پاکستان کے لیئے جاسوسی معاملہ ملزم فرحت خان شفاعت خان کی ضمانت عرضداشت سماعت کے لیئے منظور عدالت نے نوٹس جاری کیا، اگلی سماعت ۴؍ اپریل کومتوقع

ممبئی۸؍ مارچ
پڑوسی ملک پاکستان کے لیئے جاسوسی کرنے کے مبینہ الزامات کے تحت گرفتار ایک مسلم ملزم کی ضمانت عرضداشت کو دہلی ہائیکورٹ نے گذشتہ کل سماعت کے لیئے منطور کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا نیز تحقیقاتی ایجنسی کو بھی حکم دیا کہ وہ معاملے کی سماعت سے قبل اس معاملے میں ابتک کی گئی تفتیش کی تفصیلات عدالت میں پیش کرے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ نے دی ۔
گلزاراعظمی نے مزید بتایا کہ دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس ایس پی گرگ کی عدالت میں ملزم فرحت خان شفاعت خان جسے تحقیقاتی دستہ نے پاکستان کے لیئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گذشتہ سال گرفتار تھا کی ضمانت پر رہائی کے لیئے ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے عرضداشت داخل کی تھی جس پرسماعت عمل میںآئی جس کے دوران عدالت نے استغاثہ کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ معاملے کی اگلی سماعت یعنی کے ۴؍ اپریل یہ بھی رپورٹ پیش کرے آیا ملزم کے خلاف اور بھی کوئی مقدمہ زیر سماعت ہے کیا۔
واضح رہے کہ ملزم فرحت خان سماج وادی پارٹی کے ممبر آف پارلیمنٹ منور سلیم کے پرسنل اسسٹنٹ ہیں اور گرفتاری سے قبل ان کی آفس میں کام کیا کرتے تھے ۔
دہلی پولس نے ملزم فرحت خان اور دیگر تین ملزمین کو پاکستان کے لیئے جاسوسی کرنے کے الزامات کے تحت آفیسیل سیکریسی ایکٹ کی دفعات ۳؍ ۹ ؍ اور تعزیرات ہند کی دفعات ۴۰۹، ۱۲۰(ب) اور ۳۴ ؍ کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اور ان کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کرتے ہوئے ان پر الزامات عائد کیئے تھے کہ وہ اہم دستاویزات پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو مہیا کراتے تھے جس کے عوض میں انہیں اچھی خاصی رقم بھی خفیہ ذرائع سے دی جاتی تھی۔ نچلی عدالت سے ضمانت مسترد کیئے جانے کے بعد جمعیۃ علماء نے دہلی ہائیکورٹ میں ضمانت عرضداشت داخل کی تھی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ وہ رکن پارلیمنٹ منور سلیم کے ذاتی معاون کے طور پر گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے ان سے جڑا ہوا تھا نیز ملزم اس سے قبل کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں کبھی ملوث نہیں تھا ۔
ضمانت عرضداشت میں عدالت کو بتایا گیا کہ استغاثہ جن خفیہ دستاویزات کا دعوی کررہا ہے حقیقت میں وہ خفیہ نہیں بلکہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں اور باآسانی انہیں حاصل کیا جاسکتا ہے لہذا استغاثہ کا یہ دعوی کہ ملزم خفیہ دستاویزات سرحد پار بھیجتا تھا جھوٹ کا پلندہ ہے۔
عرضداشت میں عدالت کو بتایا گیا کہ اب جبکہ عدالت میں فرد جرم عائد ہوچکی ہے ، ملزم کو مزید جیل میں رکھنا غیر آئینی ہوگالہذا عدالت کو ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے ۔