مرکز اور ریاستی سرکار کی لاپرواہی کا نتیجہ  سلسلہ وارہڑتال سے مقدمات کے فریقین مشکلات سے دوچار

سہارنپور (احمد رضا) ریاست میں گزشتہ ایک ماہ سے ہائی کورٹ بینچ کے قیام کی مانگ کولیکر لگاتاروکلاء کی ہڑتال کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھکافی بڑھ گیاہے ہڑتال کے سبب مقدمات کی سنوائی بھی نہی ہو پارہی ہے نتیجہ کے طورپر عام پیر وکار سخت پریشانی سے دوچار ہیں اتناہی نہی بلکہ مغرب میں بینچ کی ہونے والی مانگ کے خلاف مشرق کے وکلاء بھی لگاتار بیچ کے قیام کے خلاف احتجاج کرنے پر ڈٹے ہیں نتیجہ کے طور پر گزشتہ ۴۲ سالوں سے یوپی کے مغربی اضلاع کے دوکروڑ سے زائد عوام لگاتار مشکلات سے گھرے ہیں اور سات سو کلو میٹر کی دوری طے کرتے ہوئے بیس ہزار سے زائد رقم خرچ کرکے عدالت ستے رجوع کرنیکو مجبور ہیں جبکہ مشرقی یوپی کے عوام سہل طور پر اپنے مقد مات کا ازالہ کرالیتے ہیں اسی مقصد سے مغربی اضلاع کے وکلاء عوام کے مفاد میں ہڑ تال پر ہیں مگر مرکزی اور ریاستی سرکار کی اس نازک معاملہ پر مشرقی عوام کی حمایت پر مغربی عوام اور وکلاء میں غصہ لگاتار بڑھتاہی جارہاہے! وکلاء کی ہڑتال اور سرکار کی خاموشی کی وجہ سے ریاست میں عدالتی نظام مزاق سا بن کر رہ گیاہے حیرت کی بات ہے کہ لگاتار ۴۲ سالوں سے جاری جائز مانگ کی ہڑتال کے بعد بھی ابھی تک مرکزی اور صوبائی سرکار بے فکری کا مظاہرہ کر رہی ہیں جو قابل افسوس رویہ ہے؟ حالات کے پیش نظر اور مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کی نیت سے ملک کی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ کے قابل چیف جسٹس کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے کہ مقدمات کے لگاتار بڑھتے بوجھ سے متاثر عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ کم کرایاجائے اور فریقین کو جلداور آسانی کے ساتھ انصاف مہیا کرایا جائے قابل قدر ملک کی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ صرف اسی اہم مقصد کو پورا کرنے کی غرض سے پچھلے ۵ سالوں سے مسلسل پورے ملک میں ایک ساتھ لوک عدالتوں کا سنجیدگی کے ساتھ انعقاد کراکر عوام کے ساتھ اپنی ہمدردی کا شاندار مظاہرہ کر تا آرہا ہے سپریم کورٹ اور وزارت قانون مرکزی سرکار کایہ مشترکہ فیصلہ آج کے دور میں بیحد کامیاب ماناجارہاہے جس کے نتیجہ میں ابھی تک ملک بھر کی عدالتیں قریب قریب ۵۰ لاکھہ سے زائد مقدمات آپسی سمجھوتہ کی بنیاد پربہ آسانی نپٹا بھی چکی ہیں ایک ساتھ طے شدہ وقت اور نشانہ کے مطابق ملک بھر کی عدالتوں کا یہ عمل ہر حالت میں قابل تعریف ہے !ملک کی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ہمارے قابل ضلع جج جناب سشیلا سنگھ نے وکلاء اور موئکلان سے گزارش کی ہے کہ وہ اپنے اپنے مقدمات کے جلد نپٹارہ کے لئے ضلع سطح پر ہر ماہ منعقد ہونے والی لوک عدالت میں اپنے مقدمات پیش کریں اور لوک عدالت سے فیض حاصل کریں۔قابل ضلع جج جناب سشیلا نے وکلاء اور موئکلان حضرات سے صا ف طور پر کہاہے کہ لوک عدالتوں کا انقاد آپ کو جلد انصاف مہیاء کرانے کی غرض سے ہی کیا جاتا ہے قابل ضلع جج جناب سشیلاسنگھ نے عوام سے کہا ہے کہ وہ اپنے زیر التواء مقدمات کے جلد نپٹارہ کے لئے سیدھے عدالتوں سے یاپھر اپنے وکلا حضرات سے جلد رابطہ قائم کر کے اپنے مقدمات اس ماہ کے آخر میں لگنے والی لوک عدالت میں نپٹووانے کی اہم ذمہ داری نبھائیں سول جج سینئر ڈویزن جناب گورو شرمانے کہاہے کہ قانون کی جانکاری کے لئے انکی دیکھ ریکھ میں لگاتار مفت قانونی بیداری پروگرام مختلف گاؤں اور علاقوں میں منعقد کرائے جارہے ہیں قابل ضلع جج میڈم سشیلا سنگھ نے بتایاکہ قابل احترام سپریم کورٹ کی حسب منشاء ملک کے ہر ایک شخص کو قانون کی جانکاری ہونا بیحد ضروری ہے ہر ما ضلع سطح پر منعقد ہونے والی لوک عدالتیں صرف اور صرف عوام کی بہتری اور آسانی کے لئے ہی قائم کی جا رہی ہے اس لئے ہمارے عوام کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوک عدالتوں سے خد بھی فیض اٹھائیں اور دیگر لوگوں کوبھی لوک عدالتوں سے ہونے والے فائدوں سے روشناس کریں!