کل عالم کیلئے قرآ ن وحدیث قیاس واجماع سے مستنبط شریعت ہی کافی!

سہارنپور (احمد رضا)جامعہ رحمانیہ للبنات نانکہ گندیوڑہ میں تحفظ قرآن و شریعت کے عنوان پر ایک مجلس کا انعقاد ہوا، جس میں جامعہ کی طالبات ومعلمات کے علاوہ علاقہ کی خواتین نے شرکت کی ، صدارت جامعہ کی رئیسہ عشرت جہاں نے کی، نظامت کے فرائض شارقہ انجم نے انجام دئیے، صائمہ اکرام کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا، مجلس کو خطاب کرتے ہوئے جامعہ کے مہتمم واستاذ حدیث مولانا مفتی عطاء الرحمن جمیل قاسمی نے کہا کہ سرکار کی بل لانے میں جو بھی نیت رہی ہومگر اس بل میں سوائے مسلم خواتین کے نقصان کے کچھ نہیں ہے، جس خاتون کو طلاق دی جائے گی، اولاً تو یہی مشکل کام ہے کہ وہ عدالت جاکر اس کو کیسے ثابت کرے گی، سوائے تھانہ کچہری کے چکر لگانے کے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، اگر ثابت بھی کردیتی ہے، تو جس شوہر سے اسے کچھ امید تھی کہ آپسی صلح سے اور علماء کوشش سے کچھ مسئلہ کا حصل نکل سکتا تھا، اس پر بھی قدغن لگ جاتی ہے ، تین سال کیلئے مسئلہ التواء میں پڑجاتا ہے کہ اس درمیان عورت دوسرا نکاح نہیں کرسکتی ہے، اس کے نان ونفقہ کا ایک الگ مسئلہ ہے، اس کے بچوں کا ٹھکانہ مشکل ہوجاتا ہے، تو کیا ہے ؟ اس سے سرکار خواتین کو کونسا فائدہ پہنچانا چاہتی ہے، اور پھر جب عدالت تین طلاق ہی کو سرے سے خارج کرتی ہے اس پر بل کی کیا ضرورت؟ اگر سرکار مسلم خواتین کے تئیں فکر مند ہے، تو سرکار کو چاہئے کہ مسلم بچیوں کی تعلیم کو بالکل مفت کیا جائے ، اور ملک کی تمام خواتین خواہ وہ کسی بھی مذہب کی ماننے والی ہوں ان کے تحفظ کیلئے سخت ترین قانون بنایا جائے، جامعہ کی رئیسہ اور تحریک خواتین اسلام کی صدر عشرت جہاں نے کہا کہ ہمیں اس طرح کے قوانین وضوابط کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ قانون تو ہماری مشکلات بڑھا دے گا، ہم اپنے علماء کو ، قرآن وحدیث کو اپنے لئے کافی سمجھتے ہیں، جو مسائل یہ بتائیں گے ان میں ہمارے لئے عافیت ہے، جامعہ کی ناظمہ تحریک خواتین اسلام کی سکریٹری عظمیٰ انصاری (ایم اے ) نے کہا کہ سرکار کو طلاق پر بل لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، اس کیلئے ایوانِ بالا کا وقت خراب نہ کریں تو ہی بہتر ہے، پورے ملک کے حالات سرکار کی نظر میں ہیں ، روز مرہ کتنے جنسی استحصال کے واقعات ملک میں پیش آتے ہیں ، کتنے چھیڑ چھاڑ کے واقعات رونما ہوتے ہیں؟ مظفر نگر، کشمیر، دہلی ، گجرات جیسے سانحے کس سے چھپے ہیں؟ جب کوئی جنسی استحصال کا واقعہ پیش آتا ہے، سالہا سال اس کو عدالت میں لگ جاتے ہیں ، زد میں آنے والی بیٹی اور اس کے اہل خانہ کے آنسو سوکھ کر خون کے آنسو نکل پڑتے ہیں ، تب جاکر سزا کا وقت آتا ہے، سرکار کو چاہئے کہ اس کیلئے مستحکم قانون بنائے ، ایک ماہ کے اندر ملزم کو سخت سے سخت ترین سزا ہو، تاکہ آئندہ ایسا کرنے کی سوچنے والے کی بھی روح کانپ اٹھے۔
اخیر میں تمام شرکائے خواتین نے ہاتھ اٹھا کر کہا کہ ہمیں ایسے قوانین کی ضرورت نہیں ہے، ہم قرآن وحدیث ، قیاس واجماع سے مستنبط مسائل سے خوش ہیں ، ہم اس مسئلہ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہیں ، مجلس میں اس موقع پر مسماۃ عشرت جہاں، عظمیٰ انصاری ایم اے، شمائلہ رحمانی، مشیدہ سمیاتی، سمیہ رحمانی، شارقہ فاطمی، زینت فاطمی، سلطانہ فاطمی، شگفتہ انصاری، عشرت ملک، صبیحہ نازیہ، امرین، نرگس جہاں ، ماجدہ، فرمانہ بجنوری، صاحبہ، فرحین، اسماء ، صادقہ، صائمہ، عفیفہ انصاری، جویریہ نور وغیررہ نے شرکت کی ۔ مفتی عطاء الرحمن جمیل قاسمی کی دعاء پر پروگرام کا اختتام ہوا !