*جعلی کرنسی مقدمہ* نچلی عدالت سے چھ سال کی سزا پائے ملزم کو ممبئی ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کیا جمعیۃ علماء کی بروقت کارروائی سے ملزم کو راحت حاصل ہوئی ، گلزار اعظمی

ممبئی ۲۰؍ مارچ
ممبئی ہائی کورٹ نے آج یہاں جعلی کرنسی رکھنے کے معاملے میں نچلی عدالت سے چھ سال کی سزا پانے والے ایک مسلم نوجوان کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے نیز اس سے قبل ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف داخل اپیل کو سماعت کے لیئے منظور کرلیا تھا، یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی )قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزار اعظمی نے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دنوں ممبئی کی سیشن عدالت نے ملزم اسرار احمد عبدالحمید کو جعلی نوٹ رکھنے کے معاملے میں قصور وار قراردیا تھا اور اسے چھ سال قید بامشقت کی سزاء سنائی تھی جس کے خلاف اسرار احمد نے جمعیۃ علماء کے توسط سے نچلی عدالت کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ضمانت پر رہا کیئے جانے کی درخواست داخل کی تھی جس پر آج ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ایڈوکیٹ عبدالوہا ب خان کے دلائل سے اتفاق کرتے ہو ئے جسٹس اے ایس گڈکری نے عرض گذار کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔
جسٹس گڈکری نے اپنے فیصلہ میں عرض گذار کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے اس پر اپیل کی سماعت مکمل ہونے تک عدالت کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کردی نیز عرض گذار کو حکم دیا کہ وہ اے ٹی ایس پولس اسٹیشن میں مہینہ کی پہلے پیر کو حاضری لگائے ۔
واضح رہے کہ ممبئی کی خصوصی سیشن عدالت نے اسرار عبدالحمید سمیت تین مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام سے بری کردیا تھا لیکن انہیں جعلی نوٹ رکھنے کے الزام چھ سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی تھیں جس کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضداشتیں داخل کیں گئیں تھی جس پر آج سماعت عمل میںآئی۔
عیاں رہے کہ اس معاملے میں ملزمین ہارون عبدالرشید نائیک سمیت اسرار احمد عبدالحمید، اظہر الاسلام محمد ابراہیم صدیقی کو مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ ATS نے سال ۲۰۱۱ء میں گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند اور غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والے قانونیّ(یو اے پی اے) کی مختلف دفعات سمیت دیگر قوانین کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور ملزمین پر الزام عائد کیا تھاکہ ان کے قبضہ سے غیر قانونی جعلی ہندوستانی کرنسی ضبط کی گئی تھی جس کا استعمال وہ دہشت گردانہ معاملات میں کرنا چاہتے تھے نیز انہیں یہ کرنسی سرحد پار سے مہیا کرائی گئی تھیں۔
ممبئی ہائی کورٹ میں دوران بحث ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان کی مدد کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ شاذیہ خان، ایڈوکیٹ افضل نواز ، ایڈوکیٹ عبدالحفیظ و دیگر موجود تھے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر