عمر قید کی سزا کاٹ رہے قیدیوں کی پیرول پر رہائی کے لیئے جمعیۃ علماء کی کوشش جاری, پہلے مرحلہ میں دس قیدیوں کے لیئے عدلیہ اور انتظامیہ سے رجوع کیا جارہا ہے: گلزار اعظمی 

ممبئی۳؍مارچ
گذشتہ۲۴؍ سالوں سے جیل کی سعوبتیں جھیلنے والے دس مسلم قیدیوں کی پیرول پر رہائی کے لیئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے اقدامات شروع کردیئے ہیں نیز اس تعلق سے جیل انتظامیہ سے رجوع ہونے سے لیکر سپریم کورٹ تک عرضدداشت داخل کی جاچکی ہیں جس پر جلد سماعت متوقع ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدا دکمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزار اعظمی نے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جئے پور سینٹرل جیل اور ناشک سینٹرل جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ملزمین ابرے رحمت انصاری، اعجاز اکبر عبدالمجید، محمد آفاق خان محمد مقصود، اشفاق خان عبدالعزیز، ڈاکٹر حبیب احمد خان محمد افضل، فضل الرحمن عبدالرحمن، جمال علوی متین الدین، محمد امین محمد عثمان، محمد شمش الدین محمد رونق الدین اورڈاکٹر جلیس انصاری شامل ہیں کی جیل سے رہائی کے لیئے جیل حکام سمیت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ عمر قید کی سزاء کاٹ رہے مسلم قیدیوں نے ابتک جیل میں ۲۴؍ سال سے زائد کا عرصہ گذار چکے ہیں اور ان کی بڑھتی عمر، خراب صحت، فیملی مسائل کی بنیاد پر ان کی جیل سے رہائی کے لیئے حکام سے خط و کتابت کی گئی ہے جس کے جواب کا انہیں انتظار ہے ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ہفتہ میں ایک بار دہلی سے ایڈوکیٹ مجاہد احمد اور ایڈوکیٹ عارف علی جئے پور جاکر قیدیوں سے جیل میں ملاقات کرتے ہیں اور ان کی پیرول پر رہائی کے لیئے کوشش کررہے ہیں ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ماضی میں متعدد قیدیوں کی پیرول پر رہائی کے لیئے کامیاب کوشش کی گئی تھی لیکن جیل حکام کی جانب سے ان کے خلاف منفی رپورٹ پیش کیئے جانے کے بعد سے پیرول پر رہائی پر فیصلہ کرنے والی کمیٹی نے قیدیوں کی پیرول پر رہائی پر روک لگا دی تھی جس کے بعد پہلے جئے پور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا جہاں انہیں کامیابی بھی ملی تھی ۔
حال ہی میں جمعیۃ علماء کی جانب سے داخل کی گئی عرضداشت پر سپریم کور ٹ نے عمر قید کی سزا کاٹ رہے اشفاق خان عبدالعزیز اور فضل الرحمن کو پیرول پررہا کیئے جانے کے ا حکامات جاری کیئے تھے لیکن جیل حکام نے ٹال مٹول کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں پیرول پر رہا نہیں کیا جس کی شکایت سپریم کورٹ سے کی گئی ہے جس کے بعد سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے اس تعلق سے جیل حکام اور راجستھان حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء عمرکے آخری پڑاؤ پر پہنچ چکے اور چلنے پھرنے سے معذور قیدیوں کی انسانی بنیادیوں پرجیل سے مستقل رہائی کے لیئے کوشش کررہی ہے اور اس تعلق سے جلد ہی ریاستی حکومت سے خط وکتابت کی جائے گی نیز حسب ضرورت ہائی اور کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ انڈین جیل قانون 1894 کے مطابق ان قیدیوں کو سال میں 30 سے لیکر 90 دنوں تک پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے جو جیل میں سزائیں کاٹ رہے ہیں اور وہ بیماری سے جوجھ رہے ہوں یا ان کی فیملی میں کوئی شدیدبیمار ہو ، شادی بیاہ میں شرکت کی خاطر، زچکی کے موقع پر، حادثہ میں اگر کسی فیملی ممبر کی موت ہوجائے تو جیل میں مقید شخص کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے ۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر