ملی وحدت مفتی محمد عبداللہ پھولپوری کا عظیم کارنامہ :احمد ابراہیم  پروقار سیمینار میں اردو ہفت روزہ ۔زمینی سچ ۔کے مفتی محمد عبداللہ پھولپوری نمبرکااجرا

لکھنؤ،(سعید ہاشمی)
میڈیا سو سائٹی آف انڈیا کی جانب سے آج ’مفتی محمد عبد اللہ پھولپوریؒ :حیات و خدمات ‘‘کے مو ضوع پر ایک سمینار کا انعقاد القرآن انسٹی ٹیوٹ ،برلنگٹن چوراہا،لکھنؤ میں ہو ا ،جس میں مقرین اورمقالہ نگاروں نے بر صغیر میں تصوف و سلوک اور تعلیم و تر بیت کے میدان میں خانوادۂ پھولپوری کی عظمت و خد مات کا اعترا ف کھل کر کیا ۔ اس موقع پر ہفت روزہ زمینی سچ لکھنؤ کے مفتی محمد عبداللہ پھولپوری نمبرکا اجرا بھی ہوا۔سمینا ر کے آرگنائزراور میڈیا سو سائٹی کے کنوینر آفاق احمد نے سیمینار کے اغراض و مقاصدپر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہاکہ مفتی محمد عبد اللہ پھولپوریؒ کی شخصیت کسی تعرف کی محتاج نہیں ہے کیونکہ انھوں نے اپنی زندگی ایسی گذاری کہ وہ مثال بن گئے۔مسڑ احمد نے کہاکہ یہ شاید پہلاپروگرام ہے جو ہند وپاک میں خانوادہ پھولپوری پر منعقدکیا گیاہے۔سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے سینیر صحافی احمد ابراہیم علوی نے کہاکہ مفتی محمد عبد اللہ پھولپوریؒ نے صحیح طریقے سے اسلامی تعلیمات پرعمل کرکے لوگوں کے سامنے اسلام کی صحیح تصویرپیش کی۔ مفتی صاحب کی ہمیشہ کوشش رہی کہ لوگ صحیح طریقے سے اسلامی تعلیمات پرعمل کریں۔ انکی زندگی ہم سب کے لئے قابل تقلید ہے۔لکھنؤ یونیورسٹی میں عرب کلچر کے استاد پروفیسر ڈاکٹر ایاز اصلاحی نے نے کہاکہ مفتی محمد عبد اللہ پھولپوریؒ نے تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے کے ساتھ ہی ان کا سب سے بڑاکارنامہ ملی وحدت کی بازیافت ہے۔ انھوں نے کہاکہ مفتی صاحب نے اتحاد بین المسلیمن کے لئے اتحاد بین العلماء اور اتحاد بین المدارس پر زور دیا۔ ان کی اس کوشش کا اثر مداراس کے ساتھ پورے خطہ اعظم گڑھ میں پڑا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گرھ کے سینئر رفیق مولانا محمد عمیر الصدیق ندوی نے کہاکہ قرآن مجیدمیں جن لوگوں کو اللہ کاولی کہاگیا ہے انھیں لوگوں میں سے مفتی محمد عبد اللہ پھولپوریؒ ہیں۔ انھوں نے کہاہ زمینی سچ کے خصوصی شمارے کے ذریعہ آسمانی سچ سامنے آیا ہے۔
لکھنؤیونیورسٹی میں پروفیسر ڈٓاکٹر عرفات ظفر نے اپنے مقالے میں کہاکہ ہند وپاک میں اس طرح کا اب تک کوئی سیمینار نہیں ہواہے اور میڈیا سوسائٹی آف انڈیا کے کنوینر آفاق احمد نے یہ پہل کرکے ایک بڑا کام کیاہے۔ انھوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اخبار اور رسالے کی عمرکم ہوتی ہے اسلئے آفاق صاحب کتابی شکل دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ڈاکٹر محمد طارق ظلی نے اپنے مقالے میں کہا کہ ۱۷مارچ۱۹۶۱ میں اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے مفتی محمد عبداللہ پھولپوری کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگا یا جا سکتا ہے کہ مدرسہ بیت العلوم ،سرائے میر ،اعظم گڑھ میں ۱۹۸۵میں تدریسی خدمت شروع کی اور پھر ناظم اعلیٰ اور سرپرست منتخب ہوئے،جبکہ ۱۷ نومبر۲۰۱۷ کو عمرہ کے لئے گئے مفتی محمد عبد اللہ پھولپوریؒ کا مکہ مکرمہ میں ۳۰نومبر ۲۰۱۷ کو انتقال ہوگیا۔ لکھنؤیونیورسٹی شعبہ عربی کے پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال نے کہاکہ مفتی محمد عبد اللہ پھولپوریؒ کی شخصیت کے مختلف ہیں لیکن سب سے اہم پہلویہ ہے کہ وہ اہل طریقت تھے اور ان کی عملی زندگی یہ تھی کوئی بھی برا وقت آیا تو انھوں نے خانقاہ سے باہرنکل کراسکامقابلہ کیا۔ آاکٹر اقبال نے یہ بھی کہاکہ اعظم گڑھ کے نوجوانون کو مختلف معاملوں میں نشانہ بنائے جانے پربھی مفتی محمد عبد اللہ پھولپوریؒ نے سامنے آکر مقابلہ کیا۔ سیمینارکو خطاب کرتے ہوئے مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم کے استادمفتی شاکر قاسمی نے کہاکہ یہ انتہائی اہم اور بامقصد مجلس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ کی جانب سے مفتی مرحوم پرتصنیفی اور تحقیقی کام جلد منظر عا م پرجلد آئے گا۔پر وگرام کی نظامت صحافی محمد غفران نسیم نے کی ،جبکہ میڈیا سوسائٹی کے میڈیا انچارج زید احمد فاروقی نے اظہارتشکر کیا۔اس موقع پر سینئر صحافی محمد شاہد خان ، حکیم محمد عارف اصلاحی ،عاطف شمیم، ڈاکٹر اخترعلی، محمد شعیب ایڈوکیٹ،القرآن انسٹی ٹیوٹ کے انچارج مولاناقمرعالم ندوی، صحاب سہیل، حاشرآفاق، حسان آفاق،اسرارللہ صدیقی،مولانا عماراحسن فلاحی، مولانا خبیب احسن فلاحی اور عبدالاحد کے علاوہ علماء،مدارس کے ذمہ داران، دانشور، ماہرین تعلیم اور کثیر تعدادمیں خواتین پردہ میں موجود تھیں۔