“ایسا تو نہیں تھا میرا ھندوستان”

از قلم _ مفتی محمد اجود اللہ صاحب پھولپوری نائب ناظم مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائمیر اعظم گڈہ یوپی

بـلـبـلِ ھـنـد مـرگـیا ھـیـھات
جسکی تھی ھر بات میں اک بات

چند سالوں پہلے اسی ھندوستان کے کانگریسی دور حکومت میں ایک شرم ناک حادثہ پیش آیا تھا جس سے پورا ملک سکتے میں آگیا تھا………. نربھیّا جیسی بچی سے کھلے عام ریپ ھوا……. ریپسٹوں نے ظلم کی ساری حدوں کو پار کردیا……… مثبت بات یہ رھی کہ ایک نئے ھندوستان سے بھی لوگ واقف ھوئے…… پورا ملک سڑکوں پر اتر آیا…… کسی نے یہ جان نے کی کوشش نہیں کی کہ مظلومہ کا مذھب کیا ھے…… سب ھندوستانی مذھب میں رنگے نظر آئے جو ایک نئے ھندوستان کے بہتر مستقبل کی بنیاد تھی …….لیکن پھر تصویر بدلی….. بھاجپا کا دور حکومت آیا کشمیر میں آصفہ نامی سات سالہ بچی سے چند مذھب کے ٹھیکیداروں نے حیوانیت کا ننگا ناچ ناچا……. ھفتوں اس بچی کے ساتھ بدکاری ھوتی رھی انتہا تو تب ھوگئی جب عزت و عصمت کی محافظ سمجھی جانے پولیس کی بھی اس درندگی میں برابر کی حصہ داری ھوگئی……… پھر ھندوستان نے ایک ایسے ھندوستان کا کریہہ چہرہ دیکھا جسکو دیکھنے کے بعد میرا ھندوستان وینٹی لیٹرپر چلا گیا……..کسی کی زبان نے ایک لفظ کہنا گوارا نہ کیا…..کوئی حمایت میں ایک قدم آگے نہیں بڑھا ……مانا حِسَیں مرچکی ھیں………. ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا کسی میں گودا نہیں ھے……پر ظلم کی حمایت میں تو نہ اترتے ……..مظلوموں کی مددگار مانی جانے والی کالی کوٹ (وکیل) بھی گیروا رنگ میں رنگ گئی……. انصاف ھندو مسلمان سے اپنی گردن کو نہیں چھڑا پایا……گویا فاسشٹ طاقتیں ھندو راشٹر ھونے کا ٹریلر دکھا رھی ھیں کہ آنے ولا ھندوستان ایسا ھی ھوگا…..جب ٹریلر ایسا ھے تو پکچر کیسی ھوگی سوچا بھی نہیں جاسکتا……!!
جمھوریت کے علمبرداروں اور سیکولر برادران وطن کو آگے آنا ھوگا……… ورنہ وینٹیلیٹر پر پڑا پیارا وطن بہت جلد اپنی زندگی کھو دیگا………خدا میرے ملک کی سرسبزی و شادابی کو واپس لوٹا دے اور عزتوں کے لٹیرے اور انکی پشت پناھی کرنے والے تمام اداروں کو خاکستر کردے….آمین