سنکٹ موچن مندر مقدمہ ملزم مفتی ولی اللہ نے عالت سے اسعد اللہ کا اقبالیہ بیان قبول کرنے کی گذرش کی انڈین مجاہدین کے ملزم نے ہندوستان میں واقع ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی

ممبئی۲۹؍ مارچ
اترد یش کے مشہور شہر ورانسی میں واقع مشہور سنکٹ موچن مندر میں ۲۰۰۶ ء میں ہوئے دہشت گردانہ واقعہ جس میں ۲۸؍ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے کے معاملے کی سماعت کے دوران آج ملزم مفتی ولی اللہ نے عدالت میں انڈین مجاہدین نامی تنظیم کے رکن اسعد اللہ اختر کے اس اقبالیہ بیان کی نقل کو عدالت میں پیش کیا جسے اس نے حیدرآباد بم دھماکہ معاملے مقدمیں دیا تھا جس میں اس نے یہ اقرار کیا تھا کہ ۲۰۰۴ء کے بعد سے جتنے بھی بم دھماکے ہندوستان میں ہوئے ہیں اسے انڈین مجاہدین نامی تنظیم نے انجام دیئے تھے اور وہ اس کا رکن ہے۔ عدالت نے اقبالیہ بیان کی نقول اپنے ریکارڈ پر لینے کے بعد فریقین کو اس پر بحث کرنے کا حکم دیا تھا جس کے دوران جمعیۃ علماء کے وکیل ایڈوکیٹ عارف علی نے کریمنل پروسیجر کی دفعہ ۹۱؍ کے تحت عدالت سے گذارش کی کہ وہ ملزم اسعدا للہ اختر کے اقبالیہ بیان کی اصل نقول حیدرآباد کی عدالت سے طلب کرے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزا ر اعظمی نے بتایا کہ ملزم مفتی ولی اللہ کے معاملے کی سماعت آخری مراحل میں ہے اور اگر عدالت حیدرآباد کی سیشن عدالت سے انڈین مجاہدین معاملے کے ملزم اسعد اللہ اختر کے اقبالیہ بیان کو طلب کرلیتی ہے تو اس سے ملزم کو زبردست فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اس کی رہائی کے امکانات روشن ہوجا ئیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ غازیہ آباد کی سیشن عدالت نے فریقین کے دلائل کی سماعت کے ملزم مفتی ولی اللہ کی درخواست پر فیصلہ صادر کرنے کے لیئے ۹؍ اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے، حالانکہ اس درمیان سرکاری وکیل نے ملزم کی عرضداشت کی سخت لفظوں میں مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کیئے جانے کی گذارش کی تھی۔
گلزار اعظمی نے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ۷؍مارچ ۲۰۰۶ء سنکٹ موچن مندر میں شام چھ بجے بم دھماک ہوا تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ورانسی ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا جبکہ ایف آئی آر کا اندراج بم دھماکوں کے دوسرے دن یعنی کے ۸؍ مارچ کو پولس اسٹیشن لنکا میں سب انسپکٹر سمرجیت کی فریاد پر درج ہوا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ مفتی ولی وللہ کو ۵؍ اپریل ۲۰۰۶ ء کو لکھنؤ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر مندر میں بم دھماکہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعات 304,302,307,324 اور آتش گیر مادہ کے قانون کی دفعات 3,4,5 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا ۔ملزم ولی وللہ کے خلاف دو مقدما ت کا اندراج کیا گیا تھا جن کے نمبر یہ 1786/2006اور 815/2011 ہیں ۔
سال ۲۰۱۱ء میں غازیہ آباد کی خصوصی عدالت نے دونوں مقدمات کو یکجہ کرکے مقدمہ کی سماعت کا آغاز کیا ،دوران مقدمہ ملزم کے خلاف گواہی دینے کے لیئے استغاثہ نے ۴۸؍ گواہوں کو عدالت میں پیش کیا لیکن سرکاری گواہوں کی گواہی مکمل ہونے اور فریقین کی بحث کے اختتام کے بعد جج کا ٹرانسفر کردیا گیا جس کی وجہ سے معاملے کی سماعت ایک بار پھر التواء کا شکا ہوگئی تھی لیکن نئے جج کی تقرری ہونے سے ایک بار پھر سے مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی ہے ۔