ملک سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ مگر شریعت سے سمجھوتہ نہیں ۔۔ دین بچاو دیش بچاو کانفرنس میں مسلمان اپنی شرکت یقینی بنائیں۔۔

ارشد فیضی
( جالے۔ 20 اپریل /
یہ ملک ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے کیونکہ اس چمن کو گلزار بنانے میں ہمارے پرکھوں کا قیمتی لہو شامل ہے ہمیں خوب احساس ہے کہ آزادی کی سات دہائیاں گزر جانے کے بعد اس وقت بعض تنگ خیال جماعتیں ہندوستان کے آئین اور اس کے جمہوری اقدار کو ملیا میٹ کر دینے کی سازشوں میں مصروف ہیں اور اسی منصوبہ کے تحت مسلمانوں کے عائلی مسائل حکومتی نشانے پر ہیں مگر میں صاف لفظوں میں کہونگا کہ دنیا کو محبت وبھائی چارے کا پیغام دینے والے گوتم بدھ کی اس سرزمین پر اگر عدم تشدد کے داعی گاندھی جی کے اصولوں کا سودا ہوا اور جمہوری قانون کے میر کارواں امبیڈکر جی کی قربانیوں پر تعصب کی چادر ڈال کر اس ملک کی فضا میں نفرت کا زہر گھولنے کی جد وجہد اسی طرح جاری رہی تو نہ صرف یہ کہ اس ملک کے تانے بانے بکھر کر رہ جائیں بلکہ یہ ملک مکمل خود اعتمادی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ بھی بھول جائے گا اس لئے ہمیں مذہبی اور جماعتی دائروں سے بہت اوپر اٹھ کر اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کے لئے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہندوستان کے آئین اور اس کے جمہوری اصولوں کی حفاظت کے لئے پوری قوت کے ساتھ آگے آنا ہوگا یہ باتیں پیام انسانیت ٹرسٹ کے صدر مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی نے 15 اپریل کو امیر شریعت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹر مولانا سید محمد ولی رحمانی کی پکار پر تین طلاق اور دیگر عائلی مسائل کے بارے میں حکومت کی نیت کے خلاف پٹنہ کے گاندھی میدان میں منعقد ہونے والی دین بچاو دیش بچاو کانفرنس کے سلسلے میں اسلامک مشن اسکول کے دفتر میں منعقد ایک میٹنگ کے بعد اخباری بیان میں کہیں انہوں نے کہا کہ یہ ملک اس وقت جس روش کا شکار ہے اس نے ہر طبقے کی پیشانیوں پر فکر کی لکیریں ڈال دی ہیں اور ہر طبقہ اپنے مذہبی اور عائلی مسائل پر ہو رہے حملوں سے ذہنی پریشانی کا شکار ہے لیکن یاد رکھئے کہ اس ملک کی اکثریت کا مزاج آج بھی جمہوری ہے اور جب تک وہ جمہوریت کو اس ملک کا وقار واعتبار تصور کرتے رییں گے فرقہ پرست جماعتوں کی سازشیں کامیاب نہیں ہونگی انہوں نے کہا کہ بھلے ہی ملک میں ہر طرف نفرت کی حکمرانی ہے مگر مجھے کہنا یہ ہے کہ نفرت وتعصب اور تنگ خیالی کا مقابلہ نفرت وتعصب یا تنگ نظری سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ محبت کے پیغام کی بنیاد پر ہمیں ملک کے منظر نامے کو بدلنا ہوگا انہوں نے کہا کہ دین بچاو دیش بچاو کانفرنس ملک کے حکمراں طبقہ کے ساتھ تمام اپوزیشن پارٹیوں کو موجودہ حالات پر کھلے دماغ کے ساتھ سوچنے کا موقع فراہم کرے گی اور انہیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ مسلمان اس ملک میں اپنے مذہبی اصولوں کے خلاف کسی قانون کو برداشت کرنے لئے تیار نہیں ہو سکتا انہوں نے کہا کہ میں امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی کے حوصلے اور جذبے کو سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے شریعت کے تحفظ کے لئے مسلمانوں میں فکر کی توانائی پیدا کی ہے اور مجھے امید ہے کہ مسلمانوں کی یہ دینی بیداری ملک میں خوشگوار تبدیلی کو جنم دے گی انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی شریعت کے لئے یہ سوچ کر پٹنہ کے گاندھی میدان میں اپنی موجودگی درج کرانی ہوگی کہ انہیں امیر شریعت نے آواز دی ہے اور امیر کی اطاعت ضروری ہوا کرتی ہے۔مولانا فیضی نے کہا کہ شریعت پر حملہ تنگ خیالی پر مبنی ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر تنگ خیالی اسی طرح ہم پر حاوی رہی تو پھر ہم خود کو دنیا کی مضبوط وموثر قوم ثابت نہیں کر پائیں گے مولانا فیضی نے کہا کہ حالات کے موجودہ منظر نامے میں مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی حفاظت اور اپنے عائلی مسائل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے 15 اپریل کو گاندھی میدان میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں