ویسٹ یوپی میں پر تشدد واقعات بھیم آرمی پر شکنجہ بھیم آرمی نے دی احتجاج کی دھمکی ا یس سی وایس ٹی ایکٹ کی آڑ میں سرکار کی سیاسی مفاد پرستی خطرناک 

سہارنپور (احمد رضا) گزشتہ تین روز کے درمیان پورے ملک میں جس قدر پر تشدد واقعات پیش آئے اسکیلئے سیدھے طور پر ریاستی سرکاریں ہی ذمہ دار ہیں لوکل سی آئی ڈی، ایس ٹی ایف اور اسپیشل کرائم برانچ اتنے بڑے تشدد سے قبل کچھ بھی سراغ نہی لگاسکی یعنی کے دہشت گردی کے حملہ کی دس دن قبل اطلاعات جاری کرنیوالی تمام تر خفیہ ایجنسیز اس خطرناک کھیل کی بابت پہلے تو کیا بلکہ تشدد کے تین دن بعد بھی کھالی ہاتھ ہیں اور واردات کی بابت ابھی بھی اصلیت سے انجان ہیں صرف اندازوں کی آڑ میں ملزمان تلاشے جارہے ہیں وزارت داخلہ کے ہاتھ بھی کھالی نظر آرہے ہیں یعنی کے معاملہ کچھ اور ہی ہے؟ ظاہر ہے کا ا یس سی وایس ٹی ایکٹ معاملہ اعلیٰ عدالت میں زیر بحث ہونیکے بعد بھی وزارت داخلہ اور ریاستی سرکاریں تماشائی بنی رہیں یہ اپنے آپ میں بڑی چوک ہے اصل مدعہیہ ہیکہ سرکار کو نظم ونسق اور ملک کے کروڑوں عوام کی جان ومال کی زرہ برابر بھی پرواہ نہی ہے اسی وجہ سے ایک ساتھ چند منٹوں کے وقفہ میں ملک بھر میں توڑ پھوڑ، آگزنی اورفائرنگ کے بیحد شرمناک واقعات سامنے آئے عام رائے ہیکہ یہ بد نظمی اور غارت گری سرکار کی لاپرواہی اور نکمہ پن کا نتیجہ ہے! اس تشدد کا سبسے بڑا تماشہ ہاپوڑ اور میرٹھ میں دیکھنے کو ملو کہ جہاں سڑکوں پر آگ زنی، مارپیٹ اور پولیس کے سینئر افسران پر لگاتار حملہ ہورہے تھے موقع پر داروغہ ، سی او اور ڈپٹی ایس پی پیٹے جارہے تھے ٹی وی پر تازہ ترین خبریں آرہی تھیں ریاستی سرکار اور مرکزی وزارت داخلہ خاموز تھی یہ ننگا ناچ میرٹھ اور ہاپوڑ کی سڑکوں پر دوگھنٹہ تک جاری رہا پولیس چوکیاں جلائی گئیں، پولیس عملہ کو پیٹا گیا پولیس افسران پر بھی قاتلانہ حملہ ہوئے مگر آن دی اسپاٹ سرکا نے پولیس کو جواب دینے سے کیوں روکے رکھا آخر اس خطرناک چوک کیلئے اصل مجرم کون؟ تعجب کی بات ہے کہ تین دن بعد سرکار کی نیند کھلی ہے اور سرکار نے سیدھے طور پر ان واقعات کیلئے بھیم آر می کو گھیرنا شروع کر دیاہے اسکے جواب میں لگاتار بھیم آرمی کے قومی ترجمان مسٹر نوٹیال یہ کہتے رہے ہیں کہ میرٹھ ، ہاپوڑ اور مظفر نگر میں ہماری کوئی یونٹ نہی ہے سرکار ہمکو پھنسانا چاہتی ہے اگر سرکا رنے ہم پر جبر وستم کیا توہم دلتوں پر چلنے والی ایک ایک گولی کا بدلا لینیکو مجبور ہوں گے بھیم آرمی کے ترجمان نوٹیال نے یہاں اخبارات کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صاف کیا کہ وہ سرکار کے ڈر سے چھپنے والے نہی بلکہ انصاف کیلئے سڑکوں پر اتر نیکے لئے ہر وقت تیار ہیں سرکار ہمیں لڑائی کیلئے مجبورنہ کرے! باضمیر سیاسی طبقہ نے ان وارداتوں کی زبردست مذمت کرتے ہوئے سیدھے الفاظ میں کہا ہے کہ یوپی میں سیاسی سرپرستی کے رہتے غنڈہ راج چل رہا ہے، تمام غنڈے سیاست دانوں کے عزیز و اقارب ہیں اور مختلف پارٹیوں سے وابستہ ہیں اسلئے غنڈوں اور مافیاؤں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ وہ کسی بھی صورت پولیس سے خائف نہی ہیں اسیلئے سینا تان کر جرائم پر جرائم انجام دینے سے قطعی بھی ڈر نہی رہے ہیں،آجکل ویسٹ یوپی میں پولیس کے مقابلہ غنڈہ گردی اور مافیائی گروہ کار اج کاج لگاتار ہاوی ہوتا جا رہا ہے ! بڑھادیگئی ہے، ہمارے موجودہ ڈی جی پی او پی سنگھ ایماندار ، بے لوث اور محنتی سینئر پولیس افسرآج ریاستی پولیس کے مکھیا ہیں مگر جب تک سیاسی اثر اور دباؤ پولس افسران پر رہے گا تب تک اکیلے سڈی جی پی او پی سنگھ بھی کرائم پر اپنی پولس سے کنٹرول نہیں کرا سکتے ہیں سہی کام کیلئے سیاسی دباؤ نہی بلکہ پولیس و انتظامیہ کو مکمل آزادی چاہئے جبکہ موجودہ سرکار اپنے افسران پر من مانے کام کیلئے لگاتار دباؤ بناقنے میں مشغول ہے ایسی بہت سی شکایات یہاں کمشنری میں عام دیکھنے کو مل جاتی ہیں؟