دماغ میں ایک نئی بات ڈالی میں نے عرض کیا کہ ” حضرت اگر دارالحدیث تحتانی میں ہمارا پروگرام ممکن نہیں ہے تو ہم لوگ دارالحدیث فوقانی میں اپنا پروگرام منتقل کرسکتے ہیں …..؟ میں نے اسی وقت ایک دوسرا پینترہ بھی پھینکا کہ ” اگر دارالحدیث تحتانی میں بھی ہمارا پروگرام ہوتا ہے تو ہمیں ہدائت دی جائے ہم جلسہ گاہ کو نمائندہ اجتماع کی ضرورت کے مطابق رات ہی میں تیار کردیں گے …….، اور میرا آخری پینترہ یہ تھا کہ ” پورے ملک سے نمائندہ اجتماع میں شریک ہونے والے مشاہیر یقینا ایک دن پہلے پہونچ جائیں گے اور وہ سب بھی ہمارے جلسے میں شریک ہوں گے اور ان کے سامنے ہم طلبا کامظاہرہ بھی کسی حد دارالعلوم کی نیک نامی کا سبب بن سکتا ہے ـ
میری اس گفتگو کے بعد حضرت نے میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا ” اب آپ نے جویہ نئی تجویز پیش کی ہے اس پر مشورے کے بعد ہی کوئی جواب دیا جاسکتا ہے،
ہم لوگ واپس آگئے، حضرت سے یہ ملاقات خاص طور پرمجھے اس لئے بھی اچھی لگی کہ حضرت نے ہم طلبا کی بات پورے اطمینان اور دلجمعی کے ساتھ سنی، جوابی گفتگو میں بھی نرمی اور ہمدردی کا اظہار فرمایا ـ بہر حال جلسہ ہوا اسی تاریخ اور اسی جگہ پر ہوا، بہت کامیاب رہا بیرونی علما کرام اور نمائندہ اجتماع کے بعض مشاہیر کے بیانات ہوئے طلبا کی تقریریں ‘ مقالات بہت پسند کئے گئے احقر کا بھی ایک مقالہ تھا وہ بھی بہت پسند کیاگیا(افسوس محفوظ نہیں رہا)
فراغت کے بعد اجلاس صد سالہ کے موقع پر بھی دور سے زیارت ہوئی، پھر دارالعلوم کا قضیہ نامرضیہ پیش آگیا، پتہ چلا کہ جامع مسجد میں دارالعلوم وقف قائم ہواہے …… اسی دوران ایک دن اچانک ممبئی میں میرے دواخانے کے سامنے ایک گاڑی رکی، میں نے دیکھا کہ حضرت مولانا سالم صاحب اگلی سیٹ پر تشریف فرماہیں پیچھے دوافراد اور ہیں، میری نظر پڑی فورا بھاگا ہوا گیا، سلام کیا ‘ موٹا ہونا اس دن بھی کام آیا، تعارف کی ضرورت پیش نہیں آئی حضرت نے پہچان لیا، معلوم ہوا کسی صاحب کے انتظار میں یہاں ٹہرے ہیں، دھوپ شدید تھی اس لئے میں نے درخواست کی کہ جب تک دواخانے میں تشریف رکھیں، تشریف لائے…….، وہ آئیں گھر میں ہمارے خداکی قدرت ہے ـ…… کلاہِ گوشہ دہقاں بہ آفتاب رسید ـ
دواخانےکی اس مختصرسی اتفاقی ملاقات کے بعد ایک مرتبہ اور ذرہ نوازی فرمائی باقاعدہ ارادہ کرکے ملنے تشریف لائے ، حضرت قاری صدیق صاحب باندوی علیہ الرحمہ کی وفات پر ہم لوگوں نے ممبئی میں ایک بڑا تعزیتی جلسہ کیا اس میں دعوت دی تشریف لائے، انتہائی موثر صدارتی تقریر فرمائی….،
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ممبئی میں ایک زبردست پروگرام کیا تھا جس میں امام کعبہ سمیت متعدد عالمی شخصیات بھی شریک ہوئی تھیں، ممبئی کے علماء ذاکر نائک کے بعض نظریات کی وجہ سے اس کو پسندنہیں کرتے تھے….. مگر ذاکر نائیک نے دولت کے زور پر محض ممبئی کے علماء کو بے عزت کرنے کے لئےبعض علماء دیوبند وندوہ کو بھی اپنے پروگرام میں مدعو کیاتھا، ہم لوگوں نے اپنے تمام علماء جن کو اس نے مدعو کیا تھا سے رابطہ کرکے ان کو ذاکر نائک کے نظریات وخیالات سےاگاہ کیا اور اس کے پروگرام میں اپنے علماء کی شرکت سے مسلک دیوبند کو ہونے والے نقصانات کو بتایا، افسوس ہمارے بیشتر علماء نے ہماری معروضات پر توجہ نہیں دی اور ” کیسہ زر ” کو مسلک پر مقدم رکھا، مگر آفریں صد آفریں، خانوادہ قاسمی کےاس فردِفرید پر جو پروگرام میں شرکت کے لئے ممبئی تشریف لاچکے تھے مگر جب ہم لوگوں نے ملاقات کرکے پوری تفصیل گوش گذار کی تو بغیر پروگرام میں شرکت کئے ہوئے واپس تشریف لے گئے، ممبئی میں قیام گاہ پر لینے آنے والی ذاکرنائیک کی گاڑی واپس کردی ـ
لکھنو کے ایک پروگرام میں احقر بھی مدعو تھا، حضرت مہمان خصوصی تھے، اس میں احقر نے بھی ایک عدد کج مج قسم کی تقریر کی تھی، پروگرام کے بعد ملاقات جب ہوئی فرمانے لگے کہ ” تعارف تو پہلے سے تھا جناب سے استفادے کا آج موقع ملا،
حضرت کی اس خورد نوازی پر میں کٹ کے رہ گیاـ
دویا تین سال قبل ممبئی میں ہی انجمن اہل السنہ والجماعہ کی سالانہ تحفظ سنت وسیرت صحابہ کانفرنس میں تشریف لائے تھے ـ نقاہت کے باوجود آخر تک موجود رہے، تقریر فرمائی اگرچہ عمر کی زیادتی کے باعث کچھ الفاظ صاف نہیں تھے مگردرمیان میں آنے والی قرانی آیات بالکل صاف مخارج کے ساتھ تلاوت فرماتے تھے ـ
ضعف تو تھا ہی پچھلے کئی دنوں سے صحت کی خرابی کی اطلاعات بھی آرہی تھیں، ویسے بھی عمر طبعی کو پہونچ چکے تھے، کب ساتھ چھوڑ جائیں یہ دھڑکابھی تھا ……مگر جب وفات کی اطلاع آئی تو ایسا لگا کہ اتنی جلدی ….. اچانک…؟
یقینا حضرت کے صاحبزادگان ودیگر اہل خانہ تعزیت کے مستحق ہیں ….. ہم ان کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش بھی کرتے ہیں…..،
مگر کیا ہم متعلقین و متوسلین حضرت کے کچھ نہیں لگتے؟
کاش ہم سے بھی کوئی تعزیت کرتا ـ