ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا(جگ بیتی)

ڈاکٹر سلیم خان
میں اور میری چھوٹی بہن پونہ میں پیدا ہوے ۔ والد صاحب بنک میں ملازم تھے ۔ ان کی ترقی ہوئی تو ممبئی تبادلہ ہوگیا ۔ میرے دادا اور دادی نے ممبئی منتقل ہونے سے معذرت کرلی تو ماں نے پونہ میں رہنے کا ارادہ کرلیا ۔والد صاحب نے ریل گاڑی سے روزآنہ ممبئی سے پونہ آنے جانے لگے۔ میری بہن کا اسکول صبح میں تھا اور میرا شام میں اس لیے وہ جلد اٹھ جاتی تھی اور میں سویا پڑا رہتا تھا ۔ والد صاحب کے نکل جانے کے بعد بستر سے اٹھتا ۔ ناشتے سے فارغ ہوکر امتحان کے زمانے میں پڑھنے بیٹھ جاتا ورنہ دوستوں کے ساتھ کھیلنے چلا جاتا۔ میرے اسکول جانے کے بعد بہن لوٹ کر آتی اور کھاپی کر سوجاتی۔ شام میں میرے ساتھ اسکول کی پڑھائی کرتی اور پھر میری ماں کا ہاتھ بٹانے لگتی ۔میں پھر سےکھیل کود میں مصروف ہوجاتا ۔ دوستوں کے پاس سے لوٹتا تو والد صاحب کی آمد ہوتی ۔ اس وقت تک بہن سوچکی ہوتی ۔ اس طرح والد صاحب سے میری ملاقات شام میں اور بہن کو صبح کے وقت ہوتی تھی۔ چھٹی کے دن والد دیر صاحب تک آرام کرتے اور میں علی الصبح کرکٹ کھیلنے چلا جاتا۔ دوپہر میں سب مل کر ایک ساتھ کھانا کھاتے اور پھرقیلولہ فرماتے ۔ شام میں والد صاحب دوستوں سے ملنے چلے جاتے یا ان کے دوست ملنے آجاتے ۔ میری ماں اور بہن سب کی خدمت کرتی۔
اس طرح دیکھتے دیکھتے میرا بچپن نہ جانے کہاں چلا گیا۔ بہن کی شادی ہوگئی تو وہ بھوپال چلی گئی اور اندور سے میری والدہ اپنے لیےایک بہو لے آئی۔ یہ بتانا تو ضروری نہیں ہے کہ میرا ددیہال بھوپال اور ننیہال اندور کا ہے۔ میں کالج میں پڑھانے لگا اور اتفاق سے میرے بھی ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوئی۔ پھر وہی کہانی شروع ہوگئی بیٹی کا اسکول صبح اور بیٹے کا دوپہر میں اس لیے کالج جانے سے قبل صرف بیٹی سے ملاقات ہوتی بیٹا سویا رہتا ۔ مجھے گولف کھیلنے کا شوق تھا اس لیے میں کالج سے فارغ ہوکر کلب چلا جاتا ۔ واپس آتا تو بیٹی سوچکی ہوتی اور بیٹا ٹیلی ویژن پر کھیل کود دیکھ رہا ہوتا۔ میرے منع کرنے پر کہتا پہلے بہن کھیل دیکھنے نہیں دیتی اور اب آپ روک لگا دیتےہیں ۔ میری بیٹی کو ڈرامے بہت پسند تھے اس لیے شام میں بیوی کے سوا سب کو مجبوراً وہی دیکھنا پڑتا، بیوی اس مجبوریسے محفوظ تھی کیونکہ اس کے پاس ان خرافات کے لیے فرصت ہی نہیں تھی۔بچے جب وقت ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہوتے تووہ باورچی خانے میں مصروف ہوتی اور سب کو کھلاپلا کر اس قدر تھک جاتی کہ پھر کچھ دیکھنے کی سکت نہیں رہتی ۔ والد صاحب کے نقش قدم پر میں نے بھی اپنا چھٹی کا دن دوستوں کے لیے وقف کررکھا تھا فرق صرف یہ تھا کہ وہ جاتے زیادہ تھے میں بلاتا زیادہ تھا ۔ اس طرح اتوار کے دن بیوی کی مصروفیت میں اضافہ ہو جاتا تھا ۔ وقت کے ساتھ میری بیٹی اپنی ماں کا ہاتھ بٹانے لگی تھی ۔
اس طرح دوڑتے بھاگتے جوانی بھی رخصت ہوگئی۔ اب میں سبکدوش ہوچکا ہوں اور بچوں کی شادیاں ہوچکی ہیں۔ میری ڈاکٹر بیٹی اپنے ساتھی ڈاکٹر کے ساتھ بیاہ کر آسٹریلیا جاچکی ہے اور انجینیر بیٹا اپنی اہلیہ کے ساتھ امریکہ میں رہتا ہے ۔ بیوی ہر روز علی الصبح اٹھ کر سڈنی میں موجود اپنی بیٹی اور نواسے کے ساتھ اسکائپ پر تفصیل سے بات چیت کرتی ہے ۔ میں بھی کبھی کبھار اس گفتگو کا حصہ بن جاتا ہوں ۔ اس کے بعد وہ میرے لیے ناشتہ بناتی ہے اور میں ۱۱ بجے ناشتے اور ظہرانے کا مخلوط برنچ کرکے گولف کلب کے لیے نکل جاتا ہوں ۔ شام پانچ بجے واپس آ تا ہوں تو بیوی کا آرام مکمل ہوچکا ہوتا ہے۔ وہ برنچ کو مائکرو اوون میں گرم کرکے ظہرانے اور عشائیہ کا درمیانہ میز پرلگا دیتی ہے ۔ 146 لونر145نوش فرمانے کے بعد میری بیوی شکاگو میں اپنی بہو اور پوتی کے ساتھ محو گفتگو ہوجاتی ہے۔ میں ٹیلی ویژن پر خبروں کے چینلس سے تفریح لیتے ہوئےکبھی کبھار اپنے بیٹے اور پوتے سے بات کرلیتا ہوں ۔ میری بیوی کا خیال ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے مگر مجھے نہیں لگتا۔ اس لیے کہ کل جو کچھ میری ماں کرتی تھی آج بیوی کرتی ہے اور کل بیٹی کرے گی ۔
اک مسافر کے سفر جیسی ہے سب کی دنیا کوئی جلدی میں کوئی دیر سے جانے والا