*جلتے ہندوستان میں کیا کریں؟* قسط ؎۱ ایشوز سے ہٹا کر ہندوﺅں کو متحد کرنے کا جال:

جس وقت بھارت میں معرکہء آزادی کا رن گرم تھا، عام بھارتی بلا تفریق مذہب و ملت اپنی اپنی قیادتوں کے شانہ بشانہ انگریزوں سے برسرپیکار تھا، ہنگامے کے اس دور میں ایک گروہ ایسا بھي تھا جو نہایت خاموشی سے اپنا اگلا ایکشن پلان تیار کررہاتھا، یہ طبقہ تاریخ میں ” پجاری ” کے عنوان سے مشہور تھا جو کہ درحقیقت برہمنوں کا دوسرا نام ہے،
اس گروہ نے انگریزوں کی آمد سے ۲ ہزار سال پہلے سے ہی اس ملک کے باشندوں کو اپنا غلام بناکر رکھا تھا،
جب بھارت میں غیر ملکی آریہ آئے تو پہلے سے یہاں موجود ان برہمنوں نے انہیں مکمل تعاون دیا، رفتہ رفتہ ان آریاؤں کی مدد سے ہندوستان کی تمام وہ حکومتیں جو اصل ہندوستانیوں کی ماتحتی میں تھیں وہ ختم کروائی گئی، برہمنوں نے آریاؤں کے ذریعے مندروں کو قائم کرنا شروع کیا، مندروں کا جال بچھا کر یہ لوگ اس کے موروثی پجاری اور پروہت بن گئے، برہمن ایک انتہائی شاطر قوم ہے، ان میں اور یہودیوں میں کئی قدرے مشترک ہیں، چنانچہ انہوں نے آہستگی کے ساتھ حکومتوں کو اپنے کنٹرول میں لیا، دیوی دیوتاؤں سے اپنی قربت اور ہمکلامی کے عقائد عام کیے، اور اصل ہندوستانی عوام کو مندروں کے فرمان کا تابع بنایاگیا،اصل ہندوستانی خمیر میں چونکہ حریت اور بغاوت کا عنصر پایا جاتاہے اسلئے ہندوستانیوں نے اسوقت بھی مزاحمت کی تھی، طبقاتی نظام کے خلاف، چنانچہ برہمنوں نے ستم بالائے ستم کرتے ہوئے ان کو شودر قرار دیا تھا، اور معاشرے کی بدترین ذلت والی کھائی میں انہیں دھکیل دیا تھا، حکمرانوں کے ذریعے ۱ ہزار سال تک اسطرح ظلم ڈھایا گیا کہ آخرش آئندہ نسلیں غلامانہ ذہنیت کے ساتھ پیدا ہونے لگیں، ۲ ہزار سال سے زائد عرصہ ہندوستانیوں کو شودر بناکر رکھا گیا، انہیں بچا ہوا کھانا، پہنا ہوا لباس اور گھاس پھوس کے مکان کے علاوہ کسی چیز کی آزادی نہیں تھی، ان کی عورتوں کو طوائف سے بدتر درجے میں رکھا جاتا تھا، مندر کے کسی بھی برہمن سے سوال کرنے پر زبانیں کاٹی جاتیں تھیں، ایسے بھیانک اور خطرناک نظام میں انہیں قید کیا گیا تھا، کہ، تاریخ پڑھتے کلیجہ منہ کو آتاہے،
جب انگریزی سامراج ہندوستان میں آیا اور اس کے خلاف عام ہندوستانی طبقہ اٹھ کھڑا ہوا تو، برہمنوں کے کان کھڑے ہوگئے، انہوں نے ایکطرف انگریزوں کی چاپلوسی شروع کی اور خود کو محفوظ کرلیا، دوسری طرف ان برہمنوں نے ہندوستانی آبادی کو اپنا پہنایا ہوا غلامی کا لباس اپڈیٹ کرنے کے لیے خاموش جدوجہد شروع کی، انگریزوں کو مندروں کی آمدنی سے برہمن باقاعدہ حصہ دیا کرتے تھے اس طرح انگریزوں سے ان کے مراسم بڑے گہرے ہوچکے تھے، اور اس کے نتیجے میں انگریزوں نے برہمنوں کو عدلیہ اور سول سروسز میں ہندوستانیوں کا نمائندہ مقرر کیا، اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ” پجاری ” طبقے نے بھارتیوں سے ” شودر ” نامی لباس اتار کر ” ہندو ” نامی اپڈیٹ غلامانہ لباس پہنایا، اس کی سب سے بڑی کڑی کے طور پر انگریزی عہد میں ” ہندو کوڈ بل ” لایا گیا اور مسلمانوں اور عیسائیوں کو چھوڑ کر یہ ‌” ہندو کوڈ بل ” پوری ہندوستانی آبادی پر نافذ کردیاگیا، یوں ہندوستان میں اس معجون کو بڑھاوا دیا گیا یہاں تک کہ برہمنوں نے خود کو چھوڑ کر پوری ہندوستانی آبادی کو ” ہندو ” بنوا لیا، اور تاریخ آج وہ بدترین سفاکانہ منظر دیکھ رہی ہے کہ، وہ لوگ جو ۲ ہزار سال سے جس نظام سے آزادی کے لیے لڑ رہے تھے آج وہی ہندوانہ عنوان سے اسی طبقاتی نظام کو بچانے کے لیے لڑرہے ہیں، کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ ” ہندو ” شودروں کا ہی نیا نام ہے، اسوقت کے لوگ نہیں سمجھ پائے کہ آج تقریبا ۲ سو سال پہلے شودر سے ہندو بناکر ان کی اگلی نسلوں کو برہمنوں نے ہندوستان میں اپنی ہی بقا کا سپاہی بنا لیا ہے، تب سے اب تک یہی سیاست، یہی کھیل چل رہاہے اس بت کو توڑنے کی منظم اور مرتب ایک بھی کوشش نہیں ہوئی اور آج انجام کار ہندو مسلم عنوان سے کبھی کانگریس تو کبھی بھاجپا فائدہ اٹھا کر مستقل برہمن وادی طبقاتی نظام کو مستحکم کررہی ہے، اصل جڑ یہی ہے کہ حقیقی تاریخ نہ مسلمانوں کو نہ ہی شودروں کو معلوم ہے، دونوں بس آپس میں لڑے جارہےہیں جبکہ دشمن آج کا نہیں ۲ ہزار سال پرانا ہے اور اپنی حفاظت بھی ہم ہی سے کرا رہاہے ۔
اب جبکہ ۲۰۱۹ کا الیکشن قریب ہے، برہمن واد کے ہندوتوائی علمبرداروں کے لیے یہ ” کرو یا مرو ” کی گھڑی ہے، ۱۹۲۵ میں جس سوراج کے حصول کے لیے ہیڈگیوار کی سربراہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا قیام عمل میں آیا تھا اس کے سات ادوار میں یہ پہلا دور ہے جب اس آر ایس ایس کے مکھیا یعنی کہ سر سنگھ چالک نے 2014 کے انتخابات میں نریندرمودی کو جتانے کے لیے سرگرم رول ادا کیا، اور جیتنے کے بعد بزبان خود اعلان کیا تھا کہ ” اب ہم تمام مذاہب اور فرقوں کو اپنے میں ضم کرسکتےہیں، اور ہندوراشٹر زیادہ دور نہیں ” آر ایس ایس نے یہ اعلان یونہی نہیں کیا ہے، اس نے ۸۰ سال زمین پر محنت کرکے پوری ہندوستانی آبادی کو اولاً ہندو بنایا، نت نئے دیوی دیوتا گڑھ کر عام بھارتیوں کو ان کا مسجود بنایا، پھر انٹلیجنس بیورو پر قبضہ جمایا، پھر مین اسٹریم میڈیا کو اپنے کنٹرول میں کیا، اور اب آر ایس ایس بظاہر ان تینوں میدانوں میں ناقابل تسخیر حد تک مضبوط ہے، اور یہی وہ تین میدان ہیں کہ ہندوستان میں ان پر قابو پانے والا برسراقتدار ہوتاہے، چنانچہ ان پر قابض ہوکر آر ایس ایس نے ستر سال سے پردے کی اوٹ میں جو مہرے سسٹم کے لیے تیار کیے تھے اب ان کے عملی اور علی الاعلان نفاذ کا وقت قریب آرہاہے، اس دور میں بھاجپا کی کارکردگي از حد ناقص ترین رہی، اور ایسی ناقص کہ جس کی وجہ سے عوام پوری طرح مودی اور بھاجپا سے متنفر ہے، اور صورتحال یونہی رہی تو بھاجپا کی کراری شکست یقینی ہے، لیکن یہ تاریخی شہادت ہیکہ آزاد بھارت میں جب کبھی سنگھ پر برا وقت آیا ہے ملک میں بم دھماکے اور فسادات بڑے پیمانے پر ہوئے ہیں، جن میں عام دلت، چمار اور دیگر اصل بھارتی مسلمانوں کے خلاف استعمال کیے گئے ہیں اور اسوقت رام نومی کے بعد سے ” بہار و بنگال ” میں جو خطرناک زہریلی فضا نظر آرہی ہے وہ ۲۰۱۹ جیتنے کے لیے سنگھی حکمت عملی کا ٹریلر ہے،
بابری مسجد اور رام مندر ایشو ان کا سب سے مؤثر اور طاقتور ہتھیار ہے، اس حوالے سے خونریز فسادات کا باقاعدہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے،
ایک طرف بھاجپا کی عوام مخالف پالیسیوں سے اب ہندو پوری طرح بھاجپا سے بدظن اور متنفر ہے، دوسری طرف ملک کا ڈرا سہما مسلم طبقہ ہے، دونوں بھاجپا کو شکست دینا چاہتےہیں، لیکن، بھاجپا ان دونوں کو لڑوائے گی، مسلمانوں کی طرف سے بھت بڑے جلسے اور ہندوﺅں کو غصہ دلانے والے بھڑکاؤ بھاشن آئینگے، آر ایس ایس کے ہزاروں زمینی کارکن گاؤں گاؤں جاکر ہندوﺅں کو خطرے میں بتلائیں گے تو، وہیں ان کی ڈیجیٹل سوشل میڈیا آرمی آگ میں گھی ڈالتی رہے گی، اور یوں بھاجپا مسلمانوں کے خلاف ہندوﺅں کو ایک بار پھر متحد کرنے میں کامیاب ہوجائے گی،
اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
بھاجپا کی اس حکمت عملی سے ہوا نکالنے کے لیے فوری طور پر جنگی پیمانے پر ملی تنظیموں کو چاہیے کہ، زمین پر اتر کر محنت کریں ۔
۱۔ ٹیمیں بنائی جائیں ہر ٹیم میں ایک دو ایسے نوجوان ہوں جو، تاریخی حوالوں سے عام ہندوستانیوں کو ان کے ساتھ کیے جارہے تاریخی کھلواڑ کو واضح کریں،
۲ ۔ ڈیجیٹل سطح پر یعنی کہ سوشل میڈیا پر کم از کم ۵۰۰ ایکٹیو نوجوانوں کو یکسو کرکے بٹھایا جائے جو ہر زہریلے شوشے کا تعاقب کریں اور آر اایس ایس کے ہر دنگائی حملے کا توڑ تیار رکھیں
۳ بڑے بڑے تمام جلسے منسوخ ہوں، خاص طور پر متاثر علاقوں میں
4 ان حضرات پر سختی سے پابندیاں عائد کروائیں جن کے بیانات کو آر ایس ایس اپنے مفاد میں استعمال کرسکتی ہے، ایک بھی ایسا بیان نہ آئے جو ہندوﺅں کو بے چین کرنے کا کام کرے
۵ جہاں فسادات متوقع ہوں ان علاقوں میں جلدازجلد پہنچیں اور دوطرفہ مذاکرات کروائیں
6 اگر فسادات اور اقلیتوں پر کہیں یلغار ہوجائے تو انہیں ضروری کمک پہنچائیں اور آئینی روشنی میں سیلف ڈیفینس کے لیے تیار کروائیں
7 حالات کو معتدل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور جیسے ہی حالات قدرے سازگار ہوں، بین المذاہب علاقائی جوڑ رکھیں، اور سازشوں سے عوام کو واقف کرائیں.
8 ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے کہ، ایک مضبوط متحدہ محاذ بنے اور کسی بھی طرح ووٹ تقسیم نہ ہونے پائیں، ہر حال میں مسلم ووٹوں کو متحد رکھنے کی کوشش ہو، اس سلسلے میں بہترین پیش رفت یہ ہوسکتی ہے مسلمانوں کی تمام سربرآوردہ شخصیات، ملی تنظیمیں اور قیادتیں کسی ایک محاذ پر مضبوط معاہدات کے ساتھ معاملات کریں اور پھر مسلمانوں سے متحدہ اپیل کی جائے اور اس کے لیے گراؤنڈ ورک کیا جائے ۔

مجھے پختہ یقین ہیکہ بالترتیب اگر یہ کام کرلیے جائیں تو ۲۰۱۹ سے پہلے سنگھ بوکھلا کر یا تو اس سے بڑا وار کرے گا یا تو کئی قدم پیچھے ہٹ جائے گا،
کاروان کی تربیت یافتہ ٹیمیں یہ کام کرسکتی ہیں لیکن کام چونکہ ملکی سطح کا حساس اور سنگین نوعیات کا ہے، نیز ہمارے پاس اتنے وسائل بھی نہیں ہیں، اسلیے ملی تنظیموں سے گذارش ہیکہ، ازراہ کرم ملت کے وسیع تر مفادات کے پیش نظر جانوں اور مالوں کے تحفظ کی خاطر خدارا منظم قدم اٹھائیں ۔

*سمیع اللّٰہ خان*
جنرل سکریٹری: کاروانِ امن و انصاف
ksamikhann@gmail.com