مالیگاؤں ۲۰۰۸بم دھماکہ معاملہ کرنل پروہیت کی عرضداشت پر کل سپریم کورٹ میں سماعت متوقع جمعیۃ علماء بطور مداخلت کار مخالفت کریگی، گلزار اعظمی*

ممبئی ۴؍ مارچ
مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم کرنل شریکانت پروہیت کی جانب سے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی عرضداشت پر کل سپریم کورٹ میں سماعت متوقع ہے اس سے قبل عدالت نے ملزم کی عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے ریاستی اور مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تھا ۔
اسی درمیان متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ کرنل پروہیت کی عرضداشت کی مخالفت کے لیئے جمعیۃ علماء کمر بستہ ہے اور اس نے ایڈوکیٹ گورو اگروال اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کی خدمات حاصل کیں ہیں جودوران سماعت عدالت میں متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالت میں ا پنے دلائل پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ کرنل پروہیت نے ممبئی ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کرکے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس پر غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والے قانون یعنی UAPAکے تحت مقدمہ نہیں بنتا ہے کیونکہ اس کے لیئے درکار مخصوص اجازت نامہ Sanction غیر قانونی ہے کیونکہ اس کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لیئے ریاستی سرکار نے جون ۲۰۰۹ میں استغاثہ کو اجازت دی تھی جبکہ اکتوبر ۲۰۱۰ء میں اجازت نامہ جاری کرنے والی کمیٹی کی تقرری کی گئی تھی، حالانکہ ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ملزم کے دلائل مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کی اجازت دی تھی جس کے بعد ملزم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔
موصولہ خبروں کے مطابق کل سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس آر کے اگروال اور جسٹس ابھئے منوہر سپرے کی عدالت میں عرضداشت پر سماعت متوقع ہے ۔
واضح رہے کہ گذشتہ دسمبر میں خصوصی مکوکا و و این آئی اے عدالت نے ایک جانب جہاں ملزمین پر سے مکوکا قانون ہٹا دیا تھا وہیں ان کے خلاف یو اے پی اے قانون و دیگر قوانین کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جس کے بعد ملزمین کرنل پروہیت اور سمیر کللرنی نے ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں انہیں منہ کی کھانی پڑی تھی نیز ملزمین نے ایک بار پھر ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرکے معاملے کو طول دینے کی کوشش کی ہے ۔
خصوصی عدالت نے ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، سدھاکر دویدی، میجر رمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، سدھاکر چتروید اور اجئے راہیکر کے خلاف مقدمہ قائم کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جس کے بعد سے ملزمین اس تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ مکوکا قانون ملی راحت کے جیسے انہیں یو اے پی اے قانون سے بھی راحت مل جائے کیونکہ یو اے پی اے قوانین کی سخت دفعات کے تحت ملزمین کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کی عدالت نے اجازت دی تھی۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر