مسائل کا سہل ازالہ نہی ہوپاناکمشنری کے عوام کیلئے باعث الجھن! 

سہارنپور (احمد رضا) موجودہ وقت میں بھاجپائی سرکار کے چنے ہوئے نمائندوں اور انکے ذریعہ تعینات کئے گئے افسران سیعوام کو کسی صورت راحت نہی مل رہی ہے عوام کو کسی بھی محکمہ کے سینئر اسٹاف اور ملازمین سے ان دنوں اپنے اوپر لگائے گئے حد سے زائد ہاؤس ٹیکس، ٹریڈ ٹیکس، بجلی بل اور واٹر ٹیکس وغیرہ کے اہم مسائل کو حل کرانے میں کافی مشکلات کا سامناہے ہر دفتر میں کام کرانے کیلئے رشوت لینا سرکاری ملازمین کی عادت میں شمارہے! گزشتہچھبیس سالوں سے قریب قریب اس ماہ فروری تک ہمارے اہم ضلع میں دو درجن ضلع مجسٹریٹ اور ایک درجن کے قریب زونل کمشنر ہمارے سہارنپور ہیڈ کواٹر پر تعینات ہو چکے ہیں جتنے بھی چھوٹے یا بڑے افسر یہاں تعینات ہوئے ان سبھی نے ترقی اور سدھار کے لمبے چوڑے وعدے بھولے بھولے عوام سے کئے مگر آج چھبیس سال بعد بھی یہ ضلع پینے کے صاف پانی ، بجلی سپلائی، طبی امدادی سینٹر، معیاری پرائمری تعلیمی اداروں اور صفائی نہی کئے جانیکی نہایت لچر اور خستہ حال بد نظمی کی سخت ترین مشکلات سے دوچار ہے ! پچھلے چھبیس سال کی مدت میں کمشنری میں چند ہی افسر ایسے آئیکہ جنہونے عوام کے درد اور مشکلات کے بوجھ کو سمجھا مگر جب سے علاقائی سیاسی جماعتوں کی سرکاروں کا دور آیا تب سے افسران نے نہ جانے کیوں عوام کی مدد کرنے سے خد کو بچائے رکھنا بہتر مانا ہواہے ،عوام سے افسران کی دوری بنائے رکھنیکی وجہ کیاہوئی یہ وہ افسران ہی بہتر سمجھتے اور جانتے ہیں ہم تو صرف یہ کہ سکتے ہیں کہ گزشتہ چھبیس سالوں سے افسران اور سیاسی نمائندوں کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں عوام خون کے آنسو پینے کو مجبور ہے ؟صوبائی حکومت سے بار بار شکایت کی جا چکی ہے کہ سہارنپور کا عوام جسکی تعداد ۶۰ فیصد سے بھی زیادہ ہے وہ سرکاری مراعات سے آج بھی محروم ہے اور اس ضلع کاآدھے سے زیادہ علاقہ گندگی آلودہ پی رہا ہے اور حکام پینے کے صاف وشفاف پانی کا بندو بست کرانے میں ابھی تک ناکام ہیں جہاں عام آدمی زوز مرہ کے سرکاری عتابوں سے تنگ ہے وہی طبی سہولیات کے فقدان اور آلودہ پانی پینے سے گزشتہ پانچ سالوں سے سہارنپور میں مختلف قسم کے بخار جانلیوا کینسر نے شدت کی شکل اختیار کر رکھی ہے جہاں تک سرکاری دعوے ہیں تو آپ غور کریں کہ ضلع میں جھوٹے بڑے درجن بھر سرکاری اسپتال موجود ہیں اور ان اسپتالوں کو ہر سال کروڑوں کی گرانٹ موصول ہوتی ہے مگر اس کے بعد بھی ان اسپتالوں میں بخار کا علاج ملنا تو دور کی بات ضلع کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی والے مریض بھی بھرتی نہی ہوپاتے معلوم نہی سرکار جن سہولیات کا ڈنکا بجاتی ہے وہ سہولیات ایمرجنسی مریضوں کے لئے اسپتال میں دستیاب کیوں نہی ہوتی ہیں!یہاں جانلیو، مہلک اور خطرناک بخار کے مریضوں کو بھرتی کرنے کی بھی جگہ نہیں ہے ہاں ضلع کے کچھ علاقوں میں کہ جہاں اندنوں کینسر کے مریضوں کی لگاتار بڑھوتری دیکھنے کو مل رہ ہی ے دیکھنے میں آ رہا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ایک بیڈ پر تین اور چار مریض لیٹ کر اپنا علاج کرا تے ہیں اور اگلے تین یا چار گھنٹوں میں ہائر سینٹر کو ریفر کردئے جاتے ہیں ایمرجنسی ہال میں قریب درجن بھر بیڈ بہت ہی بری حالت میں اور جگہ جگہ سے یہ بیڈ بھی ٹوٹے ہوئے ہیں ایمرجنسی کے موقع پر ان سرکاری اسپتال کے برامدوں میں بھی مہلک اور تیز بخار سے تپتے ہوئے مریضوں کا علاج کیا جاتا کینسر والوں کی تو یہاں کے معالج شکل دیکھ کر ہی انکو ہائر سینٹر بھگادیتے ہیں ہے!
قابل شرم بات ہے کہ کسی بھی افسر نے ضلع کے لاکھوں عوام کی جان ، مال اور آبروکی حفاظت کے لئے، نو عمربچوں کے کامیاب اور بہتر مستقبل کے لئے ملاوٹی اشیاء کی بہتات سے عوام کی زندگی کو محفوظ رکھنے کی غرض سے اورضلع کے عوام کو درپیش دیگر الجھنوں، پریشانیوں اور روزانہ موصول ہونے والی انکی شکایات کا ازالہ فوری طور سے کرنے کی کبھی زحمت ہی گوارہ نہی کی ، شہر کی سڑکوں کی دیکھ ریکھ، اسٹریٹ لائٹ، ٹریفک بندوبست ، معقول طبی بندوبست اور صاف پینے کے پانی کا معقول نظم یہاں آج تک نہیں کیا گیاہے ہماری ان شکایات کی اگر آپ کسی ایماندار جانچ ایجنسی سے جانچ کرائیں تو معلوم ہوگا کہ تمام حکام اور سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ بااثر سوسائٹی کے لوگوں کے ارد گرد پاس تمام سہولیات جیسے تعلیمی ادارے ،بجلی کی عمدہ سپلائی، روزگار کتے بہتر موقع،سرکاری مراعات کی کنجی، طبی سہولیات اور پانی کو شٖفاف پیوری فائی کرنے کی مشینیں لگی ہوئی ہیں انہیں سے ہی یہ لوگ اپنے گھروں میں اور باہر پانی کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ضلع کی آدھی سے زیادہ آبادی، ٹوٹی سڑکوں، گڈوں سے سجی ہوئی اندھیری سڑکوں وگلیوں،گندگی اور چوڑے سے لبریز علاقوں میں رہنے اور آلودہ پانی پینے کو مجبور ہے ! افسران تو کام کرنا اور کرانا چاہتے ہیں مگر سیاسی رہبروں کی آپسی رسہ کشی کے سبب کام ٹھیک طرح سے مکمل نہی ہو پاتے ہیں انتظامیہ چاہتے ہوئے بھی ترقیاتی کام بہتر طور سے انجام نہی دیپاتی ہے جسکا خسارہ عوام کو برداشت کرنا ہوتاہے اسکے علاوہ رشوت خوری پر کنٹرول آج کے دور میں سینئر افسران کیلئے بیحد مشکل ہوگیاہے!افسوس کی بات تو یہ ہے کہ تمام حالات سے با خبر صوبائی حکومت ، صوبائی حکومت کے نمائندے اور آفیسران کمشنری کے زہر آلودہ پانی اور انجانے بخار کے جان لیوا حملوں سے بے خبر بنے ہوئے ہیں عام جنتا کی صحت اور زندگی کی ان کو تھوڑی بھی پرواہ نہیں پچھلے چھبیس سالوں سے ہم لگاتار لکھتے آ رہے ہیں کہ مند رجہ بالا چاروں تحصیلوں کا پانی آلودہ ہو چکا ہے پینے لائق نہیں رہا ہے اور سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان علاقوں کے پینے کے صاف وشفاف پا نیکا بندو بست کرے آلودہ پانی پینے سے سہارنپور میں کینسر اور مختلف قسم کے بخار نے خطرناک شکل اختیار کر رکھی ہے پانی کے آلودہ ہونے کے سبب ضلع میں مہلک امراض کی بہتات ہے، اسپتالوں اور پرائیویٹ معالجوں کی ڈسپنسریز میں بھیڑ ہے مگر بہتر اور کار آمد علاج نہی ہے اتنا سب کچھ جانتے ہوئے بھی افسران خاموش تماشائی بنے ہیں؟