الزام تراشیاں ، جھوٹی تشہیر اور کمزورعوام پر جبربھگوا تنظیموں کی فطرت

سہارنپور( احمد رضا) مسلم فرقہ کیخلاف خصوصی طور پر اور دلت فرقہ کیخلاف عارضی طور پر ہونیوالی بیہودہ بیان بازی، الزام تراشی اور ہمارے خلاف بیہودہ جھوٹی تشہیر ایک منظم سازش کاہی حصہ ہے بھگوا بریگیڈ ملک میں اپنا وجود قائم رکھنے کیلئے دیگر کمزور اقوام کو پست کرنے پر آمادہ نظر آرہی ہیں ! ! فرضی گؤ ر رکشا دل کے کارکنان کمشنری میں پچھلے چار سالوں سے چندپولیس انسپکٹروں اور روڈ پر ڈیوٹی کرنیوالے پولیس عملہ سے ساز بازرکھتے ہوئے کروڑوں کی رقم اینٹھنے اور امن پسند سیدھے سادے عوام کو بری طرح سے زرد کوب کر نے میں کامیاب رہے ہریانہ اور بنجاپ سے آنے والی سیکڑوں گاڑیوں کو ان نامنہاد گؤ رکشک دل کے افراد نے جہاں پولیس سے ساز بازرکھتے ہوئے کروڑوں کی رقم سیدھے سادے عوام سے لوٹی ہے وہیں زیادہ تر مسلم ہیلپروں، ڈرائیوروں اور بھینسوں کا کاروبار کرنے والے افراد کو بھی جانوروں کی طرح پیٹنے اور کاٹنے میں بھی یہ شاطر سیاسی اثر ورثوخ والے درندے کامیاب رہے بھاجپاکی ہریانہ ، اتراکھنڈسرکاروں میں ان کا اثر اور جبر کچھ زیادہ ہی دیکھنے کو مل رہاہے! گزشتہ تیس دنوں کے درمیان بھگوا تنظیموں کے کارکنان نے تین تھانہ علاقوں کے کتنے ہی گا ؤں میں بھینس اور بیل سے لدی گاڑی کو جبریہ طور سے اپنے قبضہ میں کرلیا اور مسلم ڈرائیور و و ہیلپر سے مارپیٹ کی ن غنڈوں نے گاڑی میں موجود سواریوں کوبھی بری طرح سے زرد کوبکرتے ہوئے جانوروں کو کھلے عام لوٹ لیا اور سڑک پر غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا اسی طرح تھانہسرساوہ میں تو انکی غنڈہ گردی آج بھی عروج پر ہے کل بہٹ، بہاری گڑھ، چلکانہ اور مرزاپور کے مقامی بھگوا تنظیم کے رہبر ان نام نہاد گؤ رکشکا کے نام پر دودھ کیلئے لائے جارہے جانوروں کے مالکان کے ساتھ ا بھی تک درجن بھر شرمناک وارداتیں انجام د ی جاچکی ہیں مگر پولیس ان ملزمان کے خلاف کوئی ایکشن لینے کو راضی ہی نہی جبکہ بے قصور افراد کو گوشت کے نام پر جیل بھیجے جانے کا مشکل ترین مسئلہ اب مقامی پولیس اور انتظامیہ کیلئے عام بات بن کر رہگیاہے عام چرچہ ہیکہ بھگوا بریگیڈ کو خوش رکھنے کیلئے پولیس یہ کام کر رہی ہے، عام معاملات میں آجکل پولیس کا یہ بھی مانناہے کہ بے قصور وں کا کسی صورت نہی پھنسایا جائیگا اصل ملزمان کے خلاف ہی ایکن کیاجانا طے ہے ! ضلع میں آئے نئے ایس ایس پی ببلو کمارکے خوف سے مقامی پولیس نے فرسٹ ٹائم گاؤکشی کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں پر لاٹھیاں دکھاکر موقع پرست عناصر کو بھگا تے ہوئے بڑھتے جھگڑے کو فوری طور پر کنٹرول کر دکھایا جبکہ یہ معاملہ بھی بھینس کے گوشت کا ہی نکلا ہے نئے ایس ایس پی ببلو کمار نے کھلے الفاظ میں کہاکہ اب اس ضلع میں قانون ہاتھوں میں لینے کا یہ غیر قانونی رویہ برداشت نہی ہوگااور لاپرواہ پولیس اسٹاف کو بھی معاف نہی کیا جائیگا پولیس چیف نے سبھی واقعہ کی سہی جانچ کے ساتھ ساتھ قصور واروں کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کئے ہیں !ضلع کے سوشل کارکنان ، دانشور اور باضمیر سیاسی طبقہ نے ان وارداتوں کی زبردست مذمت کرتے ہوئے سیدھے الفاظ میں کہا ہے کہ یوپی میں سیاسی سرپرستی کے رہتے غنڈہ راج چل رہا ہے، تمام غنڈے سیاست دانوں کے عزیز و اقارب ہیں اور مختلف پارٹیوں سے وابستہ ہیں اسلئے غنڈوں اور مافیاؤں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ وہ کسی بھی صورت پولیس سے ڈر ہی نہیں رہے ہیں اور جرائم پر جرائم انجام دینے سے قطعی بھی ڈر نہی رہے ہیں،آجکل ویسٹ یوپی میں پولیس کے مقابلہ غنڈہ گردی اور مافیائی گروہ کار اج کاج لگاتار ہاوی ہوتا جا رہا ہے۔ اہم اورقابل ذکر بات یہاں یہ بھی بتانی ضروری ہے کہ ہمارے کلکٹرپرمود کمار پانڈیہ اور پولیس چیف ببلوکمار کی سخت محنت اور کوششوں سے اس وقت ضلع کے حالات پوری طرح سے پر امن بنے ہیں مگر گاؤں کے علاقوں میں پولیس گشت بڑھادیگئی ہے، ہمارے موجودہ ڈی جی پی او پی سنگھ ایماندار ، بے لوث اور محنتی سینئر پولیس افسرآج ریاستی پولیس کے مکھیا ہیں مگر جب تک سیاسی اثر اور دباؤ پولس افسران پر رہے گا تب تک اکیلے سڈی جی پی او پی سنگھ بھی کرائم پر اپنی پولس سے کنٹرول نہیں کرا سکتے ہیں سہی کام کیلئے سیاسی دباؤ نہی بلکہ پولیس و انتظامیہ کو مکمل آزادی چاہئے جبکہ موجودہ سرکار اپنے افسران پر من مانے کام کیلئے لگاتار دباؤ بناقنے میں مشغول ہے ایسی بہت سی شکایات یہاں کمشنری میں عام دیکھنے کو مل جاتی ہیں؟ 
قابل غور وفکر کی بات یہ ہیکہ ریاستی اے ڈی جی پی(پولیس) ویسٹ یوپی کے آئی جی لاء اینڈ آڈر ارون کمار کہ جن پر ویسٹ یوپی کے نظم ونسق کا ذمہ ہے وہ بھی فرقہ پرستوں، بیہودہ افواہیں پھیلانیوالوں ،جھوٹا پروپگنڈہ کرنے والے غنڈہ عناصر اور فرضی گؤ رکشکوں کے نام پر ظلم وستم ڈھانے والے افراد کی نکیل کسنے کے معاملہ میں شاید اپنے آپ کو لاچار محسوس کئے ہوئے ہیں ضلع کے کانگریسی اور بسپا قائدین کا الزام ہیکہ گؤ کشی کے نام پر اقلیتی فرقہ کے خلاف ایک گھنونی سازش کی جارہی ہے پولیس تماشائی بنی ہے، اسمیں کوئی دورائے نہی کہ ہمارے آئی جی زون ارون کمار ایک با صلاحیت اور با اخلاق سینئر افسر ہیں مگر مقامی پولیس اسکے بعد بھی منصفانہ کاروائی سے کیوں بچ رہی ہے یہ خد میں بڑا سوال ہے؟ گؤ کشی کی بے بنیاد خبروں اور افواہوں کے نتیجہ میں سہارنپور کمشنری میں گزشتہ پانچ ماہ کی مدت میں درجنوں مختلف تھانوں کے علاقوں میں درجن سے بھی زائد افسوسناک واقعات رونما ہوچکے ہیں ایسے واقعات نے ضلع کو بہت حساس بنا دیاہے بات بات میں عوام مذہبی جنون کا شکار ہونے لگتے ہیں جس وجہ سے ضلع کے امن پسند سینئر افسران کو واقعی ہی بہت مشقت اٹھانا پڑتی ہے مگر اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ہماری انتظامیہ اورمقامی پولیس کے چند ذمہ دار اکثر بھگوا غنڈوں کے سامنے تماشائی بنی رہتی ہے249! ارون کمار ایک قابل افسر ہیں بمگر دلت اور مسلم فرقہ پر اور ان فرقوں کے نام پر تشدد پھیلانے والوں کو قابو کر پانے میں ابھی تک صرف اسلئے مجبور ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سیاست کا بول بالاہے پولیس کو اپنی مرجی سے ایکشن کی چھوٹ آج بھی نہی ہے جوکچھ دلت تحریک کے دوران تشدد سامنے آیا وہ پولیس کی نا اہلی نہی بلکہ سیاست دانوں کی خد غرضی کا نتیجہ ہے ہمسبھی کو ملک کے امن کی خاطر موقع پرست سیاست دانوں کو سیاست سے دور کرتے ہوئے افواہوں اور کو نظر انداز کرناہی ہوگا؟