جمہوریت میں سب کو ساتھ لیکر چلنا اور رائے عامہ کو ترجیح دینا ضروری سبرامنیم سوامی جیسے لوگ آئین پربھروسہ نہیں رکھتے،رام مندرکی بات کرناعدالت کی توہین :ڈاکٹر محمدمنظور عالم 

نئی دہلی19مارچ:جمہوریت عوام کے لیے عوام کے ذریعہ منتخب کی ہوئی حکومت کا نام ہے ،اس طرز حکومت میں اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے ،کسی کو بھی حکمراں بنانے اور ہٹانے کااصل اختیارجنتا کے ہاتھوں میں ہے ،اس لئے جمہوری ممالک کے سربراہان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی رجحان کو ملحوظ خاطر رکھے ،ان کے مسائل کو دور کرے لیکن ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے منتخب کردہ حکمراں عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں الجھاتے ہیں،ان کے حقوق کو پامال کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔ملک کے موجودہ حالات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ای وی ایم کا استعمال جمہوریت اور عوامی رائے کو قتل کرنے کے مترداف ہے ،دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے ای وی ایم کا استعمال بند کردیاہے کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ عوام رائے کو جاننے کیلئے یہ آلہ محفوظ نہیں ہے ،اس کا غلط استعمال کیا جاسکتاہے جبکہ ہندوستان میں ایسا نہیں ہے ،عوام کامسلسل مطالبہ ہے کہ حکومت بیلٹ پیپر کا استعمال کرے ،ووٹنگ مشین کا چلن ختم کیا جائے لیکن سرکار کی اس پر کوئی توجہ نہیں ہے جو جمہوری ممالک کے تقاضوں کے خلاف ہے۔انہوں نے مرکزی سرکار اس کے رویہ پر بھی سوال اٹھایا جس میں حکومت نے سپریم کورٹ کو پی این بی بینک کا اسٹیٹس رپوٹ دینے سے انکار کردیاہے ۔انہوں نے کہاکہ کرپشن اور گھوٹالہ ملک کی ترقی میں سب سے بڑا ناسور ہے ،ہندوستان کی پسماندگی کے اسباب میں گھوٹالہ سرفہرست ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ منتخب حکومتیں بھی گھوٹالہ میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کاروائی نہیں کرتی ہے اور نہ ہی اس کو ختم کرنے کے سلسلے میں کوئی موثر قدم اٹھاتی ہے ،عدالت عظمی کی اس جانب توجہ اچھی پہل ہے لیکن مرکزی حکومت کا اسٹیٹس رپوٹ دینے سے انکا ر کرنا اور کرپشن کی تفتیش کے سلسلے میں عدلیہ کا تعاون نہ کرنا یہ بتاتاہے کہ موجودہ حکومت بھی پس پردہ گھوٹالہ کرنے والوں کی مدد کررہی ہے ۔ڈاکٹر محمد عالم نے بغیر بحث اور اپوزیشن کی رائے لئے بغیر فائنانس بل2018 پا س کیے جانے پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ پارلیمنٹ مباحثہ کی جگہ ہے ،وہاں کسی بھی بل پرگفتگوہوناضروری ہے لیکن مرکزی حکومت نے اپوزیشن کی رائے سنے بغیر بل پاس کرکے آمرانہ رویہ کا ثبوت دیا ہے جوجمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے ۔ جلدی باز ی میں اس بل کو پاس کرکے حکومت نے یہ واضح بھی کردیاہے کہ ووزراء اور دیگر اہم محکموں کی تنخواہ بڑھانے کیلئے حکومت صرف کام کررہی ہے عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ڈاکٹر محمد عالم نے بی جے پی لیڈر سبرامینم سوامی کی طرف سے وزیر اعظم کو لکھے گئے اس خط پر بھی سوال اٹھایا جس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے آر ڈینینس لاکر رام مندر تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ،پورے ملک کی عوام اپنا نمائندہ منتخب کرکے پارلمینٹ میں بھیجتی ہے تاکہ وہ ان کی نمائندگی کریں ایسے میں آر ڈینینس لانا انتہائی بدترین اورجمہوریت کے لیے شرم ناک ہے ،ڈاکٹر محمد عالم نے سخت لہجے میں کہاکہ بابری مسجد کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،سنوائی بھی چل رہی ہے ،اس لیے اس کے تعلق سے آر ڈینینس لانے کی بات کرنا عدلیہ کی بھی توہین ہے اور یہ ظاہرکرتاہے کہ سبرامنیم سوامی جیسے لوگ عدلیہ پر بھی یقین نہیں رکھتے ہی